Loading...

Loading...
کتب
۲۴۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو اس کی آگ سفید ہو گئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سرخ ہو گئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سیاہ ہو گئی، اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہے ۔
حدثنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا شريك، عن عاصم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اوقدت النار الف سنة فابيضت ثم اوقدت الف سنة فاحمرت ثم اوقدت الف سنة فاسودت فهي سوداء كالليل المظلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہو گا، اور کہا جائے گا: اس کو جہنم میں ایک غوطہٰ دو، اس کو ایک غوطہٰ جہنم میں دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہو گا، اس کو جنت کا ایک غوطہٰ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی ۔
حدثنا الخليل بن عمرو، حدثنا محمد بن سلمة الحراني، عن محمد بن اسحاق، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوتى يوم القيامة بانعم اهل الدنيا من الكفار فيقال اغمسوه في النار غمسة . فيغمس فيها ثم يقال له اى فلان هل اصابك نعيم قط فيقول لا ما اصابني نعيم قط . ويوتى باشد المومنين ضرا وبلاء . فيقال اغمسوه غمسة في الجنة . فيغمس فيها غمسة فيقال له اى فلان هل اصابك ضر قط او بلاء فيقول ما اصابني قط ضر ولا بلاء
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہو گا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا بكر بن عبد الرحمن، حدثنا عيسى بن المختار، عن محمد بن ابي ليلى، عن عطية العوفي، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الكافر ليعظم حتى ان ضرسه لاعظم من احد وفضيلة جسده على ضرسه كفضيلة جسد احدكم على ضرسه
عبداللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں ایک رات ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، تو ہمارے پاس حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ آئے، اس رات حارث نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایسا شخص بھی ہو گا جس کی شفاعت سے مضر قبیلے سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے، اور میری امت میں سے ایسا شخص ہو گا جو جہنم کے لیے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ وہ جہنم کا ایک کونہ ہو جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن داود بن ابي هند، حدثنا عبد الله بن قيس، قال كنت عند ابي بردة ذات ليلة فدخل علينا الحارث بن اقيش فحدثنا الحارث، ليلتيذ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من امتي من يدخل الجنة بشفاعته اكثر من مضر وان من امتي من يعظم للنار حتى يكون احد زواياها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں پر رونا آزاد چھوڑ دیا جائے گا، وہ روئیں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہو جائیں گے، پھر وہ خون روئیں گے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر گڑھے بن جائیں گے، اگر ان میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ تیرنے لگیں ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن عبيد، عن الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرسل البكاء على اهل النار فيبكون حتى ينقطع الدموع ثم يبكون الدم حتى يصير في وجوههم كهيية الاخدود لو ارسلت فيه السفن لجرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ( آل عمران: ۱۰۲ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم ( تھوہڑ ) کا ایک قطرہ ( جہنمیوں کی خوراک ) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم {يا ايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون } " ولو ان قطرة من الزقوم قطرت في الارض لافسدت على اهل الدنيا معيشتهم فكيف بمن ليس له طعام غيره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے ۔
حدثنا محمد بن عبادة الواسطي، حدثنا يعقوب بن محمد الزهري، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تاكل النار ابن ادم الا اثر السجود حرم الله على النار ان تاكل اثر السجود
