Loading...

Loading...
کتب
۱۱۴ احادیث
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں ۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: لفظ «صخرہ» میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا المشمعل بن اياس المزني، حدثني عمرو بن سليم، قال سمعت رافع بن عمرو المزني، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العجوة والصخرة من الجنة " . قال عبد الرحمن حفظت الصخرة من فيه
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا (وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! «سام» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت ۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا: «سنوت»: «سویے» کو کہتے ہیں، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن محمد بن يوسف بن سرج الفريابي، حدثنا عمرو بن بكر السكسكي، حدثنا ابراهيم بن ابي عبلة، قال سمعت ابا ابى ابن ام حرام، وكان، قد صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم القبلتين يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " عليكم بالسنى والسنوت فان فيهما شفاء من كل داء الا السام . قيل يا رسول الله وما السام قال " الموت " . قال عمرو قال ابن ابي عبلة السنوت الشبت . وقال اخرون بل هو العسل الذي يكون في زقاق السمن وهو قول الشاعر هم السمن بالسنوت لا الس فيهم وهم يمنعون جارهم ان يقردا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دوپہر کو چلے، میں بھی چلا، تو میں نے نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: «اشكمت درد» کیا پیٹ میں درد ہے ؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو، اس لیے کہ نماز میں شفاء ہے ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا السري بن مسكين، حدثنا ذواد بن علبة، عن ليث، عن مجاهد، عن ابي هريرة، قال هجر النبي صلى الله عليه وسلم فهجرت فصليت ثم جلست فالتفت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اشكمت درد " . قلت نعم يا رسول الله . قال " قم فصل فان في الصلاة شفاء " . قال ابو الحسن القطان حدثنا ابراهيم بن نصر، حدثنا ابو سلمة، حدثنا ذواد بن علبة، فذكر نحوه وقال فيه اشكمت درد . يعني تشتكي بطنك بالفارسية . قال ابو عبد الله حدث به رجل لاهله فاستعدوا عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپاک ( یا حرام ) دوا سے منع فرمایا، یعنی زہر سے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن يونس بن ابي اسحاق، عن مجاهد، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدواء الخبيث . يعني السم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا، تو وہ اسے جہنم میں بھی پیتا رہے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شرب سما فقتل نفسه فهو يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم مسہل کس چیز کا لیتی تھی ؟ میں نے عرض کیا: «شبرم» سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بہت گرم ہے ، پھر میں «سنا» کا مسہل لینے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز موت سے نجات دے سکتی تو وہ «سنا» ہوتی، «سنا» ہر قسم کی جان لیوا امراض سے شفاء دیتی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبد الحميد بن جعفر، عن زرعة بن عبد الرحمن، عن مولى، لمعمر التيمي عن معمر التيمي، عن اسماء بنت عميس، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " بماذا كنت تستمشين " . قلت بالشبرم قال " حار جار " . ثم استمشيت بالسنى . فقال " لو كان شىء يشفي من الموت كان السنى والسنى شفاء من الموت
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ ( نمونیہ ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ام قيس بنت محصن، قالت دخلت بابن لي على النبي صلى الله عليه وسلم وقد اعلقت عليه من العذرة فقال " علام تدغرن اولادكن بهذا العلاق عليكم بهذا العود الهندي فان فيه سبعة اشفية يسعط به من العذرة ويلد به من ذات الجنب " . حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله، عن ام قيس بنت محصن، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه . قال يونس اعلقت يعني غمزت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «عرق النسا» ۱؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی ( چربی ) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے ۔
حدثنا هشام بن عمار، وراشد بن سعيد الرملي، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا هشام بن حسان، حدثنا انس بن سيرين، انه سمع انس بن مالك، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " شفاء عرق النسا الية شاة اعرابية تذاب ثم تجزا ثلاثة اجزاء ثم يشرب على الريق في كل يوم جزء
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن زخمی ہو گئے، آپ کے سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا، اور خود ٹوٹ کر آپ کے سر میں گھس گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی لا لا کر ڈال رہے تھے، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی کی وجہ سے خون بجائے رکنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا، جب وہ راکھ ہو گیا تو اسے زخم میں بھر دیا، اور اس طرح خون رک گیا۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد الساعدي، قال جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على راسه فكانت فاطمة تغسل الدم عنه وعلي يسكب عليه الماء بالمجن فلما رات فاطمة ان الماء لا يزيد الدم الا كثرة اخذت قطعة حصير فاحرقتها حتى اذا صار رمادا الزمته الجرح فاستمسك الدم
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن ابيه، عن جده، قال اني لاعرف يوم احد من جرح وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن كان يرقي الكلم من وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ويداويه ومن يحمل الماء في المجن وبما دووي به الكلم حتى رقا . قال اما من كان يحمل الماء في المجن فعلي واما من كان يداوي الكلم ففاطمة احرقت له حين لم يرقا قطعة حصير خلق فوضعت رماده عليه فرقا الكلم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن ( ذمہ دار ) ہو گا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، وراشد بن سعيد الرملي، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تطبب ولم يعلم منه طب قبل ذلك فهو ضامن
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذات الجنب» کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ «ورس» اور «قسط» ( عود ہندی ) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبد الوهاب، حدثنا يعقوب بن اسحاق، حدثنا عبد الرحمن بن ميمون، حدثني ابي، عن زيد بن ارقم، قال نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم من ذات الجنب ورسا وقسطا وزيتا يلد به
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے «عود ہندی» کا استعمال لازمی ہے «کست» کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے، ان میں ایک «ذات الجنب» بھی ہے ۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں: «فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب» اس میں سات امراض کا علاج ہے، ان میں سے ایک مرض «ذات الجنب» ہے ۔
حدثنا ابو طاهر، احمد بن عمرو بن السرح المصري حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، وابن، سمعان عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ام قيس بنت محصن، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بالعود الهندي - يعني به الكست - فان فيه سبعة اشفية منها ذات الجنب " . قال ابن سمعان في الحديث " فان فيه شفاء من سبعة ادواء منها ذات الجنب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی ( برا بھلا کہا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے گالی نہ دو ( برا بھلا نہ کہو ) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن موسى بن عبيدة، عن علقمة بن مرثد، عن حفص بن عبيد الله، عن ابي هريرة، قال ذكرت الحمى عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فسبها رجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تسبها فانها تنفي الذنوب كما تنفي النار خبث الحديد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن اسماعيل بن عبيد الله، عن ابي صالح الاشعري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه عاد مريضا ومعه ابو هريرة من وعك كان به فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابشر فان الله يقول هي ناري اسلطها على عبدي المومن في الدنيا لتكون حظه من النار في الاخرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ان شدة الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے ( وہ بیمار تھا ) اور یوں دعا فرمائی: «اكشف الباس رب الناس إله الناس» لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! ( اے اللہ ) تو اس بیماری کو دور فرما ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا مصعب بن المقدام، حدثنا اسراييل، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن رافع بن خديج، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء " . فدخل على ابن لعمار فقال " اكشف الباس رب الناس اله الناس
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ جہنم کی بھاپ ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، انها كانت توتى بالمراة الموعوكة فتدعو بالماء فتصبه في جيبها وتقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ابردوها بالماء " . وقال " انها من فيح جهنم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو ۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الحمى كير من كير جهنم فنحوها عنكم بالماء البارد