Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابو یعلیٰ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے۔
حدثنا هشام بن عبد الملك الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، حدثني ابن ابي مريم، عن ضمرة بن حبيب، عن ابي يعلى، شداد بن اوس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الكيس من دان نفسه وعمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسه هواها ثم تمنى على الله
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا ۔
حدثنا عبد الله بن الحكم بن ابي زياد، حدثنا سيار، حدثنا جعفر، عن ثابت، عن انس، : ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل على شاب وهو في الموت فقال : " كيف تجدك " . قال : ارجو الله يا رسول الله واخاف ذنوبي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا يجتمعان في قلب عبد في مثل هذا الموطن الا اعطاه الله ما يرجو وامنه مما يخاف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرنے والے کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتے ہیں: نکل اے پاک جان! جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، نکل، تو لائق تعریف ہے، اور خوش ہو جا، اللہ کی رحمت و ریحان ( خوشبو ) سے اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناراض نہیں ہے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل پڑتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، اس کے لیے آسمان کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: خوش آمدید! پاک جان جو کہ ایک پاک جسم میں تھی، تو داخل ہو جا، تو نیک ہے اور خوش ہو جا اللہ کی رحمت و ریحان ( خوشبو ) سے، اور ایسے رب سے جو تجھ سے ناخوش نہیں، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ روح اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جس کے اوپر اللہ عزوجل ہے، اور جب کوئی برا شخص ہوتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: نکل اے ناپاک نفس، جو ایک ناپاک بدن میں تھی، نکل تو بری حالت میں ہے، خوش ہو جا گرم پانی اور پیپ سے، اور اس جیسی دوسری چیزوں سے، اس سے برابر یہی کہا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نکل جاتی ہے، پھر اس کو آسمان کی طرف چڑھا کر لے جایا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ جواب ملتا ہے: یہ فلاں ہے، کہا جاتا ہے: ناپاک روح کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، جو کہ ناپاک بدن میں تھی، لوٹ جا اپنی بری حالت میں، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اس کو آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے پھر وہ قبر میں آ جاتی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن ابن ابي ذيب، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " الميت تحضره الملايكة فاذا كان الرجل صالحا قالوا : اخرجي ايتها النفس الطيبة كانت في الجسد الطيب اخرجي حميدة وابشري بروح وريحان ورب غير غضبان فلا يزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها الى السماء فيفتح لها فيقال : من هذا فيقولون : فلان . فيقال : مرحبا بالنفس الطيبة، كانت في الجسد الطيب ادخلي حميدة، وابشري بروح وريحان ورب غير غضبان . فلا يزال يقال لها ذلك حتى ينتهى بها الى السماء التي فيها الله عز وجل واذا كان الرجل السوء قال اخرجي ايتها النفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث اخرجي ذميمة وابشري بحميم وغساق . واخر من شكله ازواج . فلا يزال يقال لها ذلك حتى تخرج ثم يعرج بها الى السماء فلا يفتح لها فيقال : من هذا فيقال : فلان . فيقال : لا مرحبا بالنفس الخبيثة كانت في الجسد الخبيث ارجعي ذميمة فانها لا تفتح لك ابواب السماء فيرسل بها من السماء ثم تصير الى القبر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی موت کسی زمین میں لکھی ہوتی ہے تو ضرورت اس کو وہاں لے جاتی ہے، جب وہ اپنے آخری نقش قدم کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کر لیتا ہے، زمین قیامت کے دن کہے گی: اے رب! یہ تیری امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی ۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، وعمر بن شبة بن عبيدة، قالا حدثنا عمر بن علي، اخبرني اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " اذا كان اجل احدكم بارض اوثبته اليها الحاجة فاذا بلغ اقصى اثره قبضه الله سبحانه فتقول الارض يوم القيامة : رب هذا ما استودعتني
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات ناپسند کرتا ہے ، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ سے ملنے کو برا جاننا یہ ہے کہ موت کو برا جانے، اور ہم میں سے ہر شخص موت کو برا جانتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ موت کے وقت کا ذکر ہے، جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے، اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے نہیں ملنا چاہتا ۔
حدثنا يحيى بن خلف ابو سلمة، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . فقيل له : يا رسول الله كراهية لقاء الله في كراهية لقاء الموت فكلنا يكره الموت قال : " لا انما ذاك عند موته اذا بشر برحمة الله ومغفرته احب لقاء الله فاحب الله لقاءه واذا بشر بعذاب الله كره لقاء الله وكره الله لقاءه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی مصیبت کی وجہ سے جو اس کو پیش آئے موت کی تمنا نہ کرے، اگر موت کی خواہش کی ضرورت پڑ ہی جائے تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک جینا میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دے اگر مرنا میرے لیے بہتر ہو ۔
