Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ لوگوں نے کہا: جو آپ کی رائے ہے وہی ہماری رائے ہے، ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ شریف لوگوں میں سے ہے، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں یہ نکاح کا پیغام بھیجے تو اسے قبول کیا جائے، اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے، اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی جائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر ایک دوسرا شخص گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! یہ تو مسلمانوں کے فقراء میں سے ہے، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں نکاح کا پیغام دے تو اس کا پیغام قبول نہ کیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اور اگر کچھ کہے تو اس کی بات نہ سنی جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس پہلے جیسے زمین بھر آدمیوں سے بہتر ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، حدثني ابي، عن سهل بن سعد الساعدي، قال مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما تقولون في هذا الرجل قالوا رايك في . هذا نقول هذا من اشراف الناس هذا حري ان خطب ان يخطب وان شفع ان يشفع وان قال ان يسمع لقوله . فسكت النبي صلى الله عليه وسلم ومر رجل اخر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما تقولون في هذا " . قالوا نقول والله يا رسول الله هذا من فقراء المسلمين هذا حري ان خطب لم ينكح وان شفع لا يشفع وان قال لا يسمع لقوله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لهذا خير من ملء الارض مثل هذا
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ اپنے مومن، فقیر ( محتاج ) ، سوال سے بچنے والے اور اہل و عیال والے بندے کو محبوب رکھتا ہے ۔
حدثنا عبيد الله بن يوسف الجبيري، حدثنا حماد بن عيسى، حدثنا موسى بن عبيدة، اخبرني القاسم بن مهران، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يحب عبده المومن الفقير المتعفف ابا العيال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں میں سے محتاج اور غریب لوگ مالداروں سے آدھے دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آخرت کا آدھا دن ( دنیا کے ) پانچ سو سال کے برابر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يدخل فقراء المومنين الجنة قبل الاغنياء بنصف يوم خمسماية عام
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقیر مہاجرین، مالدار مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا بكر بن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن المختار، عن محمد بن ابي ليلى، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل اغنيايهم بمقدار خمسماية سنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فقیر مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالداروں کو ان پر فضیلت دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فقراء کی جماعت! کیا میں تم کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں کہ غریب مومن، مالدار مومن سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے، ( پانچ سو سال پہلے ) پھر موسیٰ بن عبیدہ نے یہ آیت تلاوت کی: «وإن يوما عند ربك كألف سنة مما تعدون» اور بیشک ایک دن تیرے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کے برابر ہے جسے تم شمار کرتے ہو ( سورۃ الحج: ۱۴۷ ) ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا ابو غسان، بهلول حدثنا موسى بن عبيدة، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، قال اشتكى فقراء المهاجرين الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما فضل الله به عليهم اغنياءهم فقال " يا معشر الفقراء الا ابشركم ان فقراء المومنين يدخلون الجنة قبل اغنيايهم بنصف يوم خمسماية عام " . ثم تلا موسى هذه الاية {وان يوما عند ربك كالف سنة مما تعدون}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسکینوں سے محبت کرتے تھے، ان کے ساتھ بیٹھتے، اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے، اور وہ لوگ بھی ان سے باتیں کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوالمساکین رکھی تھی۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم التيمي ابو يحيى، حدثنا ابراهيم ابو اسحاق المخزومي، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال كان جعفر بن ابي طالب يحب المساكين ويجلس اليهم ويحدثهم ويحدثونه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكنيه ابا المساكين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسکینوں اور فقیروں سے محبت کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں کہتے ہوئے سنا ہے: «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين» اے اللہ مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ، مسکین بنا کر فوت کر، اور میرا حشر مسکینوں کے زمرے میں کر ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعبد الله بن سعيد، قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن يزيد بن سنان، عن ابي المبارك، عن عطاء، عن ابي سعيد الخدري، قال احبوا المساكين فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في دعايه " اللهم احيني مسكينا وامتني مسكينا واحشرني في زمرة المساكين
خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي» سے «فتكون من الظالمين» اور ان لوگوں کو اپنے پاس سے مت نکال جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں … ( سورة الأنعام: 52 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہما آئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صہیب، بلال، عمار، اور خباب رضی اللہ عنہم جیسے کمزور حال مسلمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا پایا، جب انہوں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف دیکھا تو ان کو حقیر جانا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تنہائی میں ملے، اور کہنے لگے: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک الگ مجلس مقرر کریں تاکہ عرب کو ہماری بزرگی اور بڑائی معلوم ہو، آپ کے پاس عرب کے وفود آتے رہتے ہیں، اگر وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا دیکھ لیں گے تو یہ ہمارے لیے باعث شرم ہے، جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ ان مسکینوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کیجئیے، جب ہم چلے جائیں تو آپ چاہیں تو پھر ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے ان لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں اس سلسلے میں ایک تحریر لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ منگوایا اور علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلایا، ہم ایک طرف بیٹھے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شيء وما من حسابك عليهم من شيء فتطردهم فتكون من الظالمين» اور ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کریں جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں، ان کے حساب کی کوئی ذمے داری تمہارے اوپر نہیں ہے اور نہ تمہارے حساب کی کوئی ذمے داری ان پر ہے ( اگر تم ایسا کرو گے ) تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ) پھر اللہ تعالیٰ نے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہما کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «وكذلك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا أهؤلاء من الله عليهم من بيننا أليس الله بأعلم بالشاكرين» اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایا تاکہ وہ کہیں: کیا اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے انہیں پر احسان کیا ہے، کیا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو نہیں جانتا، ( سورۃ الأنعام: ۵۳ ) پھر فرمایا: «وإذا جاءك الذين يؤمنون بآياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة» جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہو: تم پر سلامتی ہو، تمہارے رب نے اپنے اوپر رحم کو واجب کر لیا ہے ( سورة الأنعام: 54 ) ۔ خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( اس آیت کے نزول کے بعد ) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے اپنا گھٹنا، آپ کے گھٹنے پر رکھ دیا اور آپ ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے، اور جب اٹھنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور ہم کو چھوڑ دیتے ( اس سلسلے میں ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم» روکے رکھو اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو یاد کرتے ہیں صبح اور شام، اور اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں، اور اپنی نگاہیں ان کی طرف سے مت پھیرو ( سورة الكهف: 28 ) -یعنی مالداروں کے ساتھ مت بیٹھو، تم دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہو، مت کہا مانو ان لوگوں کا جن کے دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دئیے ) اس سے مراد اقرع و عیینہ ہیں«واتبع هواه وكان أمره فرطا» انہوں نے اپنی خواہش کی پیروی کی اور ان کا معاملہ تباہ ہو گیا ( سورة الكهف: 28 ) ، یہاں «فرطا» کا معنی بیان کرتے ہوئے خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «هلاكا» اقرع اور عیینہ میں سے ہر ایک کا معاملہ تباہ ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کی مثال اور دنیوی زندگی کی مثال بیان فرمائی، خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتے تو جب آپ کے کھڑے ہونے کا وقت آتا تو پہلے ہم اٹھتے تب آپ اٹھتے۔
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ آیت «ولا تطرد» ہم چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی: میرے، ابن مسعود، صہیب، عمار، مقداد اور بلال رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں، قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے، آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دیجئیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں وہ بات داخل ہو گئی جو اللہ تعالیٰ کی مشیت میں تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه» اور ان لوگوں کو مت نکالئے جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں ( سورۃ الأنعام: ۵۲ ) ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو داود، حدثنا قيس بن الربيع، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن سعد، قال نزلت هذه الاية فينا ستة في وفي ابن مسعود وصهيب وعمار والمقداد وبلال . قال قالت قريش لرسول الله صلى الله عليه وسلم انا لا نرضى ان نكون اتباعا لهم فاطردهم عنك . قال فدخل قلب رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذلك ما شاء الله ان يدخل فانزل الله عز وجل {ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه} الاية
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہے زیادہ مال والوں کے لیے سوائے اس کے جو مال اپنے اس طرف، اس طرف، اس طرف اور اس طرف خرچ کرے، دائیں، بائیں، اور اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف خرچ کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب قالا حدثنا بكر بن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن المختار، عن محمد بن ابي ليلى، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ويل للمكثرين الا من قال بالمال هكذا وهكذا وهكذا وهكذا " . اربع عن يمينه وعن شماله ومن قدامه ومن ورايه
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے لوگ قیامت کے دن سب سے کمتر درجہ والے ہوں گے، مگر جو مال کو اس طرح اور اس طرح کرے اور اسے حلال طریقے سے کمائے ۱؎۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثني ابو زميل، - هو سماك - عن مالك بن مرثد الحنفي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال قال رسول صلى الله عليه وسلم " الاكثرون هم الاسفلون يوم القيامة الا من قال بالمال هكذا وهكذا وكسبه من طيب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے ہی سب سے نیچے درجے والے ہوں گے مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے اور اس طرح کرے، ( یعنی کثرت سے صدقہ و خیرات کرے ) تین بار اشارہ فرمایا۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن محمد بن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الاكثرون هم الاسفلون الا من قال هكذا وهكذا وهكذا " . ثلاثا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن آئے تو میرے پاس اس میں سے کچھ باقی رہے، سوائے اس کے جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابي سهيل بن مالك، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما احب ان احدا عندي ذهبا فتاتي على ثالثة وعندي منه شىء الا شىء ارصده في قضاء دين
