احادیث
#4127
سنن ابن ماجہ - Asceticism and Detachment
خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي» سے «فتكون من الظالمين» اور ان لوگوں کو اپنے پاس سے مت نکال جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں … ( سورة الأنعام: 52 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہما آئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صہیب، بلال، عمار، اور خباب رضی اللہ عنہم جیسے کمزور حال مسلمانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا پایا، جب انہوں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف دیکھا تو ان کو حقیر جانا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تنہائی میں ملے، اور کہنے لگے: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک الگ مجلس مقرر کریں تاکہ عرب کو ہماری بزرگی اور بڑائی معلوم ہو، آپ کے پاس عرب کے وفود آتے رہتے ہیں، اگر وہ ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا دیکھ لیں گے تو یہ ہمارے لیے باعث شرم ہے، جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ ان مسکینوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کیجئیے، جب ہم چلے جائیں تو آپ چاہیں تو پھر ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے ان لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں اس سلسلے میں ایک تحریر لکھ دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کاغذ منگوایا اور علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے بلایا، ہم ایک طرف بیٹھے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: «ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شيء وما من حسابك عليهم من شيء فتطردهم فتكون من الظالمين» اور ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کریں جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں، ان کے حساب کی کوئی ذمے داری تمہارے اوپر نہیں ہے اور نہ تمہارے حساب کی کوئی ذمے داری ان پر ہے ( اگر تم ایسا کرو گے ) تو تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ) پھر اللہ تعالیٰ نے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہما کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: «وكذلك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا أهؤلاء من الله عليهم من بيننا أليس الله بأعلم بالشاكرين» اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمایا تاکہ وہ کہیں: کیا اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے انہیں پر احسان کیا ہے، کیا اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کو نہیں جانتا، ( سورۃ الأنعام: ۵۳ ) پھر فرمایا: «وإذا جاءك الذين يؤمنون بآياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة» جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہو: تم پر سلامتی ہو، تمہارے رب نے اپنے اوپر رحم کو واجب کر لیا ہے ( سورة الأنعام: 54 ) ۔ خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( اس آیت کے نزول کے بعد ) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے یہاں تک کہ ہم نے اپنا گھٹنا، آپ کے گھٹنے پر رکھ دیا اور آپ ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے، اور جب اٹھنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو جاتے، اور ہم کو چھوڑ دیتے ( اس سلسلے میں ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: «واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم» روکے رکھو اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کو یاد کرتے ہیں صبح اور شام، اور اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں، اور اپنی نگاہیں ان کی طرف سے مت پھیرو ( سورة الكهف: 28 ) -یعنی مالداروں کے ساتھ مت بیٹھو، تم دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہو، مت کہا مانو ان لوگوں کا جن کے دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دئیے ) اس سے مراد اقرع و عیینہ ہیں«واتبع هواه وكان أمره فرطا» انہوں نے اپنی خواہش کی پیروی کی اور ان کا معاملہ تباہ ہو گیا ( سورة الكهف: 28 ) ، یہاں «فرطا» کا معنی بیان کرتے ہوئے خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «هلاكا» اقرع اور عیینہ میں سے ہر ایک کا معاملہ تباہ ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دو آدمیوں کی مثال اور دنیوی زندگی کی مثال بیان فرمائی، خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتے تو جب آپ کے کھڑے ہونے کا وقت آتا تو پہلے ہم اٹھتے تب آپ اٹھتے۔
حدثنا احمد بن محمد بن يحيى بن سعيد القطان، حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، حدثنا اسباط بن نصر، عن السدي، عن ابي سعد الازدي، وكان، قاري الازد عن ابي الكنود، عن خباب، في قوله تعالى {ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي} الى قوله {فتكون من الظالمين} قال جاء الاقرع بن حابس التميمي وعيينة بن حصن الفزاري فوجدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم مع صهيب وبلال وعمار وخباب قاعدا في ناس من الضعفاء من المومنين فلما راوهم حول النبي صلى الله عليه وسلم حقروهم فاتوه فخلوا به وقالوا انا نريد ان تجعل لنا منك مجلسا تعرف لنا به العرب فضلنا فان وفود العرب تاتيك فنستحيي ان ترانا العرب مع هذه الاعبد فاذا نحن جيناك فاقمهم عنك فاذا نحن فرغنا فاقعد معهم ان شيت . قال " نعم " . قالوا فاكتب لنا عليك كتابا . قال فدعا بصحيفة ودعا عليا ليكتب ونحن قعود في ناحية فنزل جبراييل عليه السلام فقال {ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ما عليك من حسابهم من شىء وما من حسابك عليهم من شىء فتطردهم فتكون من الظالمين} ثم ذكر الاقرع بن حابس وعيينة بن حصن فقال {وكذلك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا اهولاء من الله عليهم من بيننا اليس الله باعلم بالشاكرين} . ثم قال {واذا جاءك الذين يومنون باياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة } . قال فدنونا منه حتى وضعنا ركبنا على ركبته وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس معنا فاذا اراد ان يقوم قام وتركنا فانزل الله {واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم} ولا تجالس الاشراف {تريد زينة الحياة الدنيا ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذكرنا} - يعني عيينة والاقرع - {واتبع هواه وكان امره فرطا } - قال هلاكا - قال امر عيينة والاقرع . ثم ضرب لهم مثل الرجلين ومثل الحياة الدنيا . قال خباب فكنا نقعد مع النبي صلى الله عليه وسلم فاذا بلغنا الساعة التي يقوم فيها قمنا وتركناه حتى يقوم
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Asceticism and Detachment
- Hadith Index
- #4127
- Book Index
- 28
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