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، اور پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوف زدہ اور ڈرے ہوئے اوپر چڑھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ خوش خوش اوپر آئیں گے کہ وہ اپنے مقام سے نکالے جا رہے ہیں، پھر کہا جائے گا: کیا تم اس کو جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، فرمایا: پھر حکم ہو گا تو وہ پل صراط پر ذبح کر دی جائے گی، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اب دونوں گروہ اپنے اپنے مقام میں ہمیشہ رہیں گے، اور موت کبھی نہیں آئے گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوتى بالموت يوم القيامة فيوقف على الصراط فيقال يا اهل الجنة . فيطلعون خايفين وجلين ان يخرجوا من مكانهم الذي هم فيه ثم يقال يا اهل النار فيطلعون مستبشرين فرحين ان يخرجوا من مكانهم الذي هم فيه فيقال هل تعرفون هذا قالوا نعم هذا الموت . قال فيومر به فيذبح على الصراط ثم يقال للفريقين كلاهما خلود فيما تجدون لا موت فيه ابدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمت تیار کر رکھی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو تم کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور بھی نعمتیں ہیں، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے، یہ بدلہ ہے اس کے نیک اعمال کا ( سورۃ السجدۃ: ۱۷ ) ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کو «قرآت أعين» ( یعنی جمع کا صیغہ ) پڑھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله عز وجل اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رات ولا اذن سمعت ولا خطر على قلب بشر " . قال ابو هريرة ومن بله ما قد اطلعكم الله عليه اقرءوا ان شيتم {فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون } قال وكان ابو هريرة يقروها من قرات اعين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک بالشت کی جگہ زمین یا زمین پر موجود تمام چیزوں میں یعنی «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن حجاج، عن عطية، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لشبر في الجنة خير من الارض وما عليها - الدنيا وما فيها
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے کی جگہ «دنيا وما فيها» سے بہتر ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا زكريا بن منظور، حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کا فاصلہ زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اس کا سب سے اونچا درجہ فردوس ہے، اور سب سے عمدہ بھی فردوس ہے اور عرش بھی فردوس پر ہے، اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگو ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا حفص بن ميسرة، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، ان معاذ بن جبل، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الجنة ماية درجة كل درجة منها ما بين السماء والارض وان اعلاها الفردوس وان اوسطها الفردوس وان العرش على الفردوس منها تفجر انهار الجنة فاذا ما سالتم الله فسلوه الفردوس
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا کوئی جنت کے لیے کمر نہیں باندھتا؟ اس لیے کہ جنت جیسی کوئی اور چیز نہیں ہے، رب کعبہ کی قسم، وہ چمکتا ہوا نور ہے، خوشبودار پھول ہے جو جھوم رہا ہے، مضبوط محل ہے، بہتی نہر ہے، وہاں بہت سارے پکے ہوئے میوے اور تیار پھل ہیں، خوبصورت اور خوش اخلاق بیویاں ہیں، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں، ہمیشگی کا مقام ہے، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے، اونچا، محفوظ اور روشن محل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس کے لیے کمر باندھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: کہو، ان شاءاللہ، پھر جہاد کا ذکر کیا، اور اس کی رغبت دلائی ۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا محمد بن مهاجر الانصاري، حدثني الضحاك المعافري، عن سليمان بن موسى، عن كريب، - مولى ابن عباس - قال حدثني اسامة بن زيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم لاصحابه " الا مشمر للجنة فان الجنة لا خطر لها هي ورب الكعبة نور يتلالا وريحانة تهتز وقصر مشيد ونهر مطرد وفاكهة كثيرة نضيجة وزوجة حسناء جميلة وحلل كثيرة في مقام ابدا في حبرة ونضرة في دار عالية سليمة بهية " . قالوا نحن المشمرون لها يا رسول الله . قال " قولوا ان شاء الله " . ثم ذكر الجهاد وحض عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہو گی، پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے آسمان میں سب سے زیادہ روشن تارے کی طرح چمکتے ہوں گے، نہ وہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ، نہ وہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور پسینہ مشک کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی، ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی، سارے جنتیوں کی عادت ایک شخص جیسی ہو گی، سب اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ہوں گے، ساٹھ ہاتھ کے لمبے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر ثم الذين يلونهم على ضوء اشد كوكب دري في السماء اضاءة لا يبولون ولا يتغوطون ولا يمتخطون ولا يتفلون امشاطهم الذهب ورشحهم المسك ومجامرهم الالوة ازواجهم الحور العين اخلاقهم على خلق رجل واحد على صورة ابيهم ادم ستون ذراعا " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، مثل حديث ابن فضيل عن عمارة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اور اس کی پانی بہنے کی نالی یا قوت و موتی پر ہو گی، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، وعبد الله بن سعيد، وعلي بن المنذر، قالوا حدثنا محمد بن فضيل، عن عطاء بن السايب، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الكوثر نهر في الجنة حافتاه من ذهب مجراه على الياقوت والدر تربته اطيب من المسك وماوه احلى من العسل واشد بياضا من الثلج
