Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے میری امت کے ایک شخص کی پکار ہو گی، اور اس کے ننانوے دفتر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہو گا، پھر اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ وہ کہے گا: نہیں، اے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میرے محافظ کاتبوں نے تم پر ظلم کیا ہے؟ پھر فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی نیکی بھی ہے؟ وہ آدمی ڈر جائے گا، اور کہے گا: نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں، ہمارے پاس کئی نیکیاں ہیں، اور آج کے دن تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» لکھا ہو گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا، پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، وہ سارے دفتر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچہ بھاری ہو گا ۱؎۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں:«بطاقہ» پرچے کو کہتے ہیں، اہل مصر رقعہ کو «بطاقہ» کہتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا الليث، حدثني عامر بن يحيى، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، قال سمعت عبد الله بن عمرو، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يصاح برجل من امتي يوم القيامة على رءوس الخلايق فينشر له تسعة وتسعون سجلا كل سجل مد البصر ثم يقول الله عز وجل هل تنكر من هذا شييا فيقول لا يا رب فيقول اظلمتك كتبتي الحافظون ثم يقول الك عذر الك حسنة فيهاب الرجل فيقول لا . فيقول بلى ان لك عندنا حسنات وانه لا ظلم عليك اليوم فتخرج له بطاقة فيها اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله قال فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات فيقول انك لا تظلم . فتوضع السجلات في كفة والبطاقة في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة " . قال محمد بن يحيى البطاقة الرقعة واهل مصر يقولون للرقعة بطاقة
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ایک حوض ہے، کعبہ سے لے کر بیت المقدس تک، دودھ جیسا سفید ہے، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں، اور قیامت کے دن میرے پیروکار اور متبعین تمام انبیاء کے پیروکاروں اور متبعین سے زیادہ ہوں گے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا زكريا، حدثنا عطية، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان لي حوضا ما بين الكعبة وبيت المقدس ابيض مثل اللبن انيته عدد النجوم واني لاكثر الانبياء تبعا يوم القيامة
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اس حوض سے کچھ لوگوں کو ایسے ہی دھتکاروں اور بھگاؤں گا جیسے کوئی آدمی اجنبی اونٹ کو اپنے حوض سے دھتکارتا اور بھگاتا ہے ، سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم میرے پاس اس حالت میں آؤ گے کہ تمہارے ہاتھ اور منہ وضو کے نشان سے روشن ہوں گے، اور یہ نشان تمہارے علاوہ اور کسی کا نہیں ہو گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن ابي مالك، سعد بن طارق عن ربعي، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان حوضي لابعد من ايلة الى عدن والذي نفسي بيده لانيته اكثر من عدد النجوم ولهو اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل والذي نفسي بيده اني لاذود عنه الرجال كما يذود الرجل الابل الغريبة عن حوضه " . قيل يا رسول الله اتعرفنا قال " نعم تردون على غرا محجلين من اثر الوضوء ليست لاحد غيركم
ابوسلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھ کو بلا بھیجا، میں ان کے پاس ڈاک کے گھوڑے پر بیٹھ کر آیا، جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا: اے ابو سلام! ہم نے آپ کو زحمت دی کہ آپ کو تیز سواری سے آنا پڑا، میں نے کہا: بیشک، اللہ کی قسم! اے امیر المؤمنین! ( ہاں واقعی تکلیف ہوئی ہے ) ، انہوں نے کہا، اللہ کی قسم، میں آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن مجھے پتا چلا کہ آپ ثوبان رضی اللہ عنہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ) سے حوض کوثر کے بارے میں ایک حدیث روایت کرتے ہیں تو میں نے چاہا کہ یہ حدیث براہ راست آپ سے سن لوں، تو میں نے کہا کہ مجھ سے ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن سے ایلہ تک کا فاصلہ، دودھ سے زیادہ سفید، اور شہد سے زیادہ میٹھا، اس کی پیالیاں آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہیں، جو شخص اس میں سے ایک گھونٹ پی لے گا کبھی پیاسا نہ ہو گا، اور سب سے پہلے جو لوگ میرے پاس آئیں گے ( پانی پینے ) وہ میلے کچیلے کپڑوں اور پراگندہ بالوں والے فقراء مہاجرین ہوں گے، جو ناز و نعم میں پلی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے ۔ ابو سلام کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھی تر ہو گئی، پھر بولے: میں نے تو ناز و نعم والی عورتوں سے نکاح بھی کیا، اور میرے لیے دروازے بھی کھلے، اب میں جو کپڑا پہنوں گا، اس کو ہرگز نہ دھووں گا، جب تک وہ میلا نہ ہو جائے، اور اپنے سر میں تیل نہ ڈالوں گا جب تک کہ وہ پراگندہ نہ ہو جائے۔