حدثنا عمران بن موسى الليثي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا يتمنى احدكم الموت لضر نزل به فان كان لا بد متمنيا الموت فليقل : اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے جسم کی ہر چیز سڑ گل جاتی ہے، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ ریڑھ کی ہڈی ہے، اور اسی سے قیامت کے دن انسان کی پیدائش ہو گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ليس شىء من الانسان الا يبلى الا عظما واحدا وهو عجب الذنب ومنه يركب الخلق يوم القيامة
ہانی بربری مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو رونے لگتے یہاں تک کہ ان کی ڈاڑھی تر ہو جاتی، ان سے پوچھا گیا کہ آپ جنت اور جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہ اس منزل پر نجات پا گیا تو اس کے بعد کی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر یہاں اس نے نجات نہ پائی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے سخت ہیں ، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے کبھی قبر سے زیادہ ہولناک کوئی چیز نہیں دیکھی ۔
حدثنا محمد بن اسحاق، حدثني يحيى بن معين، حدثنا هشام بن يوسف، عن عبد الله بن بحير، عن هاني، - مولى عثمان - قال : كان عثمان بن عفان اذا وقف على قبر يبكي حتى يبل لحيته فقيل له : تذكر الجنة والنار ولا تبكي وتبكي من هذا قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " ان القبر اول منازل الاخرة فان نجا منه فما بعده ايسر منه وان لم ينج منه، فما بعده اشد منه " . قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما رايت منظرا قط الا والقبر افظع منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرنے والا قبر میں جاتا ہے، نیک آدمی تو اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے، نہ کوئی خوف ہوتا ہے نہ دل پریشان ہوتا ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں اسلام پر تھا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ وہ کہتا ہے: یہ محمد اللہ کے رسول ہیں، یہ ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بھلا کون دیکھ سکتا ہے؟ پھر اس کے لیے ایک کھڑکی جہنم کی جانب کھولی جاتی ہے، وہ اس کی شدت اشتعال کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے: دیکھ، اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس سے بچا لیا ہے، پھر ایک دوسرا دریچہ جنت کی طرف کھولا جاتا ہے، وہ اس کی تازگی اور لطافت کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یقین پر تھا، یقین پر ہی مرا، اور یقین پر ہی اٹھے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اور برا آدمی اپنی قبر میں پریشان اور گھبرایا ہوا اٹھ بیٹھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ تو کس دین پر تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ شخص کون ہیں؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہا، اس کے لیے جنت کا ایک دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی لطافت و تازگی کو دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ دیکھ! اس سے اللہ تعالیٰ نے تجھے محروم کیا، پھر جہنم کا دریچہ کھولا جاتا ہے، وہ اس کی شدت اور ہولناکی کو دیکھتا ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ یہی تیرا ٹھکانا ہے، تو شک پر تھا، شک پر ہی مرا اور اسی پر تو اٹھایا جائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن ابن ابي ذيب، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " ان الميت يصير الى القبر فيجلس الرجل الصالح في قبره غير فزع ولا مشعوف ثم يقال له : فيم كنت فيقول : كنت في الاسلام . فيقال له : ما هذا الرجل فيقول : محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءنا بالبينات من عند الله فصدقناه . فيقال له : هل رايت الله فيقول : ما ينبغي لاحد ان يرى الله . فيفرج له فرجة قبل النار فينظر اليها يحطم بعضها بعضا فيقال له : انظر الى ما وقاك الله . ثم يفرج له فرجة قبل الجنة فينظر الى زهرتها وما فيها فيقال له : هذا مقعدك . ويقال له : على اليقين كنت وعليه مت وعليه تبعث ان شاء الله . ويجلس الرجل السوء في قبره فزعا مشعوفا فيقال له : فيم كنت فيقول : لا ادري . فيقال له : ما هذا الرجل فيقول : سمعت الناس يقولون قولا فقلته . فيفرج له قبل الجنة فينظر الى زهرتها وما فيها فيقال له : انظر الى ما صرف الله عنك . ثم يفرج له فرجة قبل النار فينظر اليها يحطم بعضها بعضا فيقال له : هذا مقعدك على الشك كنت وعليه مت وعليه تبعث ان شاء الله تعالى
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، اس ( مردے ) سے پوچھا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا کہ میرا رب اللہ ہے، اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہی مراد ہے اس آیت: «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ایمان والوں کو مضبوط قول پر ثابت رکھتا ہے دنیوی زندگی میں بھی آخرت میں بھی ( سورة ابراهيم: 72 ) سے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " {يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت } قال : نزلت في عذاب القبر يقال له : من ربك فيقول : ربي الله ونبيي محمد فذلك قوله {يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الاخرة}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے، تو اس کے سامنے اس کا ٹھکانا صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر اہل جنت میں سے تھا تو اہل جنت کا ٹھکانا، اور اگر جہنمی تھا تو جہنمیوں کا ٹھکانا، اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " اذا مات احدكم عرض على مقعده بالغداة والعشي ان كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة، وان كان من اهل النار فمن اهل النار يقال هذا مقعدك حتى تبعث يوم القيامة
کعب رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی روح ایک پرندے کی شکل میں جنت کے درخت میں لٹکتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اپنے اصلی بدن میں لوٹ جائے گی ۔
