Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کوئی مالدار یا فقیر ایسا نہ ہو گا جو یہ تمنا نہ کرے کہ اس کو دنیا میں بہ قدر ضرورت روزی ملی ہوتی ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ويعلى، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن نفيع، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من غني ولا فقير الا ود يوم القيامة انه اتي من الدنيا قوتا
عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اس کا جسم صحیح سلامت ہو، اس کی جان امن و امان میں ہو اور اس دن کا کھانا بھی اس کے پاس ہو تو گویا اس کے لیے دنیا اکٹھی ہو گئی ۔
حدثنا سويد بن سعيد، ومجاهد بن موسى، قالا حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا عبد الرحمن بن ابي شميلة، عن سلمة بن عبيد الله بن محصن الانصاري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصبح منكم معافى في جسده امنا في سربه عنده قوت يومه فكانما حيزت له الدنيا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے ۔ ابومعاویہ نے «فوقكم» کی جگہ «عليكم» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا وكيع، وابو معاوية عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انظروا الى من هو اسفل منكم ولا تنظروا الى من هو فوقكم فانه اجدر ان لا تزدروا نعمة الله " . قال ابو معاوية " عليكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے ۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا جعفر بن برقان، حدثنا يزيد بن الاصم، عن ابي هريرة، رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله لا ينظر الى صوركم واموالكم ولكن انما ينظر الى اعمالكم وقلوبكم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم مہینہ ایسے گزارتے تھے کہ ہمارے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، سوائے کھجور اور پانی کے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ابن نمیر نے «نمكث شهرا» کے بجائے «نلبث شهرا» کہا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان كنا ال محمد صلى الله عليه وسلم لنمكث شهرا ما نوقد فيه بنار ما هو الا التمر والماء . الا ان ابن نمير قال نلبث شهرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کبھی کبھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا مہینہ ایسا گزر جاتا تھا کہ ان کے گھروں میں سے کسی گھر میں دھواں نہ دیکھا جاتا تھا، ابوسلمہ نے پوچھا: پھر وہ کیا کھاتے تھے؟ کہا: دو کالی چیزیں یعنی کھجور اور پانی، البتہ ہمارے کچھ انصاری پڑوسی تھے، جو صحیح معنوں میں پڑوسی تھے، ان کی کچھ پالتو بکریاں تھیں، وہ آپ کو ان کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نو گھر تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت لقد كان ياتي على ال محمد صلى الله عليه وسلم الشهر ما يرى في بيت من بيوته الدخان . قلت فما كان طعامهم قالت الاسودان التمر والماء غير انه كان لنا جيران من الانصار جيران صدق وكانت لهم ربايب فكانوا يبعثون اليه البانها . قال محمد وكانوا تسعة ابيات
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ دن میں بھوک سے کروٹیں بدلتے رہتے تھے، آپ کو خراب اور ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا شعبة، عن سماك، عن النعمان بن بشير، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلتوي في اليوم من الجوع ما يجد من الدقل ما يملا به بطنه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باربار فرماتے سنا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! آل محمد کے پاس کسی دن ایک صاع غلہ یا ایک صاع کھجور نہیں ہوتا، اور ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسن بن موسى، انبانا شيبان، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول مرارا " والذي نفس محمد بيده ما اصبح عند ال محمد صاع حب ولا صاع تمر " . وان له يوميذ تسع نسوة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ سے زیادہ نہیں رہا، یا آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ نہیں رہا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن علي بن بذيمة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اصبح في ال محمد الا مد من طعام " . او " ما اصبح في ال محمد مد من طعام
سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور ہم تین دن تک ٹھہرے رہے مگر ہمیں کھانا نہ ملا جو ہم آپ کو کھلاتے ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرني ابي، عن شعبة، عن عبد الاكرم، - رجل من اهل الكوفة - عن ابيه، عن سليمان بن صرد، قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فمكثنا ثلاث ليال لا نقدر - او لا يقدر - على طعام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تازہ گرم کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا، جب فارغ ہوئے تو فرمایا: الحمدللہ میرے پیٹ میں اتنے اور اتنے دن سے گرم تازہ کھانا نہیں گیا ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بطعام سخن فاكل فلما فرغ قال " الحمد لله ما دخل بطني طعام سخن منذ كذا وكذا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا، اور اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو خالد عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان ضجاع رسول الله صلى الله عليه وسلم ادما حشوه ليف