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا محمد بن مهاجر، حدثني العباس بن سالم الدمشقي، نبيت عن ابي سلام الحبشي، قال بعث الى عمر بن عبد العزيز فاتيته على بريد فلما قدمت عليه قال لقد شققنا عليك يا ابا سلام في مركبك . قال اجل والله يا امير المومنين . قال والله ما اردت المشقة عليك ولكن حديث بلغني انك تحدث به عن ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحوض فاحببت ان تشافهني به . قال فقلت حدثني ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان حوضي ما بين عدن الى ايلة اشد بياضا من اللبن واحلى من العسل اوانيه كعدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظما بعدها ابدا واول من يرده على فقراء المهاجرين الدنس ثيابا والشعث رءوسا الذين لا ينكحون المنعمات ولا يفتح لهم السدد " . قال فبكى عمر حتى اخضلت لحيته ثم قال لكني قد نكحت المنعمات وفتحت لي السدد لا جرم اني لا اغسل ثوبي الذي على جسدي حتى يتسخ ولا ادهن راسي حتى يشعث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے حوض کے دونوں کناروں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا صنعاء اور مدینہ میں یا مدینہ و عمان میں ہے ۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابي، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما بين ناحيتى حوضي كما بين صنعاء والمدينة او كما بين المدينة وعمان
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حوض کوثر پر چاندی اور سونے کے جگ آسمان کے تاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، قال قال انس بن مالك قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " يرى فيه اباريق الذهب والفضة كعدد نجوم السماء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں آئے، اور قبر والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله تعالى بكم لاحقون» اے مومن قوم کے گھر والو! آپ پر سلامتی ہو، ان شاءاللہ ہم آپ لوگوں سے جلد ہی ملنے والے ہیں ، پھر فرمایا: میری آرزو ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ فرمایا: تم سب میرے اصحاب ہو، میرے بھائی وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کی امت میں سے جو لوگ ابھی نہیں آئے ہیں آپ ان کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ آدمی جس کے گھوڑے سفید پیشانی، اور سفید ہاتھ پاؤں والے ہوں خالص کالے گھوڑوں کے بیچ میں ان کو نہیں پہچانے گا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اخوان قیامت کے دن وضو کے نشانات سے ( اسی طرح ) سفید پیشانی، اور سفید ہاتھ پاؤں ہو کر آئیں گے ، پھر فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا کچھ لوگ میرے حوض سے بھولے بھٹکے اونٹ کی طرح ہانک دئیے جائیں گے، میں انہیں پکاروں گا کہ ادھر آؤ، تو کہا جائے گا کہ انہوں نے تمہارے بعد دین کو بدل دیا، اور وہ الٹے پاؤں لوٹ جائیں گے، میں کہوں گا: خبردار! دور ہٹو، دور ہٹو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه اتى المقبرة فسلم على المقبرة فقال " السلام عليكم دار قوم مومنين وانا ان شاء الله تعالى بكم لاحقون " . ثم قال " وددت انا قد راينا اخواننا " . قالوا يا رسول الله اولسنا اخوانك قال " انتم اصحابي واخواني الذين ياتون من بعدي وانا فرطكم على الحوض " . قالوا يا رسول الله كيف تعرف من لم يات من امتك قال " ارايتم لو ان رجلا له خيل غر محجلة بين ظهرانى خيل دهم بهم الم يكن يعرفها " . قالوا بلى . قال " فانهم ياتون يوم القيامة غرا محجلين من اثار الوضوء " . قال " انا فرطهم على الحوض " . ثم قال الا ليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعير الضال فاناديهم الا هلموا . فيقال انهم قد بدلوا بعدك ولم يزالوا يرجعون على اعقابهم . فاقول الا سحقا سحقا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی ( اپنی امت کے سلسلے میں ) ایک دعا ہوتی ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے، تو ہر نبی نے جلدی سے دنیا ہی میں اپنی دعا پوری کر لی، اور میں نے اپنی دعا کو چھپا کر اپنی امت کی شفاعت کے لیے رکھ چھوڑا ہے، تو میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو اس حال میں مرا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا رہا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكل نبي دعوة مستجابة فتعجل كل نبي دعوته واني اختبات دعوتي شفاعة لامتي فهي نايلة من مات منهم لا يشرك بالله شييا
