Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الفجر يوم الجمعة {الم * تنزيل} و {هل اتى على الانسان}
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ اسحاق بن سلیمان کہتے ہیں کہ عمرو بن ابی قیس نے ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی روایت کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا اسحاق بن سليمان، انبانا عمرو بن ابي قيس، عن ابي فروة، عن ابي الاحوص، عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في صلاة الفجر يوم الجمعة {الم * تنزيل} و {هل اتى على الانسان} . قال اسحاق هكذا حدثنا عمرو عن عبد الله لا اشك فيه
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں۱؎، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے، اللہ آپ پہ رحم کرے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا، اور قضائے حاجت ( پیشاب پاخانہ ) سے فارغ ہو کر واپس آتا، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثنا ربيعة بن يزيد، عن قزعة، قال سالت ابا سعيد الخدري عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ليس لك في ذلك خير . قلت بين رحمك الله . قال كانت الصلاة تقام لرسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر فيخرج احدنا الى البقيع فيقضي حاجته ويجيء فيتوضا فيجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الركعة الاولى من الظهر
ابومعمر کہتے ہیں کہ میں نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک ( کے بال ) کے ہلنے سے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، قال قلت لخباب باى شىء كنتم تعرفون قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر قال باضطراب لحيته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں یعنی عمرو بن سلمہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے، اور آخری دونوں ہلکی کرتے، اور عصر کی نماز بھی ہلکی کرتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا الضحاك بن عثمان، حدثني بكير بن عبد الله بن الاشج، عن سليمان بن يسار، عن ابي هريرة، قال ما رايت احدا اشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان . قال وكان يطيل الاوليين من الظهر ويخفف الاخريين ويخفف العصر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا؎۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا المسعودي، حدثنا زيد العمي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال اجتمع ثلاثون بدريا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا تعالوا حتى نقيس قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما لم يجهر فيه من الصلاة . فما اختلف منهم رجلان فقاسوا قراءته في الركعة الاولى من الظهر بقدر ثلاثين اية وفي الركعة الاخرى قدر النصف من ذلك وقاسوا ذلك في صلاة العصر على قدر النصف من الركعتين الاخريين من الظهر
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ( سری ) قراءت فرماتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ا؎۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بنا في الركعتين الاوليين من صلاة الظهر ويسمعنا الاية احيانا
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم سورۃ «لقمان» اور سورۃ «ذاريات» کی کئی آیتوں کے بعد کوئی آیت سن لیا کرتے تھے۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا سلم بن قتيبة، عن هاشم بن البريد، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بنا الظهر فنسمع منه الاية بعد الايات من سورة لقمان والذاريات
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں (ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام لبابہ ہے) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں «والمرسلات عرفا» پڑھتے سنا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن امه، - قال ابو بكر بن ابي شيبة هي لبابة - انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالمرسلات عرفا
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے«فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ ( اگر ایسا ہے ) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، ( سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸ ) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالطور . قال جبير في غير هذا الحديث فلما سمعته يقرا {ام خلقوا من غير شىء ام هم الخالقون} الى قوله {فليات مستمعهم بسلطان مبين } كاد قلبي يطير
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن بديل، حدثنا حفص بن غياث، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب {قل يا ايها الكافرون} و {قل هو الله احد}
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والتين والزيتون» پڑھتے ہوئے سنا۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، ح وحدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، جميعا عن يحيى بن سعيد، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، انه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء الاخرة قال فسمعته يقرا بالتين والزيتون
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے، اس میں ہے کہ براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، ح وحدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا ابن ابي زايدة، جميعا عن مسعر، عن عدي بن ثابت، عن البراء، مثله . قال فما سمعت انسانا، احسن صوتا او قراءة منه
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، ان معاذ بن جبل، صلى باصحابه العشاء فطول عليهم فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اقرا بالشمس وضحاها وسبح اسم ربك الاعلى والليل اذا يغشى واقرا بسم ربك
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وسهل بن ابي سهل، واسحاق بن اسماعيل، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن محمود بن الربيع، عن عبادة بن الصامت، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة لمن لم يقرا فيها بفاتحة الكتاب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص و ناتمام ہے ، ابوالسائب کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا پھر بھی سورۃ فاتحہ پڑھوں ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابن جريج، عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، ان ابا السايب، اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القران فهي خداج غير تمام " . فقلت يا ابا هريرة فاني اكون احيانا وراء الامام . فغمز ذراعي وقال يا فارسي اقرا بها في نفسك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا محمد بن الفضيل، ح وحدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، جميعا عن ابي سفيان السعدي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا صلاة لمن لم يقرا في كل ركعة ب {الحمد لله} وسورة في فريضة او غيرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے ۱؎
حدثنا الفضل بن يعقوب الجزري، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كل صلاة لا يقرا فيها بام الكتاب فهي خداج
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے، ناقص ۔
حدثنا الوليد بن عمرو بن السكين، حدثنا يوسف بن يعقوب السلعي، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل صلاة لا يقرا فيها بفاتحة الكتاب فهي خداج فهي خداج
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا: جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا: اب تو قراءت واجب ہو گئی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا اسحاق بن سليمان، حدثنا معاوية بن يحيى، عن يونس بن ميسرة، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي الدرداء، قال ساله رجل فقال اقرا والامام يقرا قال سال رجل النبي صلى الله عليه وسلم افي كل صلاة قراءة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . فقال رجل من القوم وجب هذا