Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اس وقت ہم اپنی ایک جھونپڑی درست کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا: یہ ہماری جھونپڑی ہے، ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں موت اس سے بھی جلد آ سکتی ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي السفر، عن عبد الله بن عمرو، قال مر علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نعالج خصا لنا فقال " ما هذا " . فقلت خص لنا وهى نحن نصلحه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ارى الامر الا اعجل من ذلك
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر بنے گنبد پر سے گزرے، تو سوال کیا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ گول گھر ہے، اس کو فلاں نے بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اس طرح خرچ ہو گا، وہ اپنے مالک کے لیے روز قیامت وبال ہو گا، انصاری کو اس کی خبر پہنچی، تو اس نے اس گھر کو ڈھا دیا، جب دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں وہ بنگلہ نہیں ہے، تو اس کے بارے میں سوال فرمایا تو بتایا گیا کہ جب اس کو آپ کی کہی ہوئی بات کی خبر پہنچی، تو اس نے اسے ڈھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، اللہ اس پر رحم کرے ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عيسى بن عبد الاعلى بن ابي فروة، حدثني اسحاق بن ابي طلحة، عن انس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبة على باب رجل من الانصار فقال " ما هذه " . قالوا قبة بناها فلان . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مال يكون هكذا فهو وبال على صاحبه يوم القيامة " . فبلغ الانصاري ذلك فوضعها فمر النبي صلى الله عليه وسلم بعد فلم يرها فسال عنها فاخبر انه وضعها لما بلغه عنك فقال " يرحمه الله يرحمه الله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں ( گھر بنانے میں ) کوئی مدد نہیں کی تھی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو نعيم، حدثنا اسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن ابيه، سعيد عن ابن عمر، قال لقد رايتني مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بنيت بيتا يكنني من المطر ويكنني من الشمس ما اعانني عليه خلق الله تعالى
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے، تو آپ کہنے لگے کہ میرا مرض طویل ہو گیا ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ تم موت کی تمنا نہ کرو تو میں ضرور اس کی آرزو کرتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے ، یا فرمایا: عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب، قال اتينا خبابا نعوده فقال لقد طال سقمي ولولا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تتمنوا الموت " . لتمنيته وقال " ان العبد ليوجر في نفقته كلها الا في التراب " . او قال " في البناء
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے ہی توکل ( بھروسہ ) کرو جیسا کہ اس پر توکل ( بھروسہ ) کرنے کا حق ہے، تو وہ تم کو ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے، وہ صبح میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن لهيعة، عن ابن هبيرة، عن ابي تميم الجيشاني، قال سمعت عمر، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لو انكم توكلتم على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير تغدو خماصا وتروح بطانا
ابنائے خالد حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، آپ کچھ مرمت کا کام کر رہے تھے تو ہم نے اس میں آپ کی مدد کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم روزی کی طرف سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، بیشک انسان کی ماں اس کو لال جنتی ہے، اس پر کھال نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اس کو رزق دیتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن سلام بن شرحبيل ابي شرحبيل، عن حبة، وسواء، ابنى خالد قالا دخلنا على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يعالج شييا فاعناه عليه فقال " لا تياسا من الرزق ما تهززت رءوسكما فان الانسان تلده امه احمر ليس عليه قشر ثم يرزقه الله عز وجل
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے دل میں دنیا کی ہر چیز کی خواہش ہوتی ہے، جس نے اپنا دل تمام خواہشات کے پیچھے لگا دیا، تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہیں کہ وہ اس کو کس وادی میں ہلاک کرے، اور جس نے اللہ پر بھروسہ کر لیا تو ہر طرح کی خواہش کی فکر اس سے جاتی رہے گی ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا ابو شعيب، صالح بن رزيق العطار حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجمحي، عن موسى بن على بن رباح، عن ابيه، عن عمرو بن العاص، قال قال رسول صلى الله عليه وسلم " ان من قلب ابن ادم بكل واد شعبة فمن اتبع قلبه الشعب كلها لم يبال الله باى واد اهلكه ومن توكل على الله كفاه التشعب
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان ( حسن ظن ) رکھتا ہو ۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يموتن احد منكم الا وهو يحسن الظن بالله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور و ناتواں مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں بھلائی ہے، تم اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں فائدہ پہنچائے، اور عاجز نہ بنو، اگر مغلوب ہو جاؤ تو کہو اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے، جو اس نے چاہا کیا، اور لفظ اگر مگر سے گریز کرو، کیونکہ اگر مگر شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ابن عجلان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن القوي خير واحب الى الله من المومن الضعيف وفي كل خير احرص على ما ينفعك ولا تعجز فان غلبك امر فقل قدر الله وما شاء فعل واياك واللو فان اللو تفتح عمل الشيطان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبد الوهاب، حدثنا عبد الله بن نمير، عن ابراهيم بن الفضل، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الكلمة الحكمة ضالة المومن حيثما وجدها فهو احق بها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں: صحت و تندرستی اور فرصت و فراغت ( کے ایام ) ۱؎۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا صفوان بن عيسى، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن ابيه، قال سمعت ابن عباس، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس الصحة والفراغ
