Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عبد الله بن ابي عتبة، - مولى لانس بن مالك - عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اشد حياء من عذراء في خدرها وكان اذا كره شييا ريي ذلك في وجهه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله الرقي، حدثنا عيسى بن يونس، عن معاوية بن يحيى، عن الزهري، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لكل دين خلقا وخلق الاسلام الحياء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا اخلاق حیاء ہے ۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا سعيد بن محمد الوراق، حدثنا صالح بن حسان، عن محمد بن كعب القرظي، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لكل دين خلقا وان خلق الاسلام الحياء
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو ۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا جرير، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن عقبة بن عمرو ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مما ادرك الناس من كلام النبوة الاولى اذا لم تستحي فاصنع ما شيت
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» ( ظلم و زیادتی ) ہے اور «جفا» ( ظلم زیادتی ) کا بدلہ جہنم ہے ۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا هشيم، عن منصور، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحياء من الايمان والايمان في الجنة والبذاء من الجفاء والجفاء في النار
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےحیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیاء جس چیز میں ہو اس کو خوبصورت بنا دے گی ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما كان الفحش في شىء قط الا شانه ولا كان الحياء في شىء قط الا زانه
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني سعيد بن ابي ايوب، عن ابي مرحوم، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كظم غيظا وهو قادر على ان ينفذه دعاه الله على رءوس الخلايق يوم القيامة حتى يخيره في اى الحور شاء
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس قبیلہ عبدالقیس کے وفود آئے ہیں، اور کوئی اس وقت نظر نہیں آ رہا تھا، ہم اسی حال میں تھے کہ وہ آ پہنچے، اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، اشج عصری رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے، وہ بعد میں آئے، ایک مقام پر اترے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اشج! تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: ایک تو حلم و بردباری، دوسری طمانینت و سہولت، اشج رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صفات میری خلقت میں ہے یا نئی پیدا ہوئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ پیدائشی ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء الهمداني حدثنا يونس بن بكير، حدثنا خالد بن دينار الشيباني، عن عمارة العبدي، حدثنا ابو سعيد الخدري، قال كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اتتكم وفود عبد القيس " . وما يرى احد فبينا نحن كذلك اذ جاءوا فنزلوا فاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وبقي الاشج العصري فجاء بعد فنزل منزلا فاناخ راحلته ووضع ثيابه جانبا ثم جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا اشج ان فيك لخصلتين يحبهما الله الحلم والتودة " . قال يا رسول الله اشىء جبلت عليه ام شىء حدث لي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بل شىء جبلت عليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عصری رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں: ایک حلم اور دوسری حیاء ۔
حدثنا ابو اسحاق الهروي، حدثنا العباس بن الفضل الانصاري، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا ابو جمرة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال للاشج العصري " ان فيك خصلتين يحبهما الله الحلم والحياء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی گھونٹ پینے کا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے غصہ کا گھونٹ پینے کا ہے ۔
حدثنا زيد بن اخزم، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا حماد بن سلمة، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من جرعة اعظم اجرا عند الله من جرعة غيظ كظمها عبد ابتغاء وجه الله
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے، اور سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے، بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کو حق ہے کہ وہ چرچرائے، اس میں چار انگل کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، اور تم بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوتے، اور تم میدانوں کی طرف نکل جاتے اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے ، اللہ کی قسم! میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، انبانا عبيد الله بن موسى، انبانا اسراييل، عن ابراهيم بن مهاجر، عن مجاهد، عن مورق العجلي، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني ارى ما لا ترون واسمع ما لا تسمعون ان السماء اطت وحق لها ان تيط ما فيها موضع اربع اصابع الا وملك واضع جبهته ساجدا لله . والله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرشات ولخرجتم الى الصعدات تجارون الى الله " . والله لوددت اني كنت شجرة تعضد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا
عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ ان کے اسلام اور اس آیت «ولا يكونوا كالذين أوتوا الكتاب من قبل فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون» اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب عطا کی گئی، ان پر مدت طویل ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ( سورة الحديد: 16 ) کے نزول کے درمیان جس میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا ہے صرف چار سال کا وقفہ ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا محمد بن ابي فديك، عن موسى بن يعقوب الزمعي، عن ابي حازم، ان عامر بن عبد الله بن الزبير، اخبره ان اباه اخبره انه، لم يكن بين اسلامهم وبين ان نزلت هذه الاية يعاتبهم الله بها الا اربع سنين {ولا يكونوا كالذين اوتوا الكتاب من قبل فطال عليهم الامد فقست قلوبهم وكثير منهم فاسقون}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكثروا الضحك فان كثرة الضحك تميت القلب
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے سامنے قرآن کی تلاوت کرو ، تو میں نے آپ کے سامنے سورۃ نساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» تو اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور پھر ہم تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے ( سورة النساء: 41 ) پر پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اقرا على " . فقرات عليه بسورة النساء حتى اذا بلغت {فكيف اذا جينا من كل امة بشهيد وجينا بك على هولاء شهيدا} فنظرت اليه فاذا عيناه تدمعان
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنازے میں تھے، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور رونے لگے یہاں تک کہ مٹی گیلی ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائیو! اس جیسی کے لیے تیاری کر لو ۱؎۔
حدثنا القاسم بن زكريا بن دينار، حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا ابو رجاء الخراساني، عن محمد بن مالك، عن البراء، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فجلس على شفير القبر فبكى حتى بل الثرى ثم قال " يا اخواني لمثل هذا فاعدوا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رویا کرو، اگر رونا نہ آئے تو تکلف کر کے رؤو ۔
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابو رافع، عن ابن ابي مليكة، عن عبد الرحمن بن السايب، عن سعد بن ابي وقاص، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابكوا فان لم تبكوا فتباكوا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مومن کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو بہہ نکلیں، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، پھر وہ اس کے رخساروں پر بہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کر دے گا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، وابراهيم بن المنذر، قالا حدثنا ابن ابي فديك، حدثني حماد بن ابي حميد الزرقي، عن عون بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من عبد مومن يخرج من عينيه دموع وان كان مثل راس الذباب من خشية الله ثم تصيب شييا من حر وجهه - الا حرمه الله على النار
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ( سورة الومنون: 60 ) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا وكيع، عن مالك بن مغول، عن عبد الرحمن بن سعيد الهمداني، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله {والذين يوتون ما اتوا وقلوبهم وجلة} اهو الرجل الذي يزني ويسرق ويشرب الخمر قال " لا يا بنت ابي بكر - او يا بنت الصديق - ولكنه الرجل يصوم ويتصدق ويصلي وهو يخاف ان لا يتقبل منه
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن اسماعيل بن عمران الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني ابو عبد رب، قال سمعت معاوية بن ابي سفيان، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انما الاعمال كالوعاء اذا طاب اسفله طاب اعلاه واذا فسد اسفله فسد اعلاه