Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، ( راوی عثمان بن ابی شیبہ نے کلمہ کی جگہ آیت کہا ) اگر تمام لوگ اس کو اختیار کر لیں تو وہ ان کے لیے کافی ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! کون سی آیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نجات کا راستہ نکال دے گا ( سورۃ الطلاق: ۲ – ۳ ) ۔
حدثنا هشام بن عمار، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا المعتمر بن سليمان، عن كهمس بن الحسن، عن ابي السليل، ضريب بن نقير عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعرف كلمة - وقال عثمان اية - لو اخذ الناس كلهم بها لكفتهم " . قالوا يا رسول الله اية اية قال " ومن يتق الله يجعل له مخرجا
ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نباوہ یا بناوہ ( طائف کے قریب ایک مقام ہے ) میں خطبہ دیا، اور فرمایا: تم جلد ہی جنت والوں کو جہنم والوں سے تمیز کر لو گے ، لوگوں نے سوال کیا: کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کرنے سے تم ایک دوسرے کے اوپر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا نافع بن عمر الجمحي، عن امية بن صفوان، عن ابي بكر بن ابي زهير الثقفي، عن ابيه، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنبا او النباوة - قال والنباوة من الطايف - قال " يوشك ان تعرفوا اهل الجنة من اهل النار " . قالوا بم ذاك يا رسول الله . قال " بالثناء الحسن والثناء السيي انتم شهداء الله بعضكم على بعض
کلثوم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں اچھا کام کروں تو مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میں نے اچھا کام کیا، اور جب برا کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے برا کام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کیا ہے، اور جب وہ کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے تو سمجھ لو کہ تم نے برا کیا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن جامع بن شداد، عن كلثوم الخزاعي، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله كيف لي ان اعلم اذا احسنت اني قد احسنت واذا اسات اني قد اسات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قال جيرانك انك قد احسنت فقد احسنت واذا قالوا انك قد اسات فقد اسات
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: جب میں کوئی اچھا کام کروں تو کیسے سمجھوں کہ میں نے اچھا کام کیا ہے؟ اور جب برا کام کروں تو کیسے جانوں کہ میں نے برا کام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے، اور جب تمہارے پڑوسی کہیں کہ تم نے برا کام کیا ہے، تو سمجھ لو کہ تم نے برا کام کیا ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف لي ان اعلم اذا احسنت واذا اسات قال النبي صلى الله عليه وسلم : " اذا سمعت جيرانك يقولون قد احسنت فقد احسنت واذا سمعتهم يقولون : قد اسات فقد اسات
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، وزيد بن اخزم، قالا حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابو هلال، حدثنا عقبة بن ابي ثبيت، عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اهل الجنة من ملا الله اذنيه من ثناء الناس خيرا وهو يسمع، واهل النار من ملا اذنيه من ثناء الناس شرا وهو يسمع
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو مومن کے لیے نقد ( جلد ملنے والی ) خوشخبری ( بشارت ) ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال قلت له : الرجل يعمل العمل لله فيحبه الناس عليه قال : " ذلك عاجل بشرى المومن
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں کوئی عمل کرتا ہوں، لوگوں کو اس کی خبر ہوتی ہے، تو وہ میری تعریف کرتے ہیں، تو مجھے اچھا لگتا ہے، ( اس کے بارے میں فرمائیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دو اجر ہیں: پوشیدہ عمل کرنے کا اجر اور اعلانیہ کرنے کا اجر ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا سعيد بن سنان ابو سنان الشيباني، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رجل : يا رسول الله اني اعمل العمل فيطلع عليه فيعجبني قال : " لك اجران : اجر السر واجر العلانية
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہو گی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، قالا انبانا يحيى بن سعيد، ان محمد بن ابراهيم التيمي، اخبره انه، سمع علقمة بن وقاص، انه سمع عمر بن الخطاب، وهو يخطب الناس فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " انما الاعمال بالنيات ولكل امري ما نوى فمن كانت هجرته الى الله والى رسوله فهجرته الى الله والى رسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها، فهجرته الى ما هاجر اليه
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس امت کی مثال چار لوگوں جیسی ہے: ایک وہ شخص جس کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا، تو وہ اپنے علم کے مطابق اپنے مال میں تصرف کرتا ہے، اور اس کو حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، ایک وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا اور مال نہ دیا، تو وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس اس شخص کی طرح مال ہوتا تو میں بھی ایسے ہی کرتا جیسے یہ کرتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا لیکن علم نہیں، دیا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، ناحق خرچ کرتا ہے، اور ایک شخص ایسا ہے جس کو اللہ نے نہ علم دیا اور نہ مال، تو وہ کہتا ہے: کاش میرے پاس اس آدمی کے جیسا مال ہوتا تو میں اس ( تیسرے ) شخص کی طرح کرتا یعنی ناحق خرچ کرتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابي كبشة الانماري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " مثل هذه الامة كمثل اربعة نفر : رجل اتاه الله مالا وعلما فهو يعمل بعلمه في ماله ينفقه في حقه ورجل اتاه الله علما ولم يوته مالا فهو يقول : لو كان لي مثل هذا عملت فيه مثل الذي يعمل " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " فهما في الاجر سواء ورجل اتاه الله مالا ولم يوته علما فهو يخبط في ماله ينفقه في غير حقه ورجل لم يوته الله علما ولا مالا فهو يقول : لو كان لي مثل مال هذا عملت فيه مثل الذي يعمل " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " فهما في الوزر سواء " . حدثنا اسحاق بن منصور المروزي، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابن ابي كبشة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا ابو اسامة، عن مفضل، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن ابن ابي كبشة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۱؎۔
