Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پل صراط جہنم کے دونوں کناروں پر رکھا جائے گا، اس پر سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے ہوں گے، پھر لوگ اس پر سے گزرنا شروع کریں گے، تو بعض لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، بعض کے کچھ اعضاء کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے، پھر نجات پائیں گے، بعض اسی پر اٹکے رہیں گے، اور بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، حدثني عبيد الله بن المغيرة، عن سليمان بن عمرو بن عبد العتواري، احد بني ليث - قال - وكان في حجر ابي سعيد قال سمعته - يعني ابا سعيد، - يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يوضع الصراط بين ظهرانى جهنم على حسك كحسك السعدان ثم يستجيز الناس فناج مسلم ومخدوج به ثم ناج ومحتبس به ومنكوس فيها
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے جو لوگ بدر و حدیبیہ کی جنگوں میں شریک تھے، ان میں سے کوئی جہنم میں نہ جائے گا، «إ ن شاء اللہ» اگر اللہ نے چاہا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں ہے: «وإن منكم إلا واردها كان على ربك حتما مقضيا» تم میں سے ہر ایک کو اس میں وارد ہونا ہے، یہ تیرے رب کا حتمی فیصلہ ہے ( سورة مريم: 71 ) ؟، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا: «ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا» پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اسی میں اوندھے منہ چھوڑ دیں گے ( سورة مريم: 72 ۔)
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، عن ام مبشر، عن حفصة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لارجو الا يدخل النار احد ان شاء الله تعالى ممن شهد بدرا والحديبية " . قالت قلت يا رسول الله اليس قد قال الله {وان منكم الا واردها كان على ربك حتما مقضيا} قال " الم تسمعيه يقول {ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس آؤ گے اس حال میں کہ وضو کی وجہ سے تمہارے ہاتھ پاؤں اور پیشانیاں روشن ہوں گی، یہ میری امت کا نشان ہو گا، اور کسی امت کا یہ نشان نہ ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن ابي مالك الاشجعي، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تردون على غرا محجلين من الوضوء سيماء امتي ليس لاحد غيرها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی اور خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے چوتھائی ہو ، ہم نے کہا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم خوش ہو گے کہ تمہاری تعداد جنت والوں کے ایک تہائی ہو ، ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تمہاری تعداد تمام اہل جنت کا نصف ہو گی، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا، اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر کالا بال ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة فقال " اترضون ان تكونوا ربع اهل الجنة " . قلنا بلى . قال " اترضون ان تكونوا ثلث اهل الجنة " . قلنا نعم . قال " والذي نفسي بيده اني لارجو ان تكونوا نصف اهل الجنة وذلك ان الجنة لا يدخلها الا نفس مسلمة وما انتم في اهل الشرك الا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الاسود او كالشعرة السوداء في جلد الثور الاحمر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو ہی آدمی ہوں گے، اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ تین آدمی ہوں گے، اور کسی نبی کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے، کسی کے ساتھ کم، اس نبی سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہے گا: جی ہاں پھر اس کی قوم بلائی جائے گی اور پوچھا جائے گا: کیا اس نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں نبی سے پوچھا جائے گا: تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہے گا: محمد اور ان کی امت، پھر محمد کی امت بلائی جائے گی اور کہا جائے گا: کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہے گی: جی ہاں اس سے پوچھا جائے گا: تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ جواب دے گی کہ ہمارے نبی نے ہم کو یہ بتایا کہ رسولوں نے پیغام پہنچا دیا ہے تو ہم نے ان کی تصدیق کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کے قول: «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر اور رسول گواہ رہیں تمہارے اوپر ( سورة البقرة: 143 ) کا مطلب ہے ۔
حدثنا ابو كريب، واحمد بن سنان، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يجيء النبي يوم القيامة ومعه الرجل ويجيء النبي ومعه الرجلان ويجيء النبي ومعه الثلاثة واكثر من ذلك واقل فيقال له هل بلغت قومك فيقول نعم . فيدعى قومه فيقال هل بلغكم فيقولون لا . فيقال من شهد لك فيقول محمد وامته . فتدعى امة محمد فيقال هل بلغ هذا فيقولون نعم . فيقول وما علمكم بذلك فيقولون اخبرنا نبينا بذلك ان الرسل قد بلغوا فصدقناه . قال فذلكم قوله تعالى {وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا}
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، کوئی بندہ ایسا نہیں ہے، جو ایمان لائے، پھر اس پر جما رہے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم اور تمہاری اولاد میں جو لوگ نیک ہوئے جنت کے مکانات میں ٹھکانا نہ بنا لیں، اور مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل کرے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن مصعب، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن رفاعة الجهني، قال صدرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " والذي نفس محمد بيده ما من عبد يومن ثم يسدد الا سلك به في الجنة وارجو الا يدخلوها حتى تبوءوا انتم ومن صلح من ذراريكم مساكن في الجنة ولقد وعدني ربي عز وجل ان يدخل الجنة من امتي سبعين الفا بغير حساب
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے رب ( سبحانہ و تعالیٰ ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا محمد بن زياد الالهاني، قال سمعت ابا امامة الباهلي، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وعدني ربي سبحانه ان يدخل الجنة من امتي سبعين الفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل الف سبعون الفا وثلاث حثيات من حثيات ربي عز وجل
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم قیامت کے دن ستر امتوں کا تکملہ ہوں گے، اور ہم ان سب سے آخری اور بہتر امت ہوں گے ۔
حدثنا عيسى بن محمد بن النحاس الرملي، وايوب بن محمد الرقي، قالا حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن ابن شوذب، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نكمل يوم القيامة سبعين امة نحن اخرها وخيرها
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہیں لے کر ستر امتیں پوری ہوئیں، اور تم ان میں سب سے بہتر ہو، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو ۔
