Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: میں تشہد ( التحیات ) پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں ۔
حدثنا يوسف بن موسى القطان، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل " ما تقول في الصلاة " . قال اتشهد ثم اسال الله الجنة واعوذ به من النار اما والله ما احسن دندنتك ولا دندنة معاذ . قال " حولهما ندندن
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، اخبرني سلمة بن وردان، عن انس بن مالك، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال يا رسول الله اى الدعاء افضل قال " سل ربك العفو والعافية في الدنيا والاخرة " . ثم اتاه في اليوم الثاني فقال يا رسول الله اى الدعاء افضل قال " سل ربك العفو والعافية في الدنيا والاخرة " . ثم اتاه في اليوم الثالث فقال يا نبي الله اى الدعاء افضل قال " سل ربك العفو والعافية في الدنيا والاخرة فاذا اعطيت العفو والعافية في الدنيا والاخرة فقد افلحت
اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، وعلي بن محمد، قالا حدثنا عبيد بن سعيد، قال سمعت شعبة، عن يزيد بن خمير، قال سمعت سليم بن عامر، يحدث عن اوسط بن اسماعيل البجلي، انه سمع ابا بكر، حين قبض النبي صلى الله عليه وسلم يقول قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في مقامي هذا عام الاول ثم بكى ابو بكر ثم قال " عليكم بالصدق فانه مع البر وهما في الجنة واياكم والكذب فانه مع الفجور وهما في النار وسلوا الله المعافاة فانه لم يوت احد بعد اليقين خيرا من المعافاة ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تقاطعوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله اخوانا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن كهمس بن الحسن، عن عبد الله بن بريدة، عن عايشة، انها قالت يا رسول الله ارايت ان وافقت ليلة القدر ما ادعو قال " تقولين اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عني
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی: ( وہ دعا یہ ہے ) «اللهم إني أسألك المعافاة في الدنيا والآخرة» اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام، صاحب الدستوايي عن قتادة، عن العلاء بن زياد العدوي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من دعوة يدعو بها العبد افضل من - اللهم اني اسالك المعافاة في الدنيا والاخرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہم پر اور عاد کے بھائی ( ہود علیہ السلام ) پر رحم فرمائے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحمنا الله واخا عاد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا اسحاق بن سليمان، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن ابي عبيد، مولى عبد الرحمن بن عوف عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يستجاب لاحدكم ما لم يعجل " . قيل وكيف يعجل يا رسول الله قال " يقول قد دعوت الله فلم يستجب الله لي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ابن عجلان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقولن احدكم اللهم اغفر لي ان شيت وليعزم في المسالة فان الله لا مكره له
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ( سورۃ البقرہ: ۱۶۳ ) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں: «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی و قیوم ( زندہ اور سب کا نگہبان ) ہے ۔ ( سورۃ آل عمران: ۱-۲ ) ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عيسى بن يونس، عن عبيد الله بن ابي زياد، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسم الله الاعظم في هاتين الايتين {والهكم اله واحد لا اله الا هو الرحمن الرحيم} وفاتحة سورة ال عمران
