Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں زہد آدمی کے حلال کو حرام کر لینے، اور مال کو ضائع کرنے میں نہیں ہے، بلکہ دنیا میں زہد ( دنیا سے بے رغبتی ) یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور دنیا میں جو مصیبت تم پر آئے تو تم اس پر خوش ہو بہ نسبت اس کے کہ مصیبت نہ آئے، اور آخرت کے لیے اٹھا رکھی جائے ۔ ہشام کہتے ہیں: کہ ابوادریس خولانی کہتے تھے کہ حدیثوں میں یہ حدیث ایسی ہے جیسے سونے میں کندن۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عمرو بن واقد القرشي، حدثنا يونس بن ميسرة بن حلبس، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي ذر الغفاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس الزهادة في الدنيا بتحريم الحلال ولا في اضاعة المال ولكن الزهادة في الدنيا ان لا تكون بما في يديك اوثق منك بما في يد الله وان تكون في ثواب المصيبة اذا اصبت بها ارغب منك فيها لو انها ابقيت لك " . قال هشام كان ابو ادريس الخولاني يقول مثل هذا الحديث في الاحاديث كمثل الابريز في الذهب
ابوخلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو دنیا کی طرف سے بے رغبت ہے، اور کم گو بھی تو اس سے قربت اختیار کرو، کیونکہ وہ حکمت و دانائی کی بات بتائے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الحكم بن هشام، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابي فروة، عن ابي خلاد، - وكانت له صحبة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الرجل قد اعطي زهدا في الدنيا وقلة منطق فاقتربوا منه فانه يلقى الحكمة
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے بے رغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز ہو جاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے ۔
حدثنا ابو عبيدة بن ابي السفر، حدثنا شهاب بن عباد، حدثنا خالد بن عمرو القرشي، عن سفيان الثوري، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله دلني على عمل اذا انا عملته احبني الله واحبني الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ازهد في الدنيا يحبك الله وازهد فيما في ايدي الناس يحبوك
سمرہ بن سہم کہتے ہیں کہ میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ برچھی لگنے سے زخمی ہو گئے تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کو آئے تو ابوہاشم رضی اللہ عنہ رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ماموں جان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا درد کی شدت سے رو رہے ہیں یا دنیا کی کسی اور وجہ سے؟ دنیا کا تو بہترین حصہ گزر چکا ہے، ابوہاشم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، کاش! میں اس پر عمل کئے ہوتا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: شاید تم ایسا زمانہ پاؤ، جب لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا جائے، تو تمہارے لیے اس میں سے ایک خادم اور راہ جہاد کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا، اور جمع کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن سمرة بن سهم، - رجل من قومه - قال نزلت على ابي هاشم بن عتبة وهو طعين فاتاه معاوية يعوده فبكى ابو هاشم فقال معاوية ما يبكيك اى خال اوجع يشيزك ام على الدنيا فقد ذهب صفوها قال على كل لا ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد الى عهدا وددت اني كنت تبعته قال " انك لعلك تدرك اموالا تقسم بين اقوام وانما يكفيك من ذلك خادم ومركب في سبيل الله " . فادركت فجمعت
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے آئے اور ان کو روتا ہوا پایا، سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھائی آپ کس لیے رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض نہیں اٹھایا؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا، نہ تو دنیا کی حرص کی وجہ سے اور نہ اس وجہ سے کہ آخرت کو ناپسند کرتا ہوں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نصیحت کی تھی، جہاں تک میرا خیال ہے میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا نصیحت تھی؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تم میں سے کسی کے لیے بھی دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جتنا کہ مسافر کا توشہ، لیکن میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، اے سعد! جب آپ فیصلہ کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، جب کچھ تقسیم کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، اور جب کسی کام کا قصد کرنا تو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر کرنا۔ ثابت ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ مجھے پتہ چلا کہ سلمان رضی اللہ عنہ نے بیس سے چند زائد درہم کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا، وہ بھی اپنے خرچ میں سے۔
