Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے، ( ایسے ہی بندے کے متعلق ) اللہ عزوجل فرماتا ہے: یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے ۔
حدثنا كثير بن عبيد الحمصي، حدثنا بقية، عن ورقاء بن عمر، حدثنا عبد الله بن ذكوان ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان العبد اذا صلى في العلانية فاحسن وصلى في السر فاحسن - قال الله عز وجل هذا عبدي حقا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، واسماعيل بن موسى، قالا حدثنا شريك بن عبد الله، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قاربوا وسددوا فانه ليس احد منكم بمنجيه عمله " . قالوا ولا انت يا رسول الله . قال " ولا انا الا ان يتغمدني الله برحمة منه وفضل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا ۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال الله عز وجل انا اغنى الشركاء عن الشرك فمن عمل لي عملا اشرك فيه غيري فانا منه بريء وهو للذي اشرك
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، وهارون بن عبد الله الحمال، واسحاق بن منصور، حدثنا محمد بن بكر البرساني، انبانا عبد الحميد بن جعفر، اخبرني ابي، عن زياد بن ميناء، عن ابي سعد بن ابي فضالة الانصاري، - وكان من الصحابة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا جمع الله الاولين والاخرين ليوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد من كان اشرك في عمل عمله لله فليطلب ثوابه من عند غير الله فان الله اغنى الشركاء عن الشرك
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن كثير بن زيد، عن ربيح بن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، عن ابي سعيد، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتذاكر المسيح الدجال فقال " الا اخبركم بما هو اخوف عليكم عندي من المسيح الدجال " . قال قلنا بلى . فقال " الشرك الخفي ان يقوم الرجل يصلي فيزين صلاته لما يرى من نظر رجل
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت کے بارے میں ڈر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج، چاند یا بتوں کی پوجا کریں گے، بلکہ وہ غیر اللہ کے لیے عمل کریں گے، اور دوسری چیز مخفی شہوت ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا رواد بن الجراح، عن عامر بن عبد الله، عن الحسن بن ذكوان، عن عبادة بن نسى، عن شداد بن اوس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخوف ما اتخوف على امتي الاشراك بالله اما اني لست اقول يعبدون شمسا ولا قمرا ولا وثنا ولكن اعمالا لغير الله وشهوة خفية
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں میں شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک کام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کرے گا، اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو كريب قالا حدثنا بكر بن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن المختار، عن محمد بن ابي ليلى، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من يسمع يسمع الله به ومن يراء يراء الله به
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکاری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر کرے گا، اور جو شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو رسوا اور ذلیل کرے گا ۔
حدثنا هارون بن اسحاق، حدثني محمد بن عبد الوهاب، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يراء يراء الله به ومن يسمع يسمع الله به
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہ حق میں لٹا دینے کی توفیق دی، دوسرا وہ جس کو علم و حکمت عطا کی تو وہ اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ومحمد بن بشر، قالا حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حسد الا في اثنتين رجل اتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق ورجل اتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشک و حسد کے لائق صرف دو لوگ ہیں: ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا، تو وہ اسے دن رات پڑھتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، تو وہ اسے دن رات ( نیک کاموں میں ) خرچ کرتا ہے ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، ومحمد بن عبد الله بن يزيد، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حسد الا في اثنتين رجل اتاه الله القران فهو يقوم به اناء الليل واناء النهار ورجل اتاه الله مالا فهو ينفقه اناء الليل واناء النهار
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو، اور صدقہ و خیرات گناہوں کو اسی طرح بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو، نماز مومن کا نور ہے اور روزہ آگ سے ڈھال ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، واحمد بن الازهر، قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن عيسى بن ابي عيسى الحناط، عن ابي الزناد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الحسد ياكل الحسنات كما تاكل النار الحطب والصدقة تطفي الخطيية كما يطفي الماء النار والصلاة نور المومن والصيام جنة من النار
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جس کے کرنے پر آخرت کے عذاب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تیار کر رکھا ہے دنیا میں بھی سزا دینی زیادہ لائق ہو سوائے بغاوت اور قطع رحمی کے ۱؎۔
حدثنا الحسين بن الحسن المروزي، انبانا عبد الله بن المبارك، وابن، علية عن عيينة بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ذنب اجدر ان يعجل الله لصاحبه العقوبة في الدنيا مع ما يدخر له في الاخرة - من البغى وقطيعة الرحم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا صالح بن موسى، عن معاوية بن اسحاق، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسرع الخير ثوابا البر وصلة الرحم واسرع الشر عقوبة البغى وقطيعة الرحم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شر سے آدمی کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلم بھائی کی تحقیر کرے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد المدني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن داود بن قيس، عن ابي سعيد، - مولى بني عامر - عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " حسب امري من الشر ان يحقر اخاه المسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، اور تم ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو ۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا عمرو بن الحارث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سنان بن سعد، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اوحى الى ان تواضعوا ولا يبغي بعضكم على بعض
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ جو (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ متقیوں کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اس بات کو جس میں کوئی مضائقہ نہ ہو، اس چیز سے بچنے کے لیے نہ چھوڑ دے جس میں برائی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا ابو عقيل، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثني ربيعة بن يزيد، وعطية بن قيس، عن عطية السعدي، - وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين حتى يدع ما لا باس به حذرا لما به الباس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صاف دل، زبان کا سچا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، صاف دل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرہیزگار صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا زيد بن واقد، حدثنا مغيث بن سمى، عن عبد الله بن عمرو، قال قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم اى الناس افضل قال " كل مخموم القلب صدوق اللسان " . قالوا صدوق اللسان نعرفه فما مخموم القلب قال " هو التقي النقي لا اثم فيه ولا بغى ولا غل ولا حسد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! ورع و تقویٰ والے بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار ہو جاؤ گے، قانع بن جاؤ، لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے ہو جاؤ گے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، مومن ہو جاؤ گے، پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو، مسلمان ہو جاؤ گے، اور کم ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن ابي رجاء، عن برد بن سنان، عن مكحول، عن واثلة بن الاسقع، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا هريرة كن ورعا تكن اعبد الناس وكن قنعا تكن اشكر الناس واحب للناس ما تحب لنفسك تكن مومنا واحسن جوار من جاورك تكن مسلما واقل الضحك فان كثرة الضحك تميت القلب
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں ہے، اور ( حرام سے ) رک جانے جیسی کوئی پرہیزگاری نہیں ہے، اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عالیٰ نسبی ( حسب و نسب والا ہونا ) نہیں ہے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن رمح، حدثنا عبد الله بن وهب، عن الماضي بن محمد، عن علي بن سليمان، عن القاسم بن محمد، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عقل كالتدبير ولا ورع كالكف ولا حسب كحسن الخلق
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالیٰ نسبی ( اچھے حسب و نسب والا ہونا ) مال ہے، اور کرم ( جود و سخا اور فیاضی ) تقویٰ ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا سلام بن ابي مطيع، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحسب المال والكرم التقوى