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، عن عبد الله بن العلاء، عن القاسم، قال اسم الله الاعظم الذي اذا دعي به اجاب في سور ثلاث البقرة وال عمران وطه . حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، قال ذكرت ذلك لعيسى بن موسى فحدثني انه، سمع غيلان بن انس، يحدث عن القاسم، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن مالك بن مغول، انه سمعه من عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يقول اللهم اني اسالك بانك انت الله الاحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد سال الله باسمه الاعظم الذي اذا سيل به اعطى واذا دعي به اجاب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا، «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإكرام» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابو خزيمة، عن انس بن سيرين، عن انس بن مالك، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يقول اللهم اني اسالك بان لك الحمد لا اله الا انت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والارض ذو الجلال والاكرام فقال " لقد سال الله باسمه الاعظم الذي اذا سيل به اعطى واذا دعي به اجاب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللهم إني أسألك باسمك الطاهر الطيب المبارك الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے ، اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں ، میں یہ سن کر علیحدہ ہو گئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: «اللهم إني أدعوك الله وأدعوك الرحمن وأدعوك البر الرحيم وأدعوك بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني» اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے ۔
حدثنا ابو يوسف الصيدلاني، محمد بن احمد الرقي حدثنا محمد بن سلمة، عن الفزاري، عن ابي شيبة، عن عبد الله بن عكيم الجهني، عن عايشة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اسالك باسمك الطاهر الطيب المبارك الاحب اليك الذي اذا دعيت به اجبت واذا سيلت به اعطيت واذا استرحمت به رحمت واذا استفرجت به فرجت " . قالت وقال ذات يوم " يا عايشة هل علمت ان الله قد دلني على الاسم الذي اذا دعي به اجاب " . قالت فقلت يا رسول الله بابي انت وامي فعلمنيه . قال " انه لا ينبغي لك يا عايشة " . قالت فتنحيت وجلست ساعة ثم قمت فقبلت راسه ثم قلت يا رسول الله علمنيه . قال " انه لا ينبغي لك يا عايشة ان اعلمك انه لا ينبغي لك ان تسالي به شييا من الدنيا " . قالت فقمت فتوضات ثم صليت ركعتين ثم قلت اللهم اني ادعوك الله وادعوك الرحمن وادعوك البر الرحيم وادعوك باسمايك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم اعلم ان تغفر لي وترحمني . قالت فاستضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " انه لفي الاسماء التي دعوت بها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لله تسعة وتسعين اسما ماية الا واحدا من احصاها دخل الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے والا ، «الخبير» خبر رکھنے والا ، «السميع» سننے والا ، «البصير» دیکھنے والا ،«العليم» جاننے والا ، «العظيم» بزرگی والا ، «البار» بھلائی والا ، «المتعال» برتر ، «الجليل» بزرگ ، «الجميل» خوبصورت ،«الحي» زندہ ، «القيوم» قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، «القادر» قدرت والا ، «القاهر» قہر والا ، «العلي» اونچا ، «الحكيم» حکمت والا ، «القريب» نزدیک ، «المجيب» قبول کرنے والا ، «الغني» تونگر بے نیاز ، «الوهاب» بہت دینے والا ، «الودود» بہت چاہنے والا ، «الشكور» قدر کرنے والا ، «الماجد» بزرگی والا ، «الواجد» پانے والا ، «الوالي» مالک مختار، حکومت کرنے والا ، «الراشد» خیر والا ، «العفو» بہت معاف کرنے والا ، «الغفور» بہت بخشنے والا ، «الحليم» بردبار ، «الكريم» کرم والا ، «التواب» توبہ قبول کرنے والا ، «الرب» پالنے والا ، «المجيد» بزرگی والا ، «الولي» مددگار و محافظ ، «الشهيد» نگراں، حاضر ، «المبين» ظاہر کرنے والا ،«البرهان» دلیل ، «الرءوف» شفقت والا ، «الرحيم» مہربان ، «المبدئ» پہلے پہل پیدا کرنے والا ، «المعيد» دوبارہ پیدا کرنے والا ،«الباعث» زندہ کر کے اٹھانے والا ، «الوارث» وارث ، «القوي» ( قوی ) زور آور ، «الشديد» سخت ، «الضار» نقصان پہنچانے والا ،«النافع» نفع دینے والا ، «الباقي» قائم ، «الواقي» بچانے والا ، «الخافض» پست کرنے والا ، «الرافع» اونچا کرنے والا ، «القابض» روکنے والا ، «الباسط» چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، «المعز» عزت دینے والا ، «المذل» ذلت دینے والا ، «المقسط» منصف ،«الرزاق» روزی