حدثنا الحسن بن ابي الربيع، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال اشتكى سلمان فعاده سعد فراه يبكي فقال له سعد ما يبكيك يا اخي اليس قد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم اليس اليس قال سلمان ما ابكي واحدة من اثنتين ما ابكي صبا للدنيا ولا كراهية للاخرة ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد الى عهدا فما اراني الا قد تعديت . قال وما عهد اليك قال عهد الى انه يكفي احدكم مثل زاد الراكب ولا اراني الا قد تعديت واما انت يا سعد فاتق الله عند حكمك اذا حكمت وعند قسمك اذا قسمت وعند همك اذا هممت . قال ثابت فبلغني انه ما ترك الا بضعة وعشرين درهما من نفقة كانت عنده
ابان بن عثمان بن عفان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مروان کے پاس سے ٹھیک دوپہر کے وقت نکلے، میں نے کہا: اس وقت مروان نے ان کو ضرور کچھ پوچھنے کے لیے بلایا ہو گا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مروان نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس کو دنیا کی فکر لگی ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کے معاملات کو پراگندہ کر دے گا، اور محتاجی کو اس کی نگاہوں کے سامنے کر دے گا، جب اس کو دنیا سے صرف وہی ملے گا جو اس کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے، اور جس کا مقصود آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو ٹھیک کر دے گا، اس کے دل کو بے نیازی عطا کرے گا، اور دنیا اس کے پاس ناک رگڑتی ہوئی آئے گی ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمر بن سليمان، قال سمعت عبد الرحمن بن ابان بن عثمان بن عفان، عن ابيه، قال خرج زيد بن ثابت من عند مروان بنصف النهار فقلت ما بعث اليه هذه الساعة الا لشىء سال عنه . فسالته فقال سالنا عن اشياء سمعناها من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كانت الدنيا همه فرق الله عليه امره وجعل فقره بين عينيه ولم ياته من الدنيا الا ما كتب له ومن كانت الاخرة نيته جمع الله له امره وجعل غناه في قلبه واتته الدنيا وهي راغمة
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا ۔
حدثنا علي بن محمد، والحسين بن عبد الرحمن، قالا حدثنا عبد الله بن نمير، عن معاوية النصري، عن نهشل، عن الضحاك، عن الاسود بن يزيد، قال قال عبد الله سمعت نبيكم، صلى الله عليه وسلم يقول " من جعل الهموم هما واحدا هم المعاد كفاه الله هم دنياه ومن تشعبت به الهموم في احوال الدنيا لم يبال الله في اى اوديته هلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے یک سو ہو جا تو میں تیرا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور کر دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرا دل مشغولیتوں سے بھر دوں گا، اور تیری محتاجی دور نہ کروں گا ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الله بن داود، عن عمران بن زايدة، عن ابيه، عن ابي خالد الوالبي، عن ابي هريرة، قال - ولا اعلمه الا قد رفعه - قال " يقول الله سبحانه يا ابن ادم تفرغ لعبادتي املا صدرك غنى واسد فقرك وان لم تفعل ملات صدرك شغلا ولم اسد فقرك
مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ومحمد بن بشر، قالا حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، قال سمعت المستورد، اخا بني فهر يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما مثل الدنيا في الاخرة الا مثل ما يجعل احدكم اصبعه في اليم فلينظر بم يرجع
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑ گیا، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود، حدثنا المسعودي، اخبرني عمرو بن مرة، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال اضطجع النبي صلى الله عليه وسلم على حصير فاثر في جلده فقلت بابي وامي يا رسول الله لو كنت اذنتنا ففرشنا لك عليه شييا يقيك منه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما انا والدنيا انما انا والدنيا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے کہ وہاں ایک مردہ بکری اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے پڑی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و بے وقعت ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک بے قیمت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے، اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک قطرہ بھی نہ چکھاتا ۔
حدثنا هشام بن عمار، وابراهيم بن المنذر الحزامي، ومحمد بن الصباح، قالوا حدثنا ابو يحيى، زكريا بن منظور حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة فاذا هو بشاة ميتة شايلة برجلها فقال " اترون هذه هينة على صاحبها فوالذي نفسي بيده للدنيا اهون على الله من هذه على صاحبها ولو كانت الدنيا تزن عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها قطرة ابدا