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ فخریہ نہیں کہتا، قیامت کے دن زمین سب سے پہلے میرے لیے پھٹے گی، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا، میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی، اور میں فخریہ نہیں کہتا، حمد کا جھنڈا قیامت کے دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں یہ فخریہ نہیں کہتا ۔
حدثنا مجاهد بن موسى، وابو اسحاق الهروي ابراهيم بن عبد الله بن حاتم قالا حدثنا هشيم، انبانا علي بن زيد بن جدعان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا سيد ولد ادم ولا فخر وانا اول من تنشق الارض عنه يوم القيامة ولا فخر وانا اول شافع واول مشفع ولا فخر ولواء الحمد بيدي يوم القيامة ولا فخر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم والے جن کا ٹھکانا جہنم ہی ہے، وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے، لیکن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم کی آگ پکڑ لے گی، اور ان کو مار ڈالے گی یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے، تو ان کی شفاعت کا حکم ہو گا، پھر وہ گروہ در گروہ لائے جائیں گے اور جنت کی نہروں پر پھیلائے جائیں گے، کہا جائے گا: اے جنتیو! ان پر پانی ڈالو تو وہ نالی میں دانے کے اگنے کی طرح اگیں گے ، راوی کہتے ہیں کہ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادیہ ( دیہات ) میں بھی رہ چکے ہیں۔
حدثنا نصر بن علي، واسحاق بن ابراهيم بن حبيب، قالا حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا سعيد بن يزيد، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما اهل النار الذين هم اهلها فانهم لا يموتون فيها ولا يحيون ولكن ناس اصابتهم النار بذنوبهم او بخطاياهم فاماتتهم اماتة حتى اذا كانوا فحما اذن لهم في الشفاعة فجيء بهم ضباير ضباير فبثوا على انهار الجنة فقيل يا اهل الجنة افيضوا عليهم فينبتون نبات الحبة تكون في حميل السيل " . قال فقال رجل من القوم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان في البادية
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت قیامت کے دن میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہو گی ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا زهير بن محمد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان شفاعتي يوم القيامة لاهل الكباير من امتي
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا کہ شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل ہونے میں سے ایک چیز چن لوں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا، کیونکہ وہ عام ہو گی اور کافی ہو گی، کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ شفاعت متقیوں کے لیے ہے؟ نہیں، بلکہ یہ ایسے گناہگاروں کے لیے ہے جو غلطی کرنے والے اور گناہوں سے آلودہ ہوں گے ۔
حدثنا اسماعيل بن اسد، حدثنا ابو بدر، حدثنا زياد بن خيثمة، عن نعيم بن ابي هند، عن ربعي بن حراش، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خيرت بين الشفاعة وبين ان يدخل نصف امتي الجنة فاخترت الشفاعة لانها اعم واكفى اترونها للمتقين لا ولكنها للمذنبين الخطايين المتلوثين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن قیامت کے دن جمع ہوں گے اور ان کے دلوں میں ڈال دیا جائے گا، یا وہ سوچنے لگیں گے، ( یہ شک راوی حدیث سعید کو ہوا ہے ) ، تو وہ کہیں گے: اگر ہم کسی کی سفارش اپنے رب کے پاس لے جاتے تو وہ ہمیں اس حالت سے راحت دے دیتا، وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، سارے انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنے فرشتوں سے آپ کا سجدہ کرایا، تو آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئیے کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دیدے، آپ فرمائیں گے: میں اس قابل نہیں ہوں – آپ اپنے کئے ہوئے گناہ کو یاد کر کے اس کا شکوہ ان لوگوں کے سامنے کریں گے، اور اس بات سے شرمندہ ہوں گے، پھر فرمائیں گے: لیکن تم سب نوح کے پاس جاؤ اس لیے کہ وہ پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کے پاس بھیجا، وہ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو آپ ان سے کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں کہ اللہ کے حضور جاؤں، اور آپ اپنے اس سوال کو یاد کر کے شرمندہ ہوں گے جو آپ نے اپنے رب سے اس چیز کے بارے میں کیا تھا جس کا آپ کو علم نہیں تھا – پھر کہیں گے کہ لیکن تم سب ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ، وہ سب ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو آپ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، لیکن تم سب موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ ایسے بندے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کی، اور ان کو تورات عطا کی، وہ سب ان کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ( وہ اپنا وہ قتل یاد کریں گے جو ان سے بغیر کسی خون کے مقابل ہو گیا تھا ) ، لیکن تم سب عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اور اس کا کلمہ و روح ہیں، وہ سب ان کے پاس آئیں گے، تو وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، لیکن تم سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ میرے پاس آئیں گے تو میں چلوں گا ( حسن کی روایت کے مطابق مومنوں کی دونوں صفوں کے درمیان چلوں گا ) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، تو مجھے اجازت دے دی جائے گی، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، اور کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، میں اس کی حمد بیان کروں گا جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اللہ تعالیٰ ان سب کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں دوبارہ لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا، تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، تم کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کی تعریف کروں گا، جس طرح وہ مجھے سکھائے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی، اور وہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں تیسری بار لوٹوں گا، جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا، میں اس کے آگے سجدے میں اس وقت تک رہوں گا، جب تک وہ اس حالت میں مجھے چھوڑے رکھے گا، پھر حکم ہو گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہو گی، میں اپنا سر اٹھاؤں گا، اس کے سکھائے ہوئے طریقے سے اس کی حمد کروں گا، پھر میں شفاعت کروں گا، میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، پھر ان کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا، پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا، اور کہوں گا: اے میرے رب! اب تو کوئی باقی نہیں ہے، سوائے اس کے جس کو قرآن نے روکا ہے یعنی جو قرآن کی تعلیمات کی رو سے جہنم کے لائق ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے وہ شخص بھی نکل آئے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں جو کے برابر بھی نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ برابر نیکی ہو گی، اور وہ شخص بھی نکلے گا جس نے «لا إله إلا الله» کہا، اور اس کے دل میں ذرہ برابر نیکی ہو گی ۱؎۔
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تین طرح کے لوگ شفاعت کر سکیں گے: انبیاء، علماء پھر شہداء ۔
حدثنا سعيد بن مروان، حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عنبسة بن عبد الرحمن، عن علاق بن ابي مسلم، عن ابان بن عثمان، عن عثمان بن عفان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يشفع يوم القيامة ثلاثة الانبياء ثم العلماء ثم الشهداء
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو میں نبیوں کا امام اور ان کا خطیب مقرر ہوں گا، اور ان کی سفارش کرنے والا ہوں گا، میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہہ رہا ہوں ۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله الرقي، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن الطفيل بن ابى بن كعب، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان يوم القيامة كنت امام النبيين وخطيبهم وصاحب شفاعتهم غير فخر
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں سے ایک گروہ میری شفاعت کی وجہ سے باہر آئے گا، ان کا نام جہنمی ہو گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الحسين بن ذكوان، عن ابي رجاء العطاردي، عن عمران بن الحصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليخرجن قوم من النار بشفاعتي يسمون الجهنميين
عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کے نتیجہ میں بنو تمیم سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے علاوہ ( یعنی وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، میرے علاوہ، ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی الجدعا رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے آپ ہی سے سنی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا وهيب، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شقيق، عن عبد الله بن ابي الجذعاء، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ليدخلن الجنة بشفاعة رجل من امتي اكثر من بني تميم " . قالوا يا رسول الله سواك قال " سواى " . قلت انت سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال انا سمعته
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا ابن جابر، قال سمعت سليم بن عامر، يقول سمعت عوف بن مالك الاشجعي، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتدرون ما خيرني ربي الليلة " . قلنا الله ورسوله اعلم قال " فانه خيرني بين ان يدخل نصف امتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة " . قلنا يا رسول الله ادع الله ان يجعلنا من اهلها . قال " هي لكل مسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہاری یہ آگ جہنم کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، اور اگر یہ دو مرتبہ پانی سے نہ بجھائی جاتی تو تم اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے، اور یہ آگ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ دوبارہ اس کو جہنم میں نہ ڈالا جائے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ويعلى، قالا حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن نفيع ابي داود، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ناركم هذه جزء من سبعين جزءا من نار جهنم ولولا انها اطفيت بالماء مرتين ما انتفعتم بها وانها لتدعو الله عز وجل ان لا يعيدها فيها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھا لیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانسیں عطا کیں: ایک سانس سردی میں، دوسری گرمی میں، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشتكت النار الى ربها فقالت يا رب اكل بعضي بعضا . فجعل لها نفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فشدة ما تجدون من البرد من زمهريرها وشدة ما تجدون من الحر من سمومها
حدثنا نصر بن علي، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يجتمع المومنون يوم القيامة يلهمون - او يهمون شك سعيد - فيقولون لو تشفعنا الى ربنا فاراحنا من مكاننا فياتون ادم فيقولون انت ادم ابو الناس خلقك الله بيده واسجد لك ملايكته فاشفع لنا عند ربك يرحنا من مكاننا هذا . فيقول لست هناكم - ويذكر ويشكو اليهم ذنبه الذي اصاب فيستحيي من ذلك - ولكن ايتوا نوحا فانه اول رسول بعثه الله الى اهل الارض فياتونه فيقول لست هناكم - ويذكر سواله ربه ما ليس له به علم ويستحيي من ذلك - ولكن ايتوا خليل الرحمن ابراهيم فياتونه فيقول لست هناكم ولكن ايتوا موسى عبدا كلمه الله واعطاه التوراة . فياتونه فيقول لست هناكم - ويذكر قتله النفس بغير النفس - ولكن ايتوا عيسى عبد الله ورسوله وكلمة الله وروحه . فياتونه فيقول لست هناكم ولكن ايتوا محمدا عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تاخر . قال فياتوني فانطلق - قال فذكر هذا الحرف عن الحسن . قال فامشي بين السماطين من المومنين . قال ثم عاد الى حديث انس - قال " فاستاذن على ربي فيوذن لي فاذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقال ارفع يا محمد وقل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فاحمده بتحميد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فيدخلهم الجنة ثم اعود الثانية فاذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقال لي ارفع محمد قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فارفع راسي فاحمده بتحميد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فيدخلهم الجنة ثم اعود الثالثة فاذا رايت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقال ارفع محمد قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فارفع راسي فاحمده بتحميد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فيدخلهم الجنة ثم اعود الرابعة فاقول يا رب ما بقي الا من حبسه القران " . يقول قتادة على اثر هذا الحديث وحدثنا انس بن مالك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يخرج من النار من قال لا اله الا الله وكان في قلبه مثقال شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا اله الا الله وكان في قلبه مثقال برة من خير ويخرج من النار من قال لا اله الا الله وكان في قلبه مثقال ذرة من خير