Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ( غصہ ) ہوتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا ابو المليح المدني، قال سمعت ابا صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يدع الله سبحانه غضب عليه
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک دعا ہی عبادت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:«وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» اور تمہارے رب نے کہا: دعا کرو ( مجھے پکارو ) میں تمہاری دعا قبول کروں گا ( سورة الغافر: 60 ) ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ذر بن عبد الله الهمداني، عن يسيع الكندي، عن النعمان بن بشير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الدعاء هو العبادة " . ثم قرا {وقال ربكم ادعوني استجب لكم}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو داود، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن سعيد بن ابي الحسن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس شىء اكرم على الله سبحانه من الدعاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد فرما، اور میرے مخالف کی مدد مت کر، اور میری تائید فرما، اور میرے مخالف کی تائید مت کر، اور میرے لیے تدبیر فرما، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے، اور مجھے ہدایت فرما، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے، اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا، ڈرنے والا، اور اپنا مطیع فرماں بردار، رونے اور گڑگڑانے والا، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے، اے اللہ میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا: کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھ لیا کرو۔
حدثنا علي بن محمد، سنة احدى وثلاثين ومايتين حدثنا وكيع، في سنة خمس وتسعين وماية قال حدثنا سفيان في مجلس الاعمش منذ خمسين سنة حدثنا عمرو بن مرة الجملي في زمن خالد عن عبد الله بن الحارث المكتب عن طليق بن قيس الحنفي عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في دعايه " رب اعني ولا تعن على وانصرني ولا تنصر على وامكر لي ولا تمكر على واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى على رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا اليك مخبتا اليك اواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي واجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي " . قال ابو الحسن الطنافسي قلت لوكيع اقوله في قنوت الوتر قال نعم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں ، ( یہ سن کر ) وہ واپس چلی گئیں، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں ؟ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم کہو کہ نہیں، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو، چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہا کرو «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عنا الدين وأغننا من الفقر» اے اللہ! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے رب! اور ہمارے رب اور ہر چیز کے رب، تورات، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی، تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں، تو ہی باطن ہے تیرے ورے کوئی چیز نہیں، ہم سے ہمارا قرض ادا کر دے، اور محتاجی دور کر کے ہمیں غنی کر دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن ابي عبيدة، حدثنا ابي، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال اتت فاطمة النبي صلى الله عليه وسلم تساله خادما فقال لها " ما عندي ما اعطيك " . فرجعت فاتاها بعد ذلك فقال " الذي سالت احب اليك او ما هو خير منه " . فقال لها علي قولي لا بل ما هو خير منه فقالت فقال " قولي اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شىء منزل التوراة والانجيل والقران العظيم انت الاول فليس قبلك شىء وانت الاخر فليس بعدك شىء وانت الظاهر فليس فوقك شىء وانت الباطن فليس دونك شىء اقض عنا الدين واغننا من الفقر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " اللهم اني اسالك الهدى والتقى والعفاف والغنى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار» اے اللہ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما، اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ہے، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن موسى بن عبيدة، عن محمد بن ثابت، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال واعوذ بالله من عذاب النار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم ثبت قلبي على دينك» اے اللہ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم پر خوف کرتے ہیں ( ہمارے حال سے کہ ہم پھر گمراہ ہو جائیں گے ) ، حالانکہ ہم تو آپ پر ایمان لا چکے، اور ان تعلیمات کی تصدیق کر چکے ہیں جو آپ لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک لوگوں کے دل رحمن کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہیں، انہیں وہ الٹتا پلٹتا ہے ، اور اعمش نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر ان يقول " اللهم ثبت قلبي على دينك " . فقال رجل يا رسول الله تخاف علينا وقد امنا بك وصدقناك بما جيت به فقال " ان القلوب بين اصبعين من اصابع الرحمن عز وجل يقلبها " . واشار الاعمش باصبعيه
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: تم یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا صرف تو ہی ہے، تو اپنی عنایت سے میرے گناہ بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو غفور و رحیم ( بخشنے والا مہربان ) ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، عن ابي بكر الصديق، . انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم علمني دعاء ادعو به في صلاتي . قال " قل اللهم اني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب الا انت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني انك انت الغفور الرحيم