عمرو بن غیلان ثقفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو مجھ پر ایمان لائے، میری تصدیق کرے، اور اس بات پر یقین رکھے کہ جو کچھ میں لایا ہوں وہی حق ہے، اور وہ تیری جانب سے ہے تو اس کے مال اور اولاد میں کمی کر، اپنی ملاقات کو اس کے لیے محبوب بنا دے، اس کی موت میں جلدی کر، اور جو مجھ پر ایمان نہ لائے، میری تصدیق نہ کرے، اور نہ اس بات پر یقین رکھے کہ جو میں لے کر آیا ہوں وہی حق ہے، تیری جانب سے اترا ہے، تو اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر دے، اور اس کی عمر لمبی کر ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا يزيد بن ابي مريم، عن ابي عبيد الله، مسلم بن مشكم عن عمرو بن غيلان الثقفي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم من امن بي وصدقني وعلم ان ما جيت به هو الحق من عندك - فاقلل ماله وولده وحبب اليه لقاءك وعجل له القضاء ومن لم يومن بي ولم يصدقني ولم يعلم ان ما جيت به هو الحق من عندك فاكثر ماله وولده واطل عمره
نقادہ اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک شخص کے پاس اونٹنی مانگنے کے لیے بھیجا، لیکن اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیجا تو اس نے ایک اونٹنی بھیج دی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے اور جس نے اس کو بھیجا ہے اس میں بھی برکت عطا کرے ۔ نقادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ بھی دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی برکت دے جو اسے لے آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جو اسے لایا ہے اس کو بھی برکت دے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا، اس نے بہت دودھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ( پہلے اونٹنی نہ دینے والا شخص ) کا مال زیادہ کر دے، اور جس نے اونٹنی بھیجی ہے اس کو رزق یومیہ دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا غسان بن برزين، ح وحدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا غسان بن برزين، حدثنا سيار بن سلامة، عن البراء السليطي، عن نقادة الاسدي، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل يستمنحه ناقة فرده ثم بعثني الى رجل اخر فارسل اليه بناقة فلما ابصرها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك فيها وفيمن بعث بها " . قال نقادة فقلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم وفيمن جاء بها قال " وفيمن جاء بها " . ثم امر بها فحلبت فدرت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اكثر مال فلان " . للمانع الاول " واجعل رزق فلان يوما بيوم " . للذي بعث بالناقة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاک ہوا دینار و درہم کا بندہ اور چادر اور شال کا بندہ، اگر اس کو یہ چیزیں دے دی جائیں تو خوش رہے، اور اگر نہ دی جائیں تو ( اپنا عہد ) پورا نہ کرے ۔
حدثنا الحسن بن حماد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد القطيفة وعبد الخميصة ان اعطي رضي وان لم يعط لم يف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاک ہوا دینار کا بندہ، درہم کا بندہ اور شال کا بندہ، وہ ہلاک ہو اور ( جہنم میں ) اوندھے منہ گرے، اگر اس کو کوئی کانٹا چبھ جائے تو کبھی نہ نکلے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد، حدثنا اسحاق بن سعيد، عن صفوان بن سليم، عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة تعس وانتكس واذا شيك فلا انتقش
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالداری دنیاوی ساز و سامان کی زیادتی سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل مالداری تو دل کی بے نیازی اور آسودگی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کو اسلام کی ہدایت نصیب ہوئی، اور ضرورت کے مطابق روزی ملی، اور اس نے اس پر قناعت کی ۔
حدثنا محمد بن رمح، حدثنا عبد الله بن لهيعة، عن عبيد الله بن ابي جعفر، وحميد بن هاني الخولاني، انهما سمعا ابا عبد الرحمن الحبلي، يخبر عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " قد افلح من هدي الى الاسلام ورزق الكفاف وقنع به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» اے اللہ! آل محمد کو بہ قدر ضرورت روزی دے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اجعل رزق ال محمد قوتا
حدثنا احمد بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان، حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، حدثنا اسباط بن نصر، عن السدي، عن ابي سعد الازدي، وكان، قاري الازد عن ابي الكنود، عن خباب، في قوله تعالى {ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي} الى قوله {فتكون من الظالمين} قال جاء الاقرع بن حابس التميمي وعيينة بن حصن الفزاري فوجدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم مع صهيب وبلال وعمار وخباب قاعدا في ناس من الضعفاء من المومنين فلما راوهم حول النبي صلى الله عليه وسلم حقروهم فاتوه فخلوا به وقالوا انا نريد ان تجعل لنا منك مجلسا تعرف لنا به العرب فضلنا فان وفود العرب تاتيك فنستحيي ان ترانا العرب مع هذه الاعبد فاذا نحن جيناك فاقمهم عنك فاذا نحن فرغنا فاقعد معهم ان شيت . قال " نعم " . قالوا فاكتب لنا عليك كتابا . قال فدعا بصحيفة ودعا عليا ليكتب ونحن قعود في ناحية فنزل جبراييل عليه السلام فقال {ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شىء وما من حسابك عليهم من شىء فتطردهم فتكون من الظالمين} ثم ذكر الاقرع بن حابس وعيينة بن حصن فقال {وكذلك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا اهولاء من الله عليهم من بيننا اليس الله باعلم بالشاكرين} . ثم قال {واذا جاءك الذين يومنون باياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة } . قال فدنونا منه حتى وضعنا ركبنا على ركبته وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس معنا فاذا اراد ان يقوم قام وتركنا فانزل الله {واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم} ولا تجالس الاشراف {تريد زينة الحياة الدنيا ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا} - يعني عيينة والاقرع - {واتبع هواه وكان امره فرطا } - قال هلاكا - قال امر عيينة والاقرع . ثم ضرب لهم مثل الرجلين ومثل الحياة الدنيا . قال خباب فكنا نقعد مع النبي صلى الله عليه وسلم فاذا بلغنا الساعة التي يقوم فيها قمنا وتركناه حتى يقوم