دینے والا ، «ذو القوة» طاقت والا ، «المتين» مضبوط ، «القائم» ہمیشہ رہنے والا ، «الدائم» ہمیشگی والا ، «الحافظ» بچانے والا ، «الوكيل» کارساز ، «الفاطر» پیدا کرنے والا ، «السامع» سننے والا ، «المعطي» دینے والا ، «المحيي» زندہ کرنے والا ، «المميت» مارنے والا ، «المانع» روکنے والا ، «الجامع» جمع کرنے والا ، «الهادي» ( رہبری ہادی ) راہ بنانے والا ، «الكافي» کفایت کرنے والا ، «الأبد» ہمیشہ برقرار ، «العالم» ( عالم ) جاننے والا ، «الصادق» سچا ، «النور» روشن، ظاہر ، «المنير» روشن کرنے والا ،«التام» مکمل ، «القديم» ہمیشہ رہنے والا ، «الوتر» طاق ، «الأحد» اکیلا ، «الصمد» بے نیاز ، «الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد ( اور والدہ ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن بكر السهمي، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي جعفر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاث دعوات يستجاب لهن لا شك فيهن دعوة المظلوم ودعوة المسافر ودعوة الوالد لولده
ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: والد ( اور والدہ ) کی دعا حجاب الٰہی ( مقام قبولیت ) تک پہنچتی ہے ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو سلمة، حدثتنا حبابة ابنة عجلان، عن امها ام حفص، عن صفية بنت جرير، عن ام حكيم بنت وداع الخزاعية، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " دعاء الوالد يفضي الى الحجاب
ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما ، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، انبانا سعيد الجريري، عن ابي نعامة، ان عبد الله بن مغفل، سمع ابنه، يقول اللهم اني اسالك القصر الابيض عن يمين الجنة، اذا دخلتها . فقال اى بنى سل الله الجنة وعذ به من النار فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " سيكون قوم يعتدون في الدعاء
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب «حی» ( بڑا باحیاء، شرمیلا ) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابن ابي عدي، عن جعفر بن ميمون، عن ابي عثمان، عن سلمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان ربكم حيي كريم يستحيي من عبده ان يرفع اليه يديه فيردهما صفرا - او قال خايبتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی اندرونی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو، ان کی پشت اپنی طرف کر کے دعا نہ کرو، پھر جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے منہ پر پھیرو ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عايذ بن حبيب، عن صالح بن حسان، عن محمد بن كعب القرظي، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دعوت الله فادع ببطون كفيك ولا تدع بظهورهما فاذا فرغت فامسح بهما وجهك
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الملك بن محمد الصنعاني، حدثنا ابو المنذر، زهير بن محمد التميمي حدثنا موسى بن عقبة، حدثني عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان لله تسعة وتسعين اسما ماية الا واحدا انه وتر يحب الوتر من حفظها دخل الجنة وهي الله الواحد الصمد الاول الاخر الظاهر الباطن الخالق الباري المصور الملك الحق السلام المومن المهيمن العزيز الجبار المتكبر الرحمن الرحيم اللطيف الخبير السميع البصير العليم العظيم البار المتعال الجليل الجميل الحى القيوم القادر القاهر العلي الحكيم القريب المجيب الغني الوهاب الودود الشكور الماجد الواجد الوالي الراشد العفو الغفور الحليم الكريم التواب الرب المجيد الولي الشهيد المبين البرهان الرءوف الرحيم المبدي المعيد الباعث الوارث القوي الشديد الضار النافع الباقي الواقي الخافض الرافع القابض الباسط المعز المذل المقسط الرزاق ذو القوة المتين القايم الدايم الحافظ الوكيل الفاطر السامع المعطي المحيي المميت المانع الجامع الهادي الكافي الابد العالم الصادق النور المنير التام القديم الوتر الاحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد " . قال زهير فبلغنا عن غير واحد من اهل العلم ان اولها يفتح بقول لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شىء قدير لا اله الا الله له الاسماء الحسنى