Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی، ابواسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے «ألله أكبر» کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا عباس بن سهل الساعدي، قال اجتمع ابو حميد وابو اسيد الساعدي وسهل بن سعد ومحمد بن مسلمة فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو حميد انا اعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فكبر ورفع يديه، ثم رفع حين كبر للركوع، ثم قام فرفع يديه، واستوى حتى رجع كل عظم الى موضعه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب دو سجدوں ( یعنی رکعتوں کے بعد ) اٹھتے تو اسی طرح کرتے۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا سليمان بن داود ابو ايوب الهاشمي، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام الى الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حتى يكونا حذو منكبيه واذا اراد ان يركع فعل مثل ذلك، واذا رفع راسه من الركوع فعل مثل ذلك، واذا قام من السجدتين فعل مثل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔
حدثنا ايوب بن محمد الهاشمي، حدثنا عمر بن رياح، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه عند كل تكبيرة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه اذا دخل في الصلاة، واذا ركع
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، ( چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ( یعنی رفع یدین کیا ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ۱؎۔
حدثنا بشر بن معاذ الضرير، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال قلت لانظرن الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي، فقام فاستقبل القبلة فرفع يديه حتى حاذتا اذنيه، فلما ركع رفعهما مثل ذلك، فلما رفع راسه من الركوع رفعهما مثل ذلك
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے جاتے، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان ( راوی حدیث ) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو حذيفة، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن ابي الزبير، ان جابر بن عبد الله، كان اذا افتتح الصلاة رفع يديه واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع فعل مثل ذلك ويقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل مثل ذلك . ورفع ابراهيم بن طهمان يديه الى اذنيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن حسين المعلم، عن بديل، عن ابي الجوزاء، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ركع لم يشخص راسه ولم يصوبه، ولكن بين ذلك
ابومسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن عمارة، عن ابي معمر، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجزي صلاة لا يقيم الرجل فيها صلبه في الركوع والسجود
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے، وہ کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز نہیں ہو گی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ملازم بن عمرو، عن عبد الله بن بدر، اخبرني عبد الرحمن بن علي بن شيبان، عن ابيه، . علي بن شيبان - وكان من الوفد - قال خرجنا حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعناه وصلينا خلفه فلمح بموخر عينه رجلا لا يقيم صلاته - يعني صلبه - في الركوع والسجود فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال " يا معشر المسلمين لا صلاة لمن لا يقيم صلبه في الركوع والسجود
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن محمد بن يوسف الفريابي، حدثنا عبد الله بن عثمان بن عطاء، حدثنا طلحة بن زيد، عن راشد، قال سمعت وابصة بن معبد، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فكان اذا ركع سوى ظهره حتى لو صب عليه الماء لاستقر
معصب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے قریب ( نماز پڑھتے ہوئے ) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا کہ ( ہاتھ ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن الزبير بن عدي، عن مصعب بن سعد، قال ركعت الى جنب ابي فطبقت فضرب يدي وقال قد كنا نفعل هذا، ثم امرنا ان نرفع الى الركب
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو ( پہلوؤں سے ) دور رکھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن حارثة بن ابي الرجال، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركع فيضع يديه على ركبتيه ويجافي بعضديه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہہ لیتے تو «ربنا ولك الحمد» کہتے۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني ويعقوب بن حميد بن كاسب قالا حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قال " سمع الله لمن حمده " . قال " ربنا ولك الحمد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن انس بن مالك، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام سمع الله لمن حمده . فقولوا ربنا ولك الحمد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن سعيد بن المسيب، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا قال الامام سمع الله لمن حمده . فقولوا اللهم ربنا ولك الحمد
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد»، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن عبيد بن الحسن، عن ابن ابي اوفى، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا رفع راسه من الركوع قال " سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى السدي، حدثنا شريك، عن ابي عمر، قال سمعت ابا جحيفة، يقول ذكرت الجدود عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة فقال رجل جد فلان في الخيل . وقال اخر جد فلان في الابل . وقال اخر جد فلان في الغنم . وقال اخر جد فلان في الرقيق . فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته ورفع راسه من اخر الركعة قال " اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شيت من شىء بعد اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد " . وطول رسول الله صلى الله عليه وسلم صوته بالجد ليعلموا انه ليس كما يقولون
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن عبد الله بن الاصم، عن عمه، يزيد بن الاصم عن ميمونة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سجد جافى يديه فلو ان بهمة ارادت ان تمر بين يديه لمرت
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں ( کہ کون لوگ ہیں ) ، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۲؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ «عبیداللہ بن عبداللہ»کہتے ہیں، اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ «عبداللہ بن عبیداللہ» کہتے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن داود بن قيس، عن عبد الله بن عبيد الله بن اقرم الخزاعي، عن ابيه، قال كنت مع ابي بالقاع من نمرة فمر بنا ركب فاناخوا بناحية الطريق فقال لي ابي كن في بهمك حتى اتي هولاء القوم فاسايلهم . قال فخرج وجيت - يعني دنوت - فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فحضرت الصلاة فصليت معهم فكنت انظر الى عفرتى ابطى رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما سجد. قال ابن ماجه الناس يقولون عبيد الله بن عبد الله وقال ابو بكر بن ابي شيبة يقول الناس عبد الله بن عبيد الله. حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، وصفوان بن عيسى، وابو داود قالوا حدثنا داود بن قيس، عن عبيد الله بن عبد الله بن اقرم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شريك، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه واذا قام من السجود رفع يديه قبل ركبتيه