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، اس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہو گا، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: «وظل ممدود» جنت میں دراز اور لمبا سایہ ہے ( سورة الواقعة: 3 ) ۔
حدثنا ابو عمر الضرير، حدثنا عبد الرحمن بن عثمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها ماية سنة لا يقطعها " . واقرءوا ان شيتم {وظل ممدود * وماء مسكوب}
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہوں نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں ملا دے، سعید بن مسیب نے کہا: کیا وہاں بازار بھی ہو گا؟ فرمایا: ہاں، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے مراتب اعمال کے مطابق ان کو جگہ ملے گی، پھر ان کو دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر اجازت دی جائے گی، وہ اللہ عزوجل کی زیارت کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر کرے گا، اور ان کے سامنے جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں جلوہ افروز ہو گا، ان کے لیے منبر رکھے جائیں گے، نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زبرجد کے منبر، سونے اور چاندی کے منبر اور ان میں سے کم تر درجے والا ( حالانکہ ان میں کم تر کوئی نہ ہو گا ) مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا، اور ان کو یہ خیال نہ ہو گا کہ کرسیوں والے ان سے زیادہ اچھی جگہ بیٹھے ہیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ فرمایا: ہاں، کیا تم سورج اور چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں جھگڑتے ہو ؟ ہم نے کہا: نہیں، فرمایا: اسی طرح تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے میں جھگڑا نہیں کرو گے اور اس مجلس میں کوئی شخص نہیں بچے گا مگر اللہ تعالیٰ ہر شخص سے گفتگو کرے گا، یہاں تک کہ وہ ان میں سے ایک شخص سے کہے گا: اے فلاں! کیا تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ ( اس کو دنیا کی بعض غلطیاں یاد دلائے گا ) تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تم نے مجھے معاف نہیں کیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں، میری وسیع مغفرت ہی کی وجہ سے تو اس درجے کو پہنچا ہے، وہ سب اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کو اوپر سے ایک بادل ڈھانپ لے گا، اور ایسی خوشبو برسائے گا جو انہوں نے کبھی نہ سونگھی ہو گی، پھر فرمائے گا: اب اٹھو اور جو کچھ تمہاری مہمان نوازی کے لیے میں نے تیار کیا ہے اس میں سے جو چاہو لے لو، فرمایا: پھر ہم ایک بازار میں آئیں گے جس کو فرشتوں نے گھیر رکھا ہو گا، اس میں وہ چیزیں ہوں گی جن کے مثل نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، اور نہ دلوں نے سوچا، ( فرمایا ) ہم جو چاہیں گے ہمارے لیے پیش کر دیا جائے گا، اس میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہ ہو گی، اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملیں گے، ایک اونچے مرتبے والا شخص آگے بڑھے گا اور اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا ( حالانکہ ان میں کوئی کم درجے کا نہ ہو گا ) وہ اس کے لباس کو دیکھ کر مرعوب ہو گا، لیکن یہ دوسرا شخص اپنی گفتگو پوری نہ کر پائے گا کہ اس پر اس سے بہتر لباس آ جائے گا، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں کسی کو کسی چیز کا غم نہ رہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر ہم اپنے گھروں کو لوٹیں گے، تو ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی، اور خوش آمدید کہیں گی، اور کہیں گی کہ تم آ گئے اور تمہاری خوبصورتی اور خوشبو اس سے کہیں عمدہ ہے جس میں تم ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو ہم کہیں گے: آج ہم اپنے رب کے پاس بیٹھے، اور یہ ضروری تھا کہ ہم اسی حال میں لوٹتے۔
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ۷۲ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ۷۰ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہو گی، اور اس کا ذکر ایسا ہو گا جس میں کبھی کجی نہیں ہو گی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہو جائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔
حدثنا هشام بن خالد الازرق ابو مروان الدمشقي، حدثنا خالد بن يزيد بن ابي مالك، عن ابيه، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من احد يدخله الله الجنة الا زوجه الله عز وجل ثنتين وسبعين زوجة ثنتين من الحور العين وسبعين من ميراثه من اهل النار ما منهن واحدة الا ولها قبل شهي وله ذكر لا ينثني " . قال هشام بن خالد من ميراثه من اهل النار يعني رجالا دخلوا النار فورث اهل الجنة نساءهم كما ورثت امراة فرعون
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہو جائے گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن عامر الاحول، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن اذا اشتهى الولد في الجنة كان حمله ووضعه في ساعة واحدة كما يشتهي
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں اس کو جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا، وہ شخص جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا، اس سے کہا جائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ وہ جنت تک آئے گا تو اس کو لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے، وہ لوٹ جائے گا اس پر کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس کو بھری ہوئی پایا، اللہ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت تک آئے گا تو اس کو بھری ہوئی سمجھ کر پھر واپس چلا جائے گا، لوٹ کر کہے گا: اے میرے رب! وہ تو بھری ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہارے لیے دنیا اور اس کے مثل دس دنیاؤں کی جگہ ( جنت میں ) ہے، وہ کہے گا: کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے؟، یہ حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اتنا ہنسے کہ آپ کے اخیر کے دانت ظاہر ہو گئے، ( یعنی کھل کھلا کر ہنس پڑے ) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہو گا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم اخر اهل النار خروجا منها واخر اهل الجنة دخولا الجنة . رجل يخرج من النار حبوا فيقال له اذهب فادخل الجنة . فياتيها فيخيل اليه انها ملاى فيرجع فيقول يا رب وجدتها ملاى . فيقول الله اذهب فادخل الجنة . فياتيها فيخيل اليه انها ملاى فيرجع فيقول يا رب وجدتها ملاى . فيقول الله سبحانه اذهب فادخل الجنة . فياتيها فيخيل اليه انها ملاى فيرجع فيقول يا رب انها ملاى . فيقول الله اذهب فادخل الجنة . فان لك مثل الدنيا وعشرة امثالها - او ان لك مثل عشرة امثال الدنيا - فيقول اتسخر بي - او اتضحك بي - وانت الملك " . قال فلقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه . فكان يقال هذا ادنى اهل الجنة منزلة
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب بن ابي العشرين، حدثني عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، حدثني سعيد بن المسيب، انه لقي ابا هريرة فقال ابو هريرة اسال الله ان يجمع، بيني وبينك في سوق الجنة . قال سعيد اوفيها سوق قال نعم اخبرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اهل الجنة اذا دخلوها نزلوا فيها بفضل اعمالهم فيوذن لهم في مقدار يوم الجمعة من ايام الدنيا فيزورون الله عز وجل ويبرز لهم عرشه ويتبدى لهم في روضة من رياض الجنة فتوضع لهم منابر من نور ومنابر من لولو ومنابر من ياقوت ومنابر من زبرجد ومنابر من ذهب ومنابر من فضة ويجلس ادناهم - وما فيهم دنيء - على كثبان المسك والكافور ما يرون ان اصحاب الكراسي بافضل منهم مجلسا . قال ابو هريرة قلت يا رسول الله هل نرى ربنا قال " نعم هل تتمارون في روية الشمس والقمر ليلة البدر " . قلنا لا . قال " كذلك لا تتمارون في روية ربكم عز وجل ولا يبقى في ذلك المجلس احد الا حاضره الله عز وجل محاضرة حتى انه يقول للرجل منكم الا تذكر يا فلان يوم عملت كذا وكذا - يذكره بعض غدراته في الدنيا - فيقول يا رب افلم تغفر لي فيقول بلى فبسعة مغفرتي بلغت منزلتك هذه . فبينما هم كذلك غشيتهم سحابة من فوقهم فامطرت عليهم طيبا لم يجدوا مثل ريحه شييا قط ثم يقول قوموا الى ما اعددت لكم من الكرامة فخذوا ما اشتهيتم . قال فناتي سوقا قد حفت به الملايكة فيه ما لم تنظر العيون الى مثله ولم تسمع الاذان ولم يخطر على القلوب . قال فيحمل لنا ما اشتهينا ليس يباع فيه شىء ولا يشترى وفي ذلك السوق يلقى اهل الجنة بعضهم بعضا فيقبل الرجل ذو المنزلة المرتفعة فيلقى من هو دونه - وما فيهم دنيء - فيروعه ما يرى عليه من اللباس فما ينقضي اخر حديثه حتى يتمثل له عليه احسن منه وذلك انه لا ينبغي لاحد ان يحزن فيها " . قال " ثم ننصرف الى منازلنا فيتلقانا ازواجنا فيقلن مرحبا واهلا لقد جيت وان بك من الجمال والطيب افضل مما فارقتنا عليه فنقول انا جالسنا اليوم ربنا الجبار عز وجل ويحقنا ان ننقلب بمثل ما انقلبنا