حدثنا محمد بن خالد بن خداش، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انكم وفيتم سبعين امة انتم خيرها واكرمها على الله
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے ۔
حدثنا عبد الله بن اسحاق الجوهري، حدثنا حسين بن حفص الاصبهاني، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اهل الجنة عشرون وماية صف ثمانون من هذه الامة واربعون من ساير الامم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو سلمة، حدثنا حماد بن سلمة، عن سعيد بن اياس الجريري، عن ابي نضرة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال نحن اخر الامم واول من يحاسب يقال اين الامة الامية ونبيها فنحن الاخرون الاولون
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع کرے گا، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو سجدے کا حکم دے گا، وہ بڑی دیر تک اس کو سجدہ کرتے رہیں گے، پھر حکم ہو گا اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہاری تعداد کے مطابق تمہارے فدئیے جہنم سے کر دئیے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا عبد الاعلى بن ابي المساور، عن ابي بردة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جمع الله الخلايق يوم القيامة اذن لامة محمد بالسجود فيسجدون له طويلا ثم يقال ارفعوا رءوسكم قد جعلنا عدتكم فداءكم من النار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ امت امت مرحومہ ہے ( یعنی اس پر رحمت نازل کی گئی ہے ) ، اس کا عذاب اسی کے ہاتھوں میں ہے، جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر مسلمان کے حوالے ایک مشرک کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ تیرا فدیہ ہے جہنم سے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا كثير بن سليم، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذه امة مرحومة عذابها بايديها فاذا كان يوم القيامة دفع الى كل رجل من المسلمين رجل من المشركين فيقال هذا فداوك من النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا عبد الملك، عن عطاء، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان لله ماية رحمة قسم منها رحمة بين جميع الخلايق فبها يتراحمون وبها يتعاطفون وبها تعطف الوحش على اولادها واخر تسعة وتسعين رحمة يرحم بها عباده يوم القيامة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، سو رحمتیں پیدا کیں، زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے، اور چرند و پرند جانور بھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لیے اٹھا رکھا ہے، جب قیامت کا دن ہو گا، تو اللہ تعالیٰ ان رحمتوں کو پورا کرے گا ۔
حدثنا ابو كريب، واحمد بن سنان، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلق الله عز وجل يوم خلق السموات والارض ماية رحمة فجعل في الارض منها رحمة فبها تعطف الوالدة على ولدها والبهايم بعضها على بعض والطير واخر تسعة وتسعين الى يوم القيامة فاذا كان يوم القيامة اكملها الله بهذه الرحمة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل لما خلق الخلق كتب بيده على نفسه ان رحمتي تغلب غضبي
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك بن عمير، عن ابن ابي ليلى، عن معاذ بن جبل، قال مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا على حمار فقال " يا معاذ هل تدري ما حق الله على العباد وما حق العباد على الله " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " فان حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شييا . وحق العباد على الله اذا فعلوا ذلك ان لا يعذبهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا: تم کون لوگ ہو ؟ انہوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عورت نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ بولی: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں ؟ اس نے کہا: ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا ابراهيم بن اعين، حدثنا اسماعيل بن يحيى الشيباني، عن عبد الله بن عمر بن حفص، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته فمر بقوم فقال من القوم فقالوا نحن المسلمون . وامراة تحصب تنورها ومعها ابن لها فاذا ارتفع وهج التنور تنحت به فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت انت رسول الله قال " نعم " . قالت بابي انت وامي اليس الله بارحم الراحمين قال " بلى " . قالت اوليس الله بارحم بعباده من الام بولدها قال " بلى " . قالت فان الام لا تلقي ولدها في النار . فاكب رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي ثم رفع راسه اليها فقال " ان الله لا يعذب من عباده الا المارد المتمرد الذي يتمرد على الله وابى ان يقول لا اله الا الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کوئی نہیں جائے گا سوائے بدبخت کے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! بدبخت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کی، اور کوئی گناہ نہ چھوڑا ۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، حدثنا عمرو بن هاشم، حدثنا ابن لهيعة، عن عبد ربه بن سعيد، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل النار الا شقي " . قيل يا رسول الله ومن الشقي قال " من لم يعمل لله بطاعة ولم يترك له معصية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» یعنی اللہ ہی سے ڈرنا چاہیئے اور وہی گناہ بخشنے کا اہل ہے ( سورۃ المدثر: ۵۶ ) تلاوت فرمائی، اور فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے میں اس کے لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، اور میرے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنایا جائے، تو جو میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود بنانے سے بچے تو میں ہی اس کا اہل ہوں کہ اس کو بخش دوں دوسری سند اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت: «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» کے بارے میں کہ تمہارے رب نے فرمایا: میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے، میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے، اور جو میرے ساتھ شریک کرنے سے بچے میں اہل ہوں اس بات کا کہ اسے بخش دوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا سهيل بن عبد الله، - اخو حزم القطعي - حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا - او تلا - هذه الاية {هو اهل التقوى واهل المغفرة} فقال " قال الله عز وجل انا اهل ان اتقى فلا يجعل معي اله اخر فمن اتقى ان يجعل معي الها اخر فانا اهل ان اغفر له " . قال ابو الحسن القطان حدثنا ابراهيم بن نصر، حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا سهيل بن ابي حزم، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في هذه الاية {هو اهل التقوى واهل المغفرة } قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال ربكم انا اهل ان اتقى فلا يشرك بي غيري وانا اهل لمن اتقى ان يشرك بي ان اغفر له