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آ کر کہا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ بتائیے، اور مختصر نصیحت کیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ایسی نماز پڑھو گویا کہ دنیا سے جا رہے ہو، اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالو جس کے لیے آئندہ عذر کرنا پڑے، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے پوری طرح مایوس ہو جاؤ ۔
حدثنا محمد بن زياد، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، حدثني عثمان بن جبير، - مولى ابي ايوب - عن ابي ايوب، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله علمني واوجز . قال " اذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع ولا تكلم بكلام تعتذر منه واجمع الياس عما في ايدي الناس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر حکمت کی باتیں سنے، پھر اپنے ساتھی سے صرف بری بات بیان کرے، تو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کسی چرواہے کے پاس جائے، اور کہے: اے چرواہے! مجھے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ذبح کرنے کے لیے دو، چرواہا کہے: جاؤ اور ان میں سب سے اچھی بکری کا کان پکڑ کر لے جاؤ، تو وہ جائے اور بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتے کا کان پکڑ کر لے جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسن بن موسى، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن اوس بن خالد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل الذي يجلس يسمع الحكمة ثم لا يحدث عن صاحبه الا بشر ما يسمع كمثل رجل اتى راعيا فقال يا راعي اجزرني شاة من غنمك . قال اذهب فخذ باذن خيرها . فذهب فاخذ باذن كلب الغنم " . قال ابو الحسن بن سلمة حدثناه اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا موسى، حدثنا حماد، فذكر نحوه وقال فيه " باذن خيرها شاة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہیں داخل ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر و غرور ہو گا اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، ح وحدثنا علي بن ميمون الرقي، حدثنا سعيد بن مسلمة، جميعا عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر ولا يدخل النار من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، ( یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے ) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن الاغر ابي مسلم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله سبحانه الكبرياء ردايي والعظمة ازاري من نازعني واحدا منهما القيته في جهنم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند ہے، جو ان دونوں میں سے ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اس کو آگ میں ڈال دوں گا ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، وهارون بن اسحاق، قالا حدثنا عبد الرحمن المحاربي، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله سبحانه الكبرياء ردايي والعظمة ازاري فمن نازعني واحدا منهما القيته في النار
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ایک درجہ تواضع کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا، اور جو اللہ تعالیٰ پر ایک درجہ تکبر اختیار کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے کر دے گا، یہاں تک کہ اس کو تمام لوگوں سے نیچے درجہ میں کر دے گا ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، ان دراجا، حدثه عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من يتواضع لله سبحانه درجة يرفعه الله به درجة ومن يتكبر على الله درجة يضعه الله به درجة حتى يجعله في اسفل السافلين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر اہل مدینہ میں سے کوئی ایک باندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے، یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنی ضرورت کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الصمد، وسلم بن قتيبة، قالا حدثنا شعبة، عن علي بن زيد، عن انس بن مالك، قال ان كانت الامة من اهل المدينة لتاخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم فما ينزع يده من يدها حتى تذهب به حيث شاءت من المدينة في حاجتها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے کے پیچھے جاتے، غلام کی دعوت قبول کر لیتے، گدھے کی سواری کرتے، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا، آپ گدھے پر سوار تھے، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا جرير، عن مسلم الاعور، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود المريض ويشيع الجنازة ويجيب دعوة المملوك ويركب الحمار وكان يوم قريظة والنضير على حمار ويوم خيبر على حمار مخطوم برسن من ليف وتحته اكاف من ليف
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع و فروتنی اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے ۔
حدثنا احمد بن سعيد، حدثنا علي بن الحسين بن واقد، حدثنا ابي، عن مطر، عن قتادة، عن مطرف، عن عياض بن حمار، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه خطبهم فقال " ان الله عز وجل اوحى الى ان تواضعوا حتى لا يفخر احد على احد