Loading...

Loading...
کتب
۱۱۴ احادیث
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اخلاق ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن زياد بن علاقة، عن اسامة بن شريك، قال شهدت الاعراب يسالون النبي صلى الله عليه وسلم اعلينا حرج في كذا اعلينا حرج في كذا فقال لهم " عباد الله وضع الله الحرج الا من اقترض من عرض اخيه شييا فذاك الذي حرج " . فقالوا يا رسول الله هل علينا جناح ان نتداوى قال " تداووا عباد الله فان الله سبحانه لم يضع داء الا وضع معه شفاء الا الهرم " . قالوا يا رسول الله ما خير ما اعطي العبد قال " خلق حسن
ابوخزامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: بتائیے ان دواؤں کے بارے میں جن سے ہم علاج کرتے ہیں، ان منتروں کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اور ان بچاؤ کی چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو کچھ بدل سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابن ابي خزامة، عن ابي خزامة، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم ارايت ادوية نتداوى بها ورقى نسترقي بها وتقى نتقيها هل ترد من قدر الله شييا قال " هي من قدر الله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السايب، عن ابي عبد الرحمن، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما انزل الله داء الا انزل له دواء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابراهيم بن سعيد الجوهري، قالا حدثنا ابو احمد، عن عمر بن سعيد بن ابي حسين، حدثنا عطاء، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما انزل الله داء الا انزل له شفاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت فرمائی، اور اس سے پوچھا: تمہارا کیا کھانے کا جی چاہتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ گیہوں کی روٹی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلائے ۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا صفوان بن هبيرة، حدثنا ابو مكين، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم عاد رجلا فقال له " ما تشتهي " . فقال اشتهي خبز بر . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من كان عنده خبز بر فليبعث الى اخيه " . ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اشتهى مريض احدكم شييا فليطعمه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اور اس سے پوچھا: کیا تمہارا جی کسی چیز کی خواہش رکھتا ہے ؟ جواب دیا: میرا جی کیک ( کھانے کو ) چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، پھر صحابہ نے اس کے لیے کیک منگوایا ۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابو يحيى الحماني، عن الاعمش، عن يزيد الرقاشي، عن انس بن مالك، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم على مريض يعوده قال " اتشتهي شييا اتشتهي كعكا " . قال نعم . فطلبوا له
ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ اس وقت ایک بیماری کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے، ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھا رہے تھے، تو علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھانے کے لیے لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ٹھہرو! تم بیماری سے کمزور ہو گئے ہو، ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چقندر اور جو پکائے، تو آپ نے فرمایا: علی! اس میں سے کھاؤ، یہ تمہارے لیے مفید ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا فليح بن سليمان، عن ايوب بن عبد الرحمن بن عبد الله بن ابي صعصعة، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، وابو داود قالا حدثنا فليح بن سليمان، عن ايوب بن عبد الرحمن، عن يعقوب بن ابي يعقوب، عن ام المنذر بنت قيس الانصارية، قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه علي بن ابي طالب وعلي ناقه من مرض ولنا دوالي معلقة وكان النبي صلى الله عليه وسلم ياكل منها فتناول علي لياكل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مه يا علي انك ناقه " . قالت فصنعت للنبي صلى الله عليه وسلم سلقا وشعيرا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا علي من هذا فاصب فانه انفع لك
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آؤ اور کھاؤ ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے ، میں نے عرض کیا: میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبد الوهاب، حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابن المبارك، عن عبد الحميد بن صيفي، - من ولد صهيب - عن ابيه، عن جده، صهيب قال قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم وبين يديه خبز وتمر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ادن فكل " . فاخذت اكل من التمر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " تاكل تمرا وبك رمد " . قال فقلت اني امضغ من ناحية اخرى . فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا بكر بن يونس بن بكير، عن موسى بن علي بن رباح، عن ابيه، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكرهوا مرضاكم على الطعام والشراب فان الله يطعمهم ويسقيهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو جب بخار آتا تو آپ حریرہ کھانے کا حکم دیتے، اور فرماتے: یہ غمگین کے دل کو سنبھالتا ہے، اور بیمار کے دل سے اسی طرح رنج و غم دور کر دیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کو پانی سے دور کر دیتی ہے ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا محمد بن السايب بن بركة، عن امه، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اخذ اهله الوعك امر بالحساء . قالت وكان يقول " انه ليرتو فواد الحزين ويسرو عن فواد السقيم كما تسرو احداكن الوسخ عن وجهها بالماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہو جاتا یا انتقال کر جاتا ۔
حدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا وكيع، عن ايمن بن نابل، عن امراة، من قريش يقال لها كلثم عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " عليكم بالبغيض النافع التلبينة " . يعني الحساء . قالت وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اشتكى احد من اهله لم تزل البرمة على النار حتى ينتهي احد طرفيه . يعني يبرا او يموت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے «سام» کے، اور «سام»موت ہے، اور کالا دانہ «شونیز» یعنی کلونجی ہے ۔
حدثنا محمد بن رمح، ومحمد بن الحارث المصريان، قالا حدثنا الليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، اخبرهما انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان في الحبة السوداء شفاء من كل داء الا السام " . والسام الموت . والحبة السوداء الشونيز
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے ۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا ابو عاصم، عن عثمان بن عبد الملك، قال سمعت سالم بن عبد الله، يحدث عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عليكم بهذه الحبة السوداء فان فيها شفاء من كل داء الا السام
خالد بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے، وہ راستے میں بیمار پڑ گئے، پھر ہم مدینہ آئے، ابھی وہ بیمار ہی تھے، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے، اور ہم سے کہا: تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے، سوائے اس کے کہ وہ «سام» ہو ، میں نے عرض کیا کہ «سام» کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله، انبانا اسراييل، عن منصور، عن خالد بن سعد، قال خرجنا ومعنا غالب بن ابجر فمرض في الطريق فقدمنا المدينة وهو مريض فعاده ابن ابي عتيق وقال لنا عليكم بهذه الحبة السوداء فخذوا منها خمسا او سبعا فاسحقوها ثم اقطروها في انفه بقطرات زيت في هذا الجانب وفي هذا الجانب فان عايشة حدثتهم انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان هذه الحبة السوداء شفاء من كل داء الا ان يكون السام " . قلت وما السام قال " الموت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہر ماہ تین روز صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے، وہ کسی بڑی آفت بیماری سے دو چار نہ ہو گا ۔
حدثنا محمود بن خداش، حدثنا سعيد بن زكرياء القرشي، حدثنا الزبير بن سعيد الهاشمي، عن عبد الحميد بن سالم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لعق العسل ثلاث غدوات كل شهر لم يصبه عظيم من البلاء
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں مزید لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا عمر بن سهل، حدثنا ابو حمزة العطار، عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، قال اهدي للنبي صلى الله عليه وسلم عسل فقسم بيننا لعقة لعقة فاخذت لعقتي ثم قلت يا رسول الله ازداد اخرى قال " نعم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دو شفاوؤں یعنی شہد اور قرآن کو لازم پکڑو ۔
حدثنا علي بن سلمة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بالشفاءين العسل والقران
ابو سعید خدری اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج، اور عجوہ ( کھجور ) جنت کا میوہ ہے اور اس میں پاگل پن اور دیوانگی کا علاج ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا اسباط بن محمد، حدثنا الاعمش، عن جعفر بن اياس، عن شهر بن حوشب، عن ابي سعيد، وجابر، قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الكماة من المن وماوها شفاء للعين والعجوة من الجنة وهي شفاء من الجنة " . حدثنا علي بن ميمون، ومحمد بن عبد الله الرقيان، قالا حدثنا سعيد بن مسلمة بن هشام، عن الاعمش، عن جعفر بن اياس، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «من» میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، سمع عمرو بن حريث، يقول سمعت سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم ان " الكماة من المن الذي انزل الله على بني اسراييل وماوها شفاء للعين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آ گیا، تو لوگوں نے کہا: وہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھمبی «منّ» میں سے ہے، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے، اور اس میں زہر سے شفاء ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عبد الصمد، حدثنا مطر الوراق، عن شهر بن حوشب، عن ابي هريرة، قال كنا نتحدث عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرنا الكماة فقالوا هي جدري الارض . فنمي الحديث الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الكماة من المن والعجوة من الجنة وهي شفاء من السم