حدثنا احمد بن سنان، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا يزيد بن هارون، عن شريك، عن ليث، عن طاوس، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " انما يبعث الناس على نياتهم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔
حدثنا زهير بن محمد، انبانا زكريا بن عدي، انبانا شريك، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يحشر الناس على نياتهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چوکور لکیر کھینچی، اور اس کے بیچ میں ایک لکیر کھینچی، اور اس بیچ والی لکیر کے دونوں طرف بہت سی لکیریں کھینچیں، ایک لکیر چوکور لکیر سے باہر کھینچی اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ درمیانی لکیر انسان ہے، اور اس کے چاروں طرف جو لکیریں ہیں وہ عوارض ( بیماریاں ) ہیں، جو اس کو ہر طرف سے ڈستی یا نوچتی اور کاٹتی رہتی ہیں، اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری میں مبتلا ہو جاتا ہے، چوکور لکیر اس کی عمر ہے، جس نے احاطہٰ کر رکھا ہے اور باہر والی لکیر اس کی آرزو ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، : بكر بن خلف وابو بكر بن خلاد الباهلي قالا حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، حدثني ابي، عن ابي يعلى، عن الربيع بن خثيم، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم : انه خط خطا مربعا وخطا وسط الخط المربع وخطوطا الى جانب الخط الذي وسط الخط المربع وخطا خارجا من الخط المربع فقال : " اتدرون ما هذا " . قالوا : الله ورسوله اعلم . قال : " هذا الانسان الخط الاوسط وهذه الخطوط الى جنبه الاعراض تنهشه او تنهسه من كل مكان فان اخطاه هذا اصابه هذا والخط المربع الاجل المحيط والخط الخارج الامل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ابن آدم ( انسان ) ہے اور یہ اس کی موت ہے، اس کی گردن کے پاس، پھر اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا: اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا النضر بن شميل، انبانا حماد بن سلمة، عن عبيد الله بن ابي بكر، قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " هذا ابن ادم وهذا اجله عند قفاه " . وبسط يده امامه ثم قال : " وثم امله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کی محبت اور مال کی زیادتی کی محبت میں ۔
حدثنا ابو مروان، : محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " قلب الشيخ شاب في اثنتين : في حب الحياة وكثرة المال
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم ( انسان ) بوڑھا ہو جاتا ہے، اور اس کی دو خواہشیں جوان ہو جاتی ہیں: مال کی ہوس، اور عمر کی زیادتی کی تمنا ۔
حدثنا بشر بن معاذ الضرير، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يهرم ابن ادم ويشب منه اثنتان : الحرص على المال والحرص على العمر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ابن آدم ( انسان ) کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ ایک تیسری وادی اور ہو، مٹی کے علاوہ اس کے نفس کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لو ان لابن ادم واديين من مال لاحب ان يكون معهما ثالث ولا يملا نفسه الا التراب ويتوب الله على من تاب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سال سے ستر کے درمیان ہو گی، اور بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے ۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثني عبد الرحمن بن محمد المحاربي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " اعمار امتي ما بين الستين الى السبعين واقلهم من يجوز ذلك
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ( اللہ ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( دنیا سے ) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز ( تہجد ) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي سلمة، عن ام سلمة، قالت : والذي ذهب بنفسه صلى الله عليه وسلم ما مات حتى كان اكثر صلاته وهو جالس وكان احب الاعمال اليه، العمل الصالح الذي يدوم عليه العبد وان كان يسيرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: یہ کون ہے ؟ میں نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے ( نماز پڑھتی رہتی ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت : كانت عندي امراة فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال : " من هذه " . قلت : فلانة . لا تنام - تذكر من صلاحها - فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " مه عليكم بما تطيقون فوالله لا يمل الله حتى تملوا " . قالت : وكان احب الدين اليه الذي يدوم عليه صاحبه
حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حنظلہ! اگر ( اہل و عیال کے ساتھ ) تمہاری وہی کیفیت رہے جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے بستروں ( یا راستوں ) میں تم سے مصافحہ کریں، حنظلہ! یہ ایک گھڑی ہے، وہ ایک گھڑی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، عن سفيان، عن الجريري، عن ابي عثمان، عن حنظلة الكاتب التميمي الاسيدي، قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا الجنة والنار حتى كانا راى العين فقمت الى اهلي وولدي فضحكت ولعبت . قال : فذكرت الذي كنا فيه فخرجت فلقيت ابا بكر فقلت : نافقت، نافقت . فقال ابو بكر : انا لنفعله . فذهب حنظلة فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فقال : " يا حنظلة لو كنتم كما تكونون عندي لصافحتكم الملايكة على فرشكم - او على طرقكم - يا حنظلة ساعة وساعة