Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خود کو اتنے ہی کام کا مکلف کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے، خواہ وہ کم ہی ہو ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن لهيعة، حدثنا عبد الرحمن الاعرج، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اكلفوا من العمل ما تطيقون فان خير العمل ادومه وان قل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیر ٹھہرے، پھر واپس آئے، تو اس شخص کو اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا، پھر فرمایا: لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے ( ثواب دینے سے ) یہاں تک کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا يعقوب بن عبد الله الاشعري، عن عيسى بن جارية، عن جابر بن عبد الله، قال : مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل يصلي على صخرة فاتى ناحية مكة فمكث مليا ثم انصرف فوجد الرجل يصلي على حاله فقام فجمع يديه ثم قال : " يا ايها الناس عليكم بالقصد " . ثلاثا : " فان الله لا يمل حتى تملوا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم سے ان گناہوں کا بھی مواخذہ کیا جائے گا، جو ہم نے ( زمانہ ) جاہلیت میں کئے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہد اسلام میں نیک کام کئے ( دل سے اسلام لے آیا ) اس سے جاہلیت کے کاموں پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا، اور جس نے اسلام لا کر بھی برے کام کئے، ( کفر پر قائم رہا ہے ) تو اس سے اول و آخر دونوں برے اعمال پر مواخذہ کیا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا وكيع، وابي، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قلنا : يا رسول الله انواخذ بما كنا نفعل في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من احسن في الاسلام لم يواخذ بما كان في الجاهلية ومن اساء اخذ بالاول والاخر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: حقیر و معمولی گناہوں سے بچو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا بھی مواخذہ ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثني سعيد بن مسلم بن بانك، قال سمعت عامر بن عبد الله بن الزبير، يقول : حدثني عوف بن الحارث، عن عايشة، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يا عايشة اياك ومحقرات الاعمال فان لها من الله طالبا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ ( داغ ) لگ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، باز آ جائے اور مغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اور اگر وہ ( گناہ میں ) بڑھتا چلا جائے تو پھر وہ دھبہ بھی بڑھتا جاتا ہے، یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے: «كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون» ہرگز نہیں بلکہ ان کے برے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ پکڑ لیا ہے جو وہ کرتے ہیں ( سورة المطففين: 14 ) ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، والوليد بن مسلم، قالا حدثنا محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " ان المومن اذا اذنب كانت نكتة سوداء في قلبه فان تاب ونزع واستغفر صقل قلبه فان زاد زادت فذلك الران الذي ذكره الله في كتابه {كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون}
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبادت کرتے ہو، لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب تنہائی میں ہوں گے تو حرام کاموں کا ارتکاب کریں گے ۔
حدثنا عيسى بن يونس الرملي، حدثنا عقبة بن علقمة بن حديج المعافري، عن ارطاة بن المنذر، عن ابي عامر الالهاني، عن ثوبان، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال : " لاعلمن اقواما من امتي ياتون يوم القيامة بحسنات امثال جبال تهامة بيضا فيجعلها الله عز وجل هباء منثورا " . قال ثوبان : يا رسول الله صفهم لنا جلهم لنا ان لا نكون منهم ونحن لا نعلم . قال : " اما انهم اخوانكم ومن جلدتكم وياخذون من الليل كما تاخذون ولكنهم اقوام اذا خلوا بمحارم الله انتهكوها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام لوگوں کو زیادہ تر جنت میں داخل کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقویٰ ( اللہ تعالیٰ کا خوف ) اور حسن خلق ( اچھے اخلاق ) ، اور پوچھا گیا: کون سے کام زیادہ تر آدمی کو جہنم میں لے جائیں گے؟ فرمایا: دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ ۔
حدثنا هارون بن اسحاق، وعبد الله بن سعيد، قالا حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ابيه، وعمه، عن جده، عن ابي هريرة، قال : سيل النبي صلى الله عليه وسلم : ما اكثر ما يدخل الجنة قال : " التقوى وحسن الخلق " . وسيل : ما اكثر ما يدخل النار قال : " الاجوفان : الفم والفرج
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا ورقاء، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " ان الله عز وجل افرح بتوبة احدكم منه بضالته اذا وجدها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو تو ( اللہ تعالیٰ ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب المدني، حدثنا ابو معاوية، حدثنا جعفر بن برقان، عن يزيد بن الاصم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " لو اخطاتم حتى تبلغ خطاياكم السماء ثم تبتم لتاب عليكم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے ایسے ہی خوش ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کی سواری چٹیل میدان میں کھو جائے، وہ اس کو تلاش کرے یہاں تک کہ جب وہ تھک جائے تو کپڑے سے اپنا منہ ڈھانک کر لیٹ جائے، اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کے قدموں کی چاپ وہاں سے آتی سنے جہاں اسے کھویا تھا، وہ اپنے چہرے سے اپنا کپڑا اٹھائے تو دیکھے کہ اس کی سواری موجود ہے ۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لله افرح بتوبة عبده من رجل اضل راحلته بفلاة من الارض فالتمسها حتى اذا اعيى تسجى بثوبه فبينا هو كذلك اذ سمع وجبة الراحلة حيث فقدها فكشف الثوب عن وجهه فاذا هو براحلته
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو ۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا وهيب بن خالد، حدثنا معمر، عن عبد الكريم، عن ابي عبيدة بن عبد الله، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " التايب من الذنب كمن لا ذنب له
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے بنی آدم ( انسان ) گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا علي بن مسعدة، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " كل بني ادم خطاء وخير الخطايين التوابون
عبداللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ندامت ( شرمندگی ) توبہ ہے ، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت توبہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن عبد الكريم الجزري، عن زياد بن ابي مريم، عن ابن معقل، قال : دخلت مع ابي على عبد الله فسمعته يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الندم توبة " . فقال له ابي : انت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " الندم توبة " . قال : نعم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ ( عزوجل ) اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے جب تک اس کی جان حلق میں نہ آ جائے ۔
حدثنا راشد بن سعيد الرملي، انبانا الوليد بن مسلم، عن ابن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن جبير بن نفير، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " ان الله عز وجل ليقبل توبة العبد ما لم يغرغر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے ( سورۃ ہود: ۱۱۴ ) ، اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( خاص ) میرے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن حبيب، حدثنا المعتمر، سمعت ابي، حدثنا ابو عثمان، عن ابن مسعود، : ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر انه اصاب من امراة قبلة فجعل يسال عن كفارتها فلم يقل له شييا فانزل الله عز وجل {واقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذلك ذكرى للذاكرين} فقال الرجل : يا رسول الله الي هذه فقال : " هي لمن عمل بها من امتي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے اپنے اوپر بہت زیادتی کی تھی، ( یعنی گناہوں کا ارتکاب کیا تھا ) جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر مجھے پیس کر سمندر کی ہوا میں اڑا دینا، اللہ کی قسم! اگر میرا رب میرے اوپر قادر ہو گا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو کسی کو نہ دیا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے کہا کہ جو تو نے لیا ہے اسے حاضر کر، اتنے میں وہ کھڑا ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے اس کام پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر اور خوف نے اے رب! تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اسی وجہ سے معاف کر دیا ۔
حدثنا محمد بن يحيى، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، قال قال الزهري : الا احدثك بحديثين عجيبين : اخبرني حميد بن عبد الرحمن عن ابي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " اسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت اوصى بنيه فقال : اذا انا مت فاحرقوني ثم اسحقوني ثم ذروني في الريح في البحر فوالله لين قدر على ربي ليعذبني عذابا ما عذبه احدا . قال : ففعلوا به ذلك فقال للارض : ادي ما اخذت . فاذا هو قايم فقال له : ما حملك على ما صنعت قال : خشيتك - او مخافتك - يا رب . فغفر له لذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت اس بلی کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی جس کو اس نے باندھ رکھا تھا، وہ نہ اس کو کھانا دیتی تھی، اور نہ چھوڑتی ہی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے یہاں تک کہ وہ مر گئی ۔ زہری کہتے ہیں: ( ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ ) کوئی آدمی نہ اپنے عمل پر بھروسہ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہی ہو۔
قال الزهري وحدثني حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " دخلت امراة النار في هرة ربطتها فلا هي اطعمتها ولا هي ارسلتها تاكل من خشاش الارض حتى ماتت " . قال الزهري : ليلا يتكل رجل ولا يياس رجل
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندو! تم سب گناہ گار ہو سوائے اس کے جس کو میں بچائے رکھوں، تو تم مجھ سے مغفرت طلب کرو، میں تمہیں معاف کر دوں گا، اور تم میں سے جو جانتا ہے کہ میں مغفرت کی قدرت رکھتا ہوں اور وہ میری قدرت کی وجہ سے معافی چاہتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں، تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، تم مجھ ہی سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جس کو میں غنی ( مالدار ) کر دوں، تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں روزی دوں گا، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہ ہو گا، اور اگر یہ سب مل کر میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ بدبخت کی طرح ہو جائیں تو میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہ ہو گی، اور اگر تمہارے زندہ و مردہ، اول و آخر اور خشک و تر سب جمع ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں، تو میری سلطنت میں کوئی فرق واقع نہ ہو گا، مگر اس قدر جیسے تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے پر سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، یہ اس وجہ سے ہے کہ میں سخی ہوں، بزرگ ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا ہے، میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کہتا ہوں ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن موسى بن المسيب الثقفي، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ان الله تبارك وتعالى يقول يا عبادي كلكم مذنب الا من عافيت فسلوني المغفرة فاغفر لكم ومن علم منكم اني ذو قدرة على المغفرة فاستغفرني بقدرتي غفرت له، وكلكم ضال الا من هديت فسلوني الهدى اهدكم، وكلكم فقير الا من اغنيت فسلوني ارزقكم، ولو ان حيكم وميتكم واولكم واخركم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا فكانوا على قلب اتقى عبد من عبادي - لم يزد في ملكي جناح بعوضة، ولو اجتمعوا فكانوا على قلب اشقى عبد من عبادي لم ينقص من ملكي جناح بعوضة ولو ان حيكم وميتكم، واولكم واخركم ورطبكم ويابسكم اجتمعوا، فسال كل سايل منهم ما بلغت امنيته - ما نقص من ملكي الا كما لو ان احدكم مر بشفة البحر فغمس فيها ابرة ثم نزعها، ذلك باني جواد ماجد عطايي كلام اذا اردت شييا فانما اقول له : كن فيكون
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو توڑنے والی ( یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کیا کرو ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اكثروا ذكر هاذم اللذات " . يعني الموت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے ، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے ۔
حدثنا الزبير بن بكار، حدثنا انس بن عياض، حدثنا نافع بن عبد الله، عن فروة بن قيس، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابن عمر، انه قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءه رجل من الانصار فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال : يا رسول الله اى المومنين افضل قال : " احسنهم خلقا " . قال فاى المومنين اكيس قال : " اكثرهم للموت ذكرا واحسنهم لما بعده استعدادا اوليك الاكياس