Loading...

Loading...
کتب
۱۱۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک فال ( اچھے شگون ) اچھی لگتی تھی، اور فال بد ( برے شگون ) کو ناپسند فرماتے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه الفال الحسن ويكره الطيرة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا طيرة واحب الفال الصالح
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلمة، عن عيسى بن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الطيرة شرك وما منا الا ولكن الله يذهبه بالتوكل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات ۱؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہو جاتی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن ابي جناب، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا طيرة ولا هامة " . فقام اليه رجل فقال يا رسول الله البعير يكون به الجرب فتجرب به الابل . قال " ذلك القدر فمن اجرب الاول
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يورد الممرض على المصح
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا، پھر اس سے کہا: کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔
حدثنا ابو بكر، ومجاهد بن موسى، ومحمد بن خلف العسقلاني، قالوا حدثنا يونس بن محمد، حدثنا مفضل بن فضالة، عن حبيب بن الشهيد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ بيد رجل مجذوم فادخلها معه في القصعة ثم قال " كل ثقة بالله وتوكلا على الله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جذامیوں ( کوڑھیوں ) کی طرف لگاتار مت دیکھو ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن نافع، عن ابن ابي الزناد، ح وحدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا وكيع، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، جميعا عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، عن امه، فاطمة بنت الحسين عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تديموا النظر الى المجذومين
شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، عن يعلى بن عطاء، عن رجل، من ال الشريد يقال له عمرو عن ابيه قال كان في وفد ثقيف رجل مجذوم فارسل اليه النبي صلى الله عليه وسلم " ارجع فقد بايعناك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کر دیا، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی، پھر کہا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں نے اس سے پوچھی تھی، میرے پاس دو شخص آئے، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ دوسرے نے کہا: اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے سوال کیا: کس نے جادو کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا: لبید بن اعصم نے، اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ جواب دیا: کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں، پہلے نے پوچھا: یہ چیزیں کہاں ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: ذی اروان کے کنوئیں میں ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے، پھر واپس آئے تو فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کی قسم! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح ( رنگین ) تھا، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں؟ فرمایا: نہیں، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کر دیا ہے، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کر دی گئیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم يهودي من يهود بني زريق يقال له لبيد بن الاعصم حتى كان النبي صلى الله عليه وسلم يخيل اليه انه يفعل الشىء ولا يفعله . قالت حتى اذا كان ذات يوم او كان ذات ليلة دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم دعا ثم دعا ثم قال " يا عايشة اشعرت ان الله قد افتاني فيما استفتيته فيه جاءني رجلان فجلس احدهما عند راسي والاخر عند رجلي فقال الذي عند راسي للذي عند رجلي او الذي عند رجلي للذي عند راسي ما وجع الرجل قال مطبوب . قال من طبه قال لبيد بن الاعصم . قال في اى شىء قال في مشط ومشاطة وجف طلعة ذكر . قال واين هو قال في بير ذي اروان " . قالت فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم في اناس من اصحابه ثم جاء فقال " والله يا عايشة لكان ماءها نقاعة الحناء ولكان نخلها رءوس الشياطين " . قالت قلت يا رسول الله افلا احرقته قال " لا اما انا فقد عافاني الله وكرهت ان اثير على الناس منه شرا " . فامر بها فدفنت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا بقية، حدثنا ابو بكر العنسي، عن يزيد بن ابي حبيب، ومحمد بن يزيد المصريين، قالا حدثنا نافع، عن ابن عمر، قال قالت ام سلمة يا رسول الله لا يزال يصيبك كل عام وجع من الشاة المسمومة التي اكلت . قال " ما اصابني شىء منها الا وهو مكتوب على وادم في طينته
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا وهيب، حدثنا محمد بن عجلان، عن يعقوب بن عبد الله بن الاشج، عن سعيد بن المسيب، عن سعد بن مالك، عن خولة بنت حكيم، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو ان احدكم اذا نزل منزلا قال اعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق - لم يضره في ذلك المنزل شىء حتى يرتحل منه
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، تو آپ نے فرمایا: کیا ابن ابی العاص ہو ؟، میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے سوال کیا: تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان ہے، تم میرے قریب آؤ، میں آپ کے قریب ہوا، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا: «اخرج عدو الله» اللہ کے دشمن! نکل جا ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا، اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اپنے کام پر جاؤ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: قسم سے! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثني عيينة بن عبد الرحمن، حدثني ابي، عن عثمان بن ابي العاص، قال لما استعملني رسول الله صلى الله عليه وسلم على الطايف جعل يعرض لي شىء في صلاتي حتى ما ادري ما اصلي فلما رايت ذلك رحلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ابن ابي العاص " . قلت نعم يا رسول الله . قال " ما جاء بك " . قلت يا رسول الله عرض لي شىء في صلاتي حتى ما ادري ما اصلي . قال " ذاك الشيطان ادنه " . فدنوت منه فجلست على صدور قدمى . قال فضرب صدري بيده وتفل في فمي وقال " اخرج عدو الله " . ففعل ذلك ثلاث مرات ثم قال " الحق بعملك " . قال فقال عثمان فلعمري ما احسبه خالطني بعد
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرا ایک بیمار بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے ؟ وہ بولا: اسے آسیب ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے لے کر آؤ ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ( اعرابی ) گیا اور اسے لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا، سورۃ فاتحہ، سورۃ البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں، اور «وإلهكم إله واحد» والی آیت، آیت الکرسی، پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات، آل عمران کی آیت ( جو میرے خیال میں ) «شهد الله أنه لا إله إلا هو» ہے، سورۃ الاعراف کی آیت «إن ربكم الله الذي خلق»، سورۃ مومنون کی آیت «ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به»، سورۃ الجن کی آیت «وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا» اور سورۃ الصافات کے شروع کی دس آیات، اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات، سورۃ «قل هو الله أحد» اور معوذتین کے ذریعے، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہو گیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے۔
حدثنا هارون بن حيان، حدثنا ابراهيم بن موسى، انبانا عبدة بن سليمان، حدثنا ابو جناب، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابيه ابي ليلى، قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاءه اعرابي فقال ان لي اخا وجعا . قال " ما وجع اخيك " . قال به لمم . قال " اذهب فاتني به " . قال فذهب فجاء به فاجلسه بين يديه فسمعته عوذه بفاتحة الكتاب واربع ايات من اول البقرة وايتين من وسطها والهكم اله واحد واية الكرسي وثلاث ايات من خاتمتها واية من ال عمران - احسبه قال {شهد الله انه لا اله الا هو} - واية من الاعراف {ان ربكم الله الذي خلق} الاية واية من المومنين {ومن يدع مع الله الها اخر لا برهان له به } واية من الجن {وانه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا} وعشر ايات من اول الصافات وثلاث ايات من اخر الحشر و {قل هو الله احد } والمعوذتين . فقام الاعرابي قد برا ليس به باس