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی اور فاطمہ ( رضی اللہ عنہما ) کے پاس آئے، وہ دونوں اپنی «خمیل» ( سفید اونی چادر کو کہتے ہیں ) اوڑھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ چادر تھی، اذخر کی گھاس بھرا ایک تکیہ اور پانی رکھنے کی ایک مشک شادی کے وقت دی تھی۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن فضيل، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى عليا وفاطمة وهما في خميل لهما - والخميل القطيفة البيضاء من الصوف - قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم جهزهما بها ووسادة محشوة اذخرا وقربة
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، میں آ کر بیٹھ گیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک تہہ بند پہنے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ کوئی چیز آپ کے جسم پر نہیں ہے، چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے تھے، اور میں نے دیکھا کہ ایک صاع کے بقدر تھوڑا سا جو تھا، کمرہ کے ایک کونے میں ببول کے پتے تھے، اور ایک مشک لٹک رہی تھی، میری آنکھیں بھر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں، اس چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے ہیں، یہ آپ کا اثاثہ ( پونجی ) ہے جس میں بس یہ یہ چیزیں نظر آ رہی ہیں، اور وہ قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں آرام سے رہ رہے ہیں، آپ تو اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کے برگزیدہ ہیں، اور یہ آپ کی سارا اثاثہ ( پونجی ) ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے یہ سب کچھ آخرت میں ہو، اور ان کے لیے دنیا میں ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثني سماك الحنفي ابو زميل، حدثني عبد الله بن العباس، حدثني عمر بن الخطاب، قال دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حصير قال فجلست فاذا عليه ازار وليس عليه غيره واذا الحصير قد اثر في جنبه واذا انا بقبضة من شعير نحو الصاع وقرظ في ناحية في الغرفة واذا اهاب معلق فابتدرت عيناى فقال " ما يبكيك يا ابن الخطاب " . فقلت يا نبي الله وما لي لا ابكي وهذا الحصير قد اثر في جنبك وهذه خزانتك لا ارى فيها الا ما ارى وذلك كسرى وقيصر في الثمار والانهار وانت نبي الله وصفوته وهذه خزانتك . قال " يا ابن الخطاب الا ترضى ان تكون لنا الاخرة ولهم الدنيا " . قلت بلى
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ ) میرے پاس رخصت کی گئیں تو رخصتی کی رات ہمارا بستر صرف بھیڑ کی ایک کھال تھی۔
حدثنا محمد بن طريف، واسحاق بن ابراهيم بن حبيب، قالا حدثنا محمد بن فضيل، عن مجالد، عن عامر، عن الحارث، عن علي، قال اهديت ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم الى فما كان فراشنا ليلة اهديت الا مسك كبش
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ و خیرات کا حکم دیتے تو ہم میں سے ایک شخص حمالی کرنے جاتا، یہاں تک کہ ایک مد کما کر لاتا، ( اور صدقہ کر دیتا ) اور آج ان میں سے ایک کے پاس ایک لاکھ نقد موجود ہے، ابووائل شقیق کہتے ہیں: گویا کہ وہ اپنی ہی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وابو كريب قالا حدثنا ابو اسامة، عن زايدة، عن الاعمش، عن شقيق، عن ابي مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر بالصدقة فينطلق احدنا يتحامل حتى يجيء بالمد وان لاحدهم اليوم ماية الف . قال شقيق كانه يعرض بنفسه
خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منبر پر خطبہ سنایا اور کہا: میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب میں ان سات آدمیوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ ( اس کے پتے کھانے سے ) ہمارے مسوڑھے زخمی ہو جاتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن ابي نعامة، سمعه من، خالد بن عمير قال خطبنا عتبة بن غزوان على المنبر فقال لقد رايتني سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لنا طعام ناكله الا ورق الشجر حتى قرحت اشداقنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات کھجوریں دیں، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن عباس الجريري، قال سمعت ابا عثمان، يحدث عن ابي هريرة، انهم اصابهم جوع وهم سبعة قال فاعطاني النبي صلى الله عليه وسلم سبع تمرات لكل انسان تمرة
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا ( سورة اتكاثر: 8 ) نازل ہوئی، تو انہوں نے کہا: کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں: پانی اور کھجور ہی میسر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزبير بن العوام، عن ابيه، قال لما نزلت {ثم لتسالن يوميذ عن النعيم} قال الزبير واى نعيم نسال عنه وانما هو الاسودان التمر والماء . قال " اما انه سيكون
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو آدمیوں کو روانہ کیا، ہم نے اپنے توشے اپنی گردنوں پر لاد رکھے تھے، ہمارا توشہ ختم ہو گیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کو ایک کھجور ملتی، کسی نے پوچھا: ابوعبداللہ! ایک کھجور سے آدمی کا کیا ہوتا ہو گا؟ جواب دیا: جب وہ بھی ختم ہو گئی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی، ہم سمندر تک آئے، آخر ہمیں ایک مچھلی ملی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا، ہم اس میں سے اٹھارہ دن تک کھاتے رہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن ثلاثماية نحمل ازوادنا على رقابنا ففني ازوادنا حتى كان يكون للرجل منا تمرة . فقيل يا ابا عبد الله واين تقع التمرة من الرجل فقال لقد وجدنا فقدها حين فقدناها واتينا البحر فاذا نحن بحوت قد قذفه البحر فاكلنا منه ثمانية عشر يوما