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصا ( چھڑی ) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا كله» اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہو جا، ہماری عبادت قبول فرما، ہمیں جنت میں داخل فرما، اور جہنم سے بچا، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے ، ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو گویا ہماری خواہش ہوئی کہ آپ اور کچھ دعا فرمائیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے لیے جامع دعا نہیں کر دی ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مسعر، عن ابي مرزوق، عن ابي العدبس، عن ابي امامة الباهلي، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متكي على عصا فلما رايناه قمنا فقال " لا تفعلوا كما يفعل اهل فارس بعظمايها " . قلنا يا رسول الله لو دعوت الله لنا . قال " اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وادخلنا الجنة ونجنا من النار واصلح لنا شاننا كله " . قال فكانما احببنا ان يزيدنا فقال " اوليس قد جمعت لكم الامر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» اے اللہ! میں چار باتوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں: اس علم سے جو فائدہ نہ دے، اس دل سے جو اللہ کے سامنے نرم نہ ہو، اس نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو ۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن اخيه، عباد بن ابي سعيد انه سمع ابا هريرة، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من الاربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا يسمع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار ومن فتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ اور اس کے عذاب سے، اور مالداری و فقیری کے فتنے کی برائی سے، اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے، اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو ڈال، اور میرے دل کو گناہوں سے پاک و صاف کر دے، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جس طرح تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری کی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، جميعا عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو بهولاء الكلمات " اللهم اني اعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار ومن فتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم اني اعوذ بك من الكسل والهرم والماثم والمغرم
فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن حصين، عن هلال، عن فروة بن نوفل، قال سالت عايشة عن دعاء، كان يدعو به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كان يقول " اللهم اني اعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم اعمل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے قرآن کی سورت سکھاتے اسی طرح یہ دعا بھی ہمیں سکھاتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا بكر بن سليم، حدثني حميد الخراط، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا هذا الدعاء كما يعلمنا السورة من القران " اللهم اني اعوذ بك من عذاب جهنم واعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی ( مکان میں اندھیرا تھا ) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ ( حالت سجدہ میں ) یہ دعا کر رہے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کر سکتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن عايشة، قالت فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة من فراشه فالتمسته فوقعت يدي على بطن قدميه وهو في المسجد وهما منصوبتان وهو يقول " اللهم اني اعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے فقیری، مال کی کمی، ذلت، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا محمد بن مصعب، عن الاوزاعي، عن اسحاق بن عبد الله، عن جعفر بن عياض، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعوذوا بالله من الفقر والقلة والذلة وان تظلم او تظلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے اس علم کا سوال کرو جو فائدہ پہنچائے، اور اس علم سے پناہ مانگو جو فائدہ نہ پہنچائے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سلوا الله علما نافعا وتعوذوا بالله من علم لا ينفع
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی، بخیلی، ارذل عمر ( انتہائی بڑھاپا ) ، قبر کے عذاب اور دل کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔ وکیع نے کہا: دل کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی برے اعتقاد پر مر جائے، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے بارے میں توبہ و استغفار نہ کرے
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ من الجبن والبخل وارذل العمر وعذاب القبر وفتنة الصدر . قال وكيع يعني الرجل يموت على فتنة لا يستغفر الله منها
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( اس وقت کہ جب ) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا: یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا ابو مالك، سعد بن طارق عن ابيه، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم وقد اتاه رجل فقال يا رسول الله كيف اقول حين اسال ربي قال " قل اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني " . وجمع اصابعه الاربع الا الابهام " فان هولاء يجمعن لك دينك ودنياك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی: «اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا» اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی کی دعا مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں، اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے، اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرني جبر بن حبيب، عن ام كلثوم بنت ابي بكر، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم علمها هذا الدعاء " اللهم اني اسالك من الخير كله عاجله واجله ما علمت منه وما لم اعلم واعوذ بك من الشر كله عاجله واجله ما علمت منه وما لم اعلم اللهم اني اسالك من خير ما سالك عبدك ونبيك واعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم اني اسالك الجنة وما قرب اليها من قول او عمل واعوذ بك من النار وما قرب اليها من قول او عمل واسالك ان تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا