Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا، وہی ہر چیز پر قادر ہے تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ پڑھے تو وہ صبح تک ایسے ہی رہتا ہے تو ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی اور ایسی حدیث بیان کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوعیاش سچ کہتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا الحسن بن موسى، حدثنا حماد بن سلمة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي عياش الزرقي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يصبح لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير - كان له عدل رقبة من ولد اسماعيل وحط عنه عشر خطييات ورفع له عشر درجات وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي واذا امسى فمثل ذلك حتى يصبح " . قال فراى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يرى النايم فقال يا رسول الله ان ابا عياش يروي عنك كذا وكذا . فقال " صدق ابو عياش
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب صبح کرو تو یہ کہا کرو، «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيى وبك نموت وإذا أمسيتم فقولوا اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيى وبك نموت وإليك المصير» اے اللہ ہم نے تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، اور تیرے ہی نام پر مریں گے ، اور شام کرو تو یہ کہا کرو، «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيى وبك نموت وإليك المصير» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر صبح کی، اور تیرے ہی نام پر جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مریں گے، اور تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اصبحتم فقولوا اللهم بك اصبحنا وبك امسينا وبك نحيى وبك نموت واذا امسيتم فقولوا اللهم بك امسينا وبك اصبحنا وبك نحيى وبك نموت واليك المصير
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے: «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے، وہ سمیع و علیم ( یعنی سننے اور جاننے والا ہے ) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ راوی کہتے ہیں: ابان کچھ فالج سے متاثر ہو گئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا، ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو؟ سنو! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن ابان بن عثمان، قال سمعت عثمان بن عفان، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ثلاث مرات - فيضره شىء " . قال وكان ابان قد اصابه طرف من الفالج فجعل الرجل ينظر اليه فقال له ابان ما تنظر الى اما ان الحديث كما قد حدثتك ولكني لم اقله يوميذ ليمضي الله على قدره
خادم رسول ابوسلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ ( یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا ) صبح و شام یہ کہتا ہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں ) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا مسعر، حدثنا ابو عقيل، عن سابق، عن ابي سلام، خادم النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم او انسان او عبد يقول حين يمسي وحين يصبح رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا - الا كان حقا على الله ان يرضيه يوم القيامة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ان دعاؤں کو نہیں چھوڑتے تھے: «اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بك أن أغتال من تحتي» اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میرے عیوب چھپا دے، میرے دل کو مامون کر دے، اور میرے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اور اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کئے جانے سے ۔ وکیع کہتے ہیں:«أغتال من تحتي» کے معنی دھنسا دئیے جانے کے ہیں
حدثنا علي بن محمد الطنافسي، حدثنا وكيع، حدثنا عبادة بن مسلم، حدثنا جبير بن ابي سليمان بن جبير بن مطعم، قال سمعت ابن عمر، يقول لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدع هولاء الدعوات حين يمسي وحين يصبح " اللهم اني اسالك العفو والعافية في الدنيا والاخرة اللهم اني اسالك العفو والعافية في ديني ودنياى واهلي ومالي اللهم استر عوراتي وامن روعاتي واحفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي واعوذ بك ان اغتال من تحتي " . قال وكيع يعني الخسف
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا، میں تیرا ہی بندہ ہوں، اپنی طاقت بھر میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں، اپنے کئے ہوئے کے شر سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں، مجھے تیرے احسانات اور اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، میری بخشش فرما، بلاشبہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی شخص دن اور رات میں یہ دعا پڑھے، اور اسی دن یا اسی رات اس شخص کا انتقال ہو جائے، تو ان شاءاللہ وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابراهيم بن عيينة، حدثنا الوليد بن ثعلبة، عن عبد الله ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم انت ربي لا اله الا انت خلقتني وانا عبدك وانا على عهدك ووعدك ما استطعت اعوذ بك من شر ما صنعت ابوء بنعمتك وابوء بذنبي فاغفر لي فانه لا يغفر الذنوب الا انت " . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قالها في يومه وليلته فمات في ذلك اليوم او تلك الليلة دخل الجنة ان شاء الله تعالى
(ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے رب! ہر چیز کے رب! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے! توراۃ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے، تو ہی سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول اذا اوى الى فراشه " اللهم رب السموات ورب الارض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والانجيل والقران العظيم اعوذ بك من شر كل دابة انت اخذ بناصيتها انت الاول فليس قبلك شىء وانت الاخر فليس بعدك شىء وانت الظاهر فليس فوقك شىء وانت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين واغنني من الفقر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ ( جانے کے بعد ) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے: «رب بك وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين» میرے رب! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا، پھر اگر تو میری جان کو روک لے ( یعنی اب میں نہ جاگوں اور مر جاؤں ) تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو چھوڑ دے ( اور میں جاگوں ) تو اس کی حفاظت فرما ان چیزوں کے ذریعہ جن سے تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ) ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اراد احدكم ان يضطجع على فراشه فلينزع داخلة ازاره ثم لينفض بها فراشه فانه لا يدري ما خلفه عليه ثم ليضطجع على شقه الايمن ثم ليقل رب بك وضعت جنبي وبك ارفعه فان امسكت نفسي فارحمها وان ارسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے، اور معوذتین: «قل أعوذ برب الفلق» و «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، اور انہیں اپنے جسم پر پھیر لیتے۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا يونس بن محمد، وسعيد بن شرحبيل، انبانا الليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، ان عروة بن الزبير، اخبره عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اخذ مضجعه نفث في يديه وقرا بالمعوذتين ومسح بهما جسده
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ ( یعنی نفس ) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہو گیا تو دین اسلام پر مرو گے، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل " اذا اخذت مضجعك او اويت الى فراشك فقل اللهم اسلمت وجهي اليك والجات ظهري اليك وفوضت امري اليك رغبة ورهبة اليك لا ملجا ولا منجى منك الا اليك امنت بكتابك الذي انزلت ونبيك الذي ارسلت فان مت من ليلتك مت على الفطرة وان اصبحت اصبحت وقد اصبت خيرا كثيرا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تبعث ( أو تجمع ) عبادك» اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه وضع يده - يعني اليمنى - تحت خده ثم قال " اللهم قني عذابك يوم تبعث - او تجمع - عبادك
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» اے رب مجھ کو بخش دے ، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں کہا: اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہو گی۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني عمير بن هاني، حدثني جنادة بن ابي امية، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تعار من الليل فقال حين يستيقظ لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله العلي العظيم ثم دعا رب اغفر لي - غفر له " . قال الوليد او قال " دعا استجيب له فان قام فتوضا ثم صلى قبلت صلاته
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے: «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے: «سبحان الله وبحمده» ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، انبانا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، ان ربيعة بن كعب الاسلمي، اخبره انه، كان يبيت عند باب رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان يسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من الليل " سبحان الله رب العالمين " . الهوي ثم يقول " سبحان الله وبحمده
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو ( نیند کی صورت میں ) موت طاری کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جا نا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا انتبه من الليل قال " الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بندہ رات کو باوضو سوئے، اور پھر رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو الحسين، عن حماد بن سلمة، عن عاصم بن ابي النجود، عن شهر بن حوشب، عن ابي ظبية، عن معاذ بن جبل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من عبد بات على طهور ثم تعار من الليل فسال الله شييا من امر الدنيا او من امر الاخرة الا اعطاه
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں، ( وہ کلمات یہ ہیں ) «الله الله ربي لا أشرك به شيئا» اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی
حدثنا ابو بكر، حدثنا محمد بن بشر، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، جميعا عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، حدثني هلال، مولى عمر بن عبد العزيز عن عمر بن عبد العزيز، عن عبد الله بن جعفر، عن امه، اسماء ابنة عميس قالت علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات اقولهن عند الكرب " الله الله ربي لا اشرك به شييا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت تکلیف کے وقت یہ ( دعا ) پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» اللہ حلیم ( برد بار ) و کریم ( کرم والے ) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی ۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار «لا إله إلا الله» ہے۔ ۱؎
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام، صاحب الدستوايي عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول عند الكرب " لا اله الا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم " . قال وكيع مرة لا اله الا الله فيها كلها
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں راہ بھٹک جاؤں یا پھسل جاؤں، یا کسی پر ظلم کروں، یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، یا میں جہالت کروں، یا کوئی مجھ سے جہالت کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيدة بن حميد، عن منصور، عن الشعبي، عن ام سلمة، . ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج من منزله قال " اللهم اني اعوذ بك ان اضل او ازل او اظلم او اظلم او اجهل او يجهل على
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التكلان على الله» اللہ کے نام سے ( میں نکل رہا ہوں ) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں، اللہ ہی پر بھروسہ ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن عبد الله بن حسين بن عطاء بن يسار، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج من بيته قال " بسم الله لا حول ولا قوة الا بالله التكلان على الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: تو نے سیدھی راہ اختیار کی، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله»کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني هارون بن هارون، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا خرج الرجل من باب بيته - او من باب داره - كان معه ملكان موكلان به فاذا قال بسم الله . قالا هديت . واذا قال لا حول ولا قوة الا بالله . قالا وقيت . واذا قال توكلت على الله قالا كفيت قال فيلقاه قريناه فيقولان ماذا تريدان من رجل قد هدي وكفي ووقي