حدثنا سويد بن سعيد، انبانا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب الانصاري، انه اخبره ان اباه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " انما نسمة المومن طاير يعلق في شجر الجنة حتى يرجع الى جسده يوم يبعث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مردہ قبر میں جاتا ہے تو اسے ایسا لگتا ہے کہ سورج ڈوبنے کا وقت قریب ہے، وہ بیٹھتا ہے اپنی دونوں آنکھوں کو ملتے ہوئے، اور کہتا ہے: مجھے نماز پڑھنے کے لیے چھوڑ دو ۔
حدثنا اسماعيل بن حفص الابلي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " اذا ادخل الميت القبر مثلت الشمس له عند غروبها فيجلس يمسح عينيه ويقول : دعوني اصلي
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک «صور» والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں «صور» ۱؎ لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عباد بن العوام، عن حجاج، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان صاحبى الصور بايديهما - او في ايديهما - قرنان يلاحظان النظر متى يومران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام لوگوں سے برگزیدہ بنایا، یہ سن کر ایک انصاری نے اس کو ایک طمانچہ مارا، اور کہا: تم ایسا کہتے ہو جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: «ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الأرض إلا من شاء الله ثم نفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون» اور صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان والے سب بیہوش ہو جائیں گے، سوائے اس کے جس کو اللہ چاہے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تب وہ سب کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے ( سورۃ الزمر: ۶۸ ) ، میں سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا، تو دیکھوں گا کہ موسیٰ ( علیہ السلام ) عرش کا ایک پایہ تھامے ہوئے ہیں، میں نہیں جانتا کہ انہوں نے مجھ سے پہلے سر اٹھایا، یا وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا ہے، اور جس نے یہ کہا: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو اس نے غلط کہا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رجل من اليهود بسوق المدينة والذي اصطفى موسى على البشر . فرفع رجل من الانصار يده فلطمه قال تقول هذا وفينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " قال الله عز وجل {ونفخ في الصور فصعق من في السموات ومن في الارض الا من شاء الله ثم نفخ فيه اخرى فاذا هم قيام ينظرون} فاكون اول من رفع راسه فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش فلا ادري ارفع راسه قبلي او كان ممن استثنى الله عز وجل . ومن قال انا خير من يونس بن متى فقد كذب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: جبار ( اللہ ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، ( آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے ) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن عبيد الله بن مقسم، عن عبد الله بن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول " ياخذ الجبار سمواته وارضيه بيده - وقبض يده فجعل يقبضها ويبسطها - ثم يقول انا الجبار انا الملك اين الجبارون اين المتكبرون " . قال ويتمايل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن يمينه وعن شماله حتى نظرت الى المنبر يتحرك من اسفل شىء منه حتى اني لاقول اساقط هو برسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ننگے پاؤں، ننگے بدن ، میں نے کہا: عورتیں بھی اسی طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں بھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! پھر شرم نہیں آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! معاملہ اتنا سخت ہو گا کہ ( کوئی ) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حاتم بن ابي صغيرة، عن ابن ابي مليكة، عن القاسم، قال قالت عايشة قلت يا رسول الله كيف يحشر الناس يوم القيامة قال " حفاة عراة " . قلت والنساء قال " والنساء " . قلت يا رسول الله فما يستحيى قال " يا عايشة الامر اشد من ان ينظر بعضهم الى بعض
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی، دوبار کی پیشی میں بحث و تکرار اور عذر و بہانے ہوں گے اور تیسری بار میں اعمال نامے ہاتھوں میں اڑ رہے ہوں گے، تو کوئی اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں اور کوئی بائیں ہاتھ میں پکڑے ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا وكيع، عن علي بن علي بن رفاعة، عن الحسن، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعرض الناس يوم القيامة ثلاث عرضات فاما عرضتان فجدال ومعاذير واما الثالثة فعند ذلك تطير الصحف في الايدي فاخذ بيمينه واخذ بشماله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے: «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ( سورۃ المطففین: ۶ ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: لوگ اس طرح کھڑے ہوں گے کہ نصف کان تک اپنے پسینے میں غرق ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عيسى بن يونس، وابو خالد الاحمر عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم {يوم يقوم الناس لرب العالمين} قال " يقوم احدهم في رشحه الى انصاف اذنيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «يوم تبدل الأرض غير الأرض والسموات» جس دن زمین اور آسمان بدل دئیے جائیں گے ( سورة إبراهيم: 48 ) سے متعلق پوچھا کہ لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط پر ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن داود، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة، قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قوله {يوم تبدل الارض غير الارض والسموات } فاين تكون الناس يوميذ قال " على الصراط