Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ( یعنی بسم اللہ کہتا ) ہے، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے ( یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے ) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے ( یعنی بغیر بسم اللہ کہے ) داخل ہوتا ہے، تو شیطان ( اپنے لشکر سے ) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا دخل الرجل بيته فذكر الله عند دخوله وعند طعامه قال الشيطان لا مبيت لكم ولا عشاء . واذا دخل ولم يذكر الله عند دخوله قال الشيطان ادركتم المبيت . فاذا لم يذكر الله عند طعامه قال ادركتم المبيت والعشاء
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: ( اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے ) :«اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال» اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے، واپسی کے غم سے، ترقی کے بعد تنزلی سے، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے ۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، وابو معاوية عن عاصم، عن عبد الله بن سرجس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول - وقال عبد الرحيم يتعوذ - اذا سافر " اللهم اني اعوذ بك من وعثاء السفر وكابة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الاهل والمال " . وزاد ابو معاوية فاذا رجع قال مثلها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے، یہاں تک کہ اگر نماز میں ( بھی ) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے، اور یہ دعا ما نگتے: «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے: «اللهم سيبا نافعا» اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما ، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن المقدام بن شريح، عن ابيه المقدام، عن ابيه، ان عايشة، اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا راى سحابا مقبلا من افق من الافاق ترك ما هو فيه وان كان في صلاته حتى يستقبله فيقول " اللهم انا نعوذ بك من شر ما ارسل به " . فان امطر قال " اللهم سيبا نافعا " . مرتين او ثلاثة وان كشفه الله عز وجل ولم يمطر حمد الله على ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے: «اللهم اجعله صيبا هنيئا» اے اللہ! تو اس کو جاری اور بابرکت بنا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الحميد بن حبيب بن ابي العشرين، حدثنا الاوزاعي، اخبرني نافع، ان القاسم بن محمد، اخبره عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا راى المطر قال " اللهم اجعله صيبا هنييا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہہوں نے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ تجھے کیا معلوم؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا: «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے: یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ چیز ( یعنی عذاب ) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے ( سورۃ الاحقاف: ۲۴ ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاذ بن معاذ، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا راى مخيلة تلون وجهه وتغير ودخل وخرج واقبل وادبر فاذا امطرت سري عنه . قال فذكرت له عايشة بعض ما رات منه فقال " وما يدريك لعله كما قال قوم هود {فلما راوه عارضا مستقبل اوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به } " . الاية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی ، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن خارجة بن مصعب، عن ابي يحيى، عمرو بن دينار - وليس بصاحب ابن عيينة - مولى ال الزبير عن سالم، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فجيه صاحب بلاء فقال الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا - عوفي من ذلك البلاء كاينا ما كان