Loading...

Loading...
کتب
۱۱۴ احادیث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن عاصم، عن يوسف بن عبد الله بن الحارث، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص في الرقية من الحمة والعين والنملة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے ( کاٹے پر ) دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهناد بن السري، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم في الرقية من الحية والعقرب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن بهرام، حدثنا عبيد الله الاشجعي، عن سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال لدغت عقرب رجلا فلم ينم ليلته فقيل للنبي صلى الله عليه وسلم ان فلانا لدغته عقرب فلم ينم ليلته . فقال " اما انه لو قال حين امسى اعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق - ما ضره لدغ عقرب حتى يصبح
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دے دی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عثمان بن حكيم، حدثني ابو بكر بن عمرو بن حزم، عن عمرو بن حزم، قال عرضت النهشة من الحية على رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر بها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، اور کہتے: «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب! تو بیماری دور فرما، اور صحت عطا کر، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتى المريض فدعا له قال " اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافي لا شفاء الا شفاوك شفاء لا يغادر سقما
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے: «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی سے، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان، عن عبد ربه، عن عمرة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان مما يقول للمريض ببزاقه باصبعه " بسم الله بتربة ارضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا باذن ربنا
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں سات مرتبہ پڑھو ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی
حدثنا ابو بكر، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زهير بن محمد، عن يزيد بن خصيفة، عن عمرو بن عبد الله بن كعب، عن نافع بن جبير، عن عثمان بن ابي العاص الثقفي، انه قال قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم وبي وجع قد كاد يبطلني فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اجعل يدك اليمنى عليه وقل بسم الله اعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما اجد واحاذر سبع مرات " . فقلت ذلك فشفاني الله
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے محمد! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا: ہاں ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار، نظر بند، اور حاسد کے شر سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز بن صهيب، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، ان جبراييل، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد اشتكيت قال " نعم " . قال بسم الله ارقيك من كل شىء يوذيك من شر كل نفس او عين او حاسد الله يشفيك بسم الله ارقيك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے؟ ، میں نے عرض کیا: ضرور یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا: «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا، تمہارے ہر مرض سے، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔
حدثنا محمد بن بشار، وحفص بن عمر، قالا حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن زياد بن ثويب، عن ابي هريرة، قال جاء النبي صلى الله عليه وسلم يعودني فقال لي " الا ارقيك برقية جاءني بها جبراييل " . قلت بابي وامي بلى يا رسول الله . قال " بسم الله ارقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد اذا حسد " . ثلاث مرات
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے: «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے ، اور فرماتے: ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے یا کہا: اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے۔
حدثنا محمد بن سليمان بن هشام البغدادي، حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا ابو عامر، قالا حدثنا سفيان، عن منصور، عن منهال، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين يقول " اعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة " . قال " وكان ابونا ابراهيم يعوذ بها اسماعيل واسحاق " . او قال " اسماعيل ويعقوب " . وهذا حديث وكيع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں: «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی اللہ عظیم کے نام سے، جوش مارنے والی رگ کے شر سے، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا ابراهيم الاشهلي، عن داود بن حصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم من الحمى ومن الاوجاع كلها ان يقولوا " بسم الله الكبير اعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار " . قال ابو عامر انا اخالف الناس في هذا اقول يعار . حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، اخبرني ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة الاشهلي، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقال " من شر عرق نعار