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے، اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے ؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کی بے وقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بے وقعت ہے ۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، حدثنا حماد بن زيد، عن مجالد بن سعيد الهمداني، عن قيس بن ابي حازم الهمداني، قال حدثنا المستورد بن شداد، قال اني لفي الركب مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ اتى على سخلة منبوذة قال فقال " اترون هذه هانت على اهلها " . قال قيل يا رسول الله من هوانها القوها . او كما قال قال " فوالذي نفسي بيده للدنيا اهون على الله من هذه على اهلها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کی یاد کے، اور اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، یا عالم کے یا متعلم کے ۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا ابو خليد، عتبة بن حماد الدمشقي عن ابن ثوبان، عن عطاء بن قرة، عن عبد الله بن ضمرة السلولي، قال حدثنا ابو هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول " الدنيا ملعونة ملعون ما فيها الا ذكر الله وما والاه او عالما او متعلما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا مومن کا جیل اور کافر کی جنت ہے ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدنيا سجن المومن وجنة الكافر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کا بعض حصہ ( کندھا ) تھاما اور فرمایا: عبداللہ! دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا مسافر، اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو ۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، حدثنا حماد بن زيد، عن ليث، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعض جسدي فقال " يا عبد الله كن في الدنيا كانك غريب او كانك عابر سبيل وعد نفسك من اهل القبور
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو جنت کے بادشاہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ؟ میں نے کہا: جی ہاں، بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمزور و ناتواں شخص دو پرانے کپڑے پہنے ہو جس کو کوئی اہمیت نہ دی جائے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم ضرور پوری کرے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سويد بن عبد العزيز، عن زيد بن واقد، عن بسر بن عبيد الله، عن ابي ادريس الخولاني، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبرك عن ملوك الجنة " . قلت بلى . قال " رجل ضعيف مستضعف ذو طمرين لا يوبه له لو اقسم على الله لابره
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر وہ کمزور اور بے حال شخص جس کو لوگ کمزور سمجھیں، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ سخت مزاج، پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھنے، اور تکبر کرنے والا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن معبد بن خالد، قال سمعت حارثة بن وهب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا انبيكم باهل الجنة كل ضعيف متضعف الا انبيكم باهل النار كل عتل جواظ مستكبر
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے، جو مال و دولت آل و اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، جس کو نماز میں راحت ملتی ہو، لوگوں میں گم نام ہو، اور لوگ اس کی پرواہ نہ کرتے ہوں، اس کا رزق بس گزر بسر کے لیے کافی ہو، وہ اس پر صبر کرے، اس کی موت جلدی آ جائے، اس کی میراث کم ہو، اور اس پر رونے والے کم ہوں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، عن صدقة بن عبد الله، عن ابراهيم بن مرة، عن ايوب بن سليمان، عن ابي امامة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اغبط الناس عندي مومن خفيف الحاذ ذو حظ من صلاة غامض في الناس لا يوبه له كان رزقه كفافا وصبر عليه عجلت منيته وقل تراثه وقلت بواكيه
ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سادگی و پراگندہ حالی ایمان کی دلیل ہے ایمان کا ایک حصہ ہے، سادگی بے جا تکلف کے معنی میں ہے، یعنی زیب و زینت و آرائش سے گریز کرنا
حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا ايوب بن سويد، عن اسامة بن زيد، عن عبد الله بن ابي امامة الحارثي، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البذاذة من الايمان " . قال البذاذة القشافة يعني التقشف
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تم کو یہ نہ بتا دوں کہ تم میں بہترین لوگ کون ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر اللہ یاد آئے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا يحيى بن سليم، عن ابن خثيم، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الا انبيكم بخياركم " . قالوا بلى يا رسول الله . قال " خياركم الذين اذا رءوا ذكر الله عز وجل