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا، تو انہوں نے کہا: «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من حسد حاسد ومن كل عين الله يشفيك» یعنی اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، حاسد کے حسد سے، اور ہر نظر بد سے، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطا کرے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا ابي، عن ابن ثوبان، عن عمير، انه سمع جنادة بن ابي امية، قال سمعت عبادة بن الصامت، يقول اتى جبراييل عليه السلام النبي صلى الله عليه وسلم وهو يوعك فقال بسم الله ارقيك من كل شىء يوذيك من حسد حاسد ومن كل عين الله يشفيك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھ کر ( منتر ) کو پھونکا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن ميمون الرقي، وسهل بن ابي سهل، قالوا حدثنا وكيع، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفث في الرقية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، قال حدثنا معن بن عيسى، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا بشر بن عمر، قالا حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اشتكى يقرا على نفسه المعوذات وينفث فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح بيده رجاء بركتها
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں، وہ «حمرہ» ۱؎ کا دم کرتی تھیں، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا، پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ سرخ بادے ( «حمرہ» ) کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا: عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: دم، تعویذ، گنڈے اور ٹونا شرک ہیں ۱؎، ایک دن میں باہر نکلی تو مجھ پر فلاں شخص کی نظر پڑ گئی، تو میری اس آنکھ سے جو اس سے قریب تر تھی آنسو بہہ نکلے، جب میں اس پر دم کرتی تو اس کے آنسو رک جاتے، اور جب میں دم کرنا چھوڑ دیتی تو آنسو بہنے لگتے، انہوں نے کہا: یہی تو شیطان ہے، جب تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تم کو چھوڑ دیتا ہے، اور جب تم اس کی نافرمانی کرتی ہو تو وہ تمہاری آنکھ میں اپنی انگلی چبھو دیتا ہے، لیکن اگر تم وہ عمل کرتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر کیا تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا، اور تم ٹھیک ہو جاتیں، تم اپنی آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارا کرو، اور یہ دعا پڑھا کرو: «أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» اے لوگوں کے رب، مصیبت دور فرما، شفاء عطا کر، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء ہے بھی نہیں، ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی رہ نہ جائے ۔
حدثنا ايوب بن محمد الرقي، حدثنا معمر بن سليمان، حدثنا عبد الله بن بشر، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن يحيى بن الجزار، عن ابن اخت، زينب امراة عبد الله عن زينب، قالت كانت عجوز تدخل علينا ترقي من الحمرة وكان لنا سرير طويل القوايم وكان عبد الله اذا دخل تنحنح وصوت فدخل يوما فلما سمعت صوته احتجبت منه فجاء فجلس الى جانبي فمسني فوجد مس خيط فقال ما هذا فقلت رقى لي فيه من الحمرة فجذبه وقطعه فرمى به وقال لقد اصبح ال عبد الله اغنياء عن الشرك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الرقى والتمايم والتولة شرك " . قلت فاني خرجت يوما فابصرني فلان فدمعت عيني التي تليه فاذا رقيتها سكنت دمعتها واذا تركتها دمعت . قال ذاك الشيطان اذا اطعتيه تركك واذا عصيتيه طعن باصبعه في عينك ولكن لو فعلت كما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم كان خيرا لك واجدر ان تشفين تنضحين في عينك الماء وتقولين " اذهب الباس رب الناس اشف انت الشافي لا شفاء الا شفاوك شفاء لا يغادر سقما
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے، پوچھا: یہ کیسا کڑا ہے، اس نے جواب دیا: یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اتارو، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن ( کمزوری ) پیدا کر دے گا ۲؎۔
حدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا وكيع، عن مبارك، عن الحسن، عن عمران بن الحصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا في يده حلقة من صفر فقال " ما هذه الحلقة " . قال هذه من الواهنة . قال " انزعها فانها لا تزيدك الا وهنا
ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا، وہ بولتا نہیں تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تھوڑا سا پانی لاؤ ، پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا، اور فرمایا: اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو ، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں، ( تو اچھا ہوتا ) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن يزيد بن ابي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن ام جندب، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم رمى جمرة العقبة من بطن الوادي يوم النحر ثم انصرف وتبعته امراة من خثعم ومعها صبي لها به بلاء لا يتكلم فقالت يا رسول الله ان هذا ابني وبقية اهلي وان به بلاء لا يتكلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايتوني بشىء من ماء " . فاتي بماء فغسل يديه ومضمض فاه ثم اعطاها فقال " اسقيه منه وصبي عليه منه واستشفي الله له " . قالت فلقيت المراة فقلت لو وهبت لي منه . فقالت انما هو لهذا المبتلى . قالت فلقيت المراة من الحول فسالتها عن الغلام فقالت برا وعقل عقلا ليس كعقول الناس
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن مجید ہے ۔
حدثنا محمد بن عبيد بن عتبة بن عبد الرحمن الكندي حدثنا علي بن ثابت حدثنا معاد بن سليمان عن ابي اسحق عن الحارث عن علي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير الدواء القران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے، یہ ایک خبیث سانپ ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت امر النبي صلى الله عليه وسلم بقتل ذي الطفيتين فانه يلتمس البصر ويصيب الحبل . يعني حية خبيثة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والابتر فانهما يلتمسان البصر ويسقطان الحبل