Loading...

Loading...
کتب
۱۱۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا حماد بن سلمة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان كان في شىء مما تداوون به خير فالحجامة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پچھنے کو لازم کر لیں ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا زياد بن الربيع، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما مررت ليلة اسري بي بملا من الملايكة الا كلهم يقول لي عليك يا محمد بالحجامة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا عبد الاعلى، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم العبد الحجام يذهب بالدم ويخف الصلب ويجلو البصر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا كثير بن سليم، سمعت انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما مررت ليلة اسري بي بملا الا قالوا يا محمد مر امتك بالحجامة
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، ان ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحجامة فامر النبي صلى الله عليه وسلم ابا طيبة ان يحجمها . وقال حسبت انه كان اخاها من الرضاعة او غلاما لم يحتلم
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني علقمة بن ابي علقمة، قال سمعت عبد الرحمن الاعرج، قال سمعت عبد الله ابن بحينة، يقول احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحى جمل وهو محرم وسط راسه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن سعد الاسكاف، عن الاصبغ بن نباتة، عن علي، قال نزل جبريل على النبي صلى الله عليه وسلم بحجامة الاخدعين والكاهل
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا۔
حدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا وكيع، عن جرير بن حازم، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم في الاخدعين وعلى الكاهل
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے: جو ان مقامات سے خون بہا دے، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا ۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ابن ثوبان، عن ابيه، عن ابي كبشة الانماري، انه حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يحتجم على هامته وبين كتفيه ويقول " من اهراق منه هذه الدماء فلا يضره ان لا يتداوى بشىء لشىء
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی۔ وکیع کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سقط من فرسه على جذع فانفكت قدمه . قال وكيع يعني ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم عليها من وثء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو ( ہجری ) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور ( کسی ایسے دن نہ لگوائے ) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عثمان بن مطر، عن زكريا بن ميسرة، عن النهاس بن قهم، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اراد الحجامة فليتحر سبعة عشر او تسعة عشر او احدى وعشرين ولا يتبيغ باحدكم الدم فيقتله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عثمان بن مطر، عن الحسن بن ابي جعفر، عن محمد بن جحادة، عن نافع، عن ابن عمر، قال يا نافع قد تبيغ بي الدم فالتمس لي حجاما واجعله رفيقا ان استطعت ولا تجعله شيخا كبيرا ولا صبيا صغيرا فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الحجامة على الريق امثل وفيه شفاء وبركة وتزيد في العقل وفي الحفظ فاحتجموا على بركة الله يوم الخميس واجتنبوا الحجامة يوم الاربعاء والجمعة والسبت ويوم الاحد تحريا واحتجموا يوم الاثنين والثلاثاء فانه اليوم الذي عافى الله فيه ايوب من البلاء وضربه بالبلاء يوم الاربعاء فانه لا يبدو جذام ولا برص الا يوم الاربعاء او ليلة الاربعاء
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرا خون جوش میں ہے، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ، جو جوان ہو، ناکہ بوڑھا یا بچہ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے، حافظہ تیز ہوتا ہے، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے، جمعہ، ہفتہ ( سنیچر ) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو، پیر ( دوشنبہ ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ ( بدھ ) سے بھی بچو، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا عثمان بن عبد الرحمن، حدثنا عبد الله بن عصمة، عن سعيد بن ميمون، عن نافع، قال قال ابن عمر يا نافع تبيغ بي الدم فاتني بحجام واجعله شابا ولا تجعله شيخا ولا صبيا . قال وقال ابن عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الحجامة على الريق امثل وهي تزيد في العقل وتزيد في الحفظ وتزيد الحافظ حفظا فمن كان محتجما فيوم الخميس على اسم الله واجتنبوا الحجامة يوم الجمعة ويوم السبت ويوم الاحد واحتجموا يوم الاثنين والثلاثاء واجتنبوا الحجامة يوم الاربعاء فانه اليوم الذي اصيب فيه ايوب بالبلاء وما يبدو جذام ولا برص الا في يوم الاربعاء او ليلة الاربعاء
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ( آگ یا لوہا سے بدن ) داغنے یا منتر ( جھاڑ پھونک ) سے علاج کیا، وہ توکل سے بری ہو گیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ليث، عن مجاهد، عن عقار بن المغيرة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكتوى او استرقى فقد بري من التوكل
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگ یا لوہے سے جسم ) داغنے سے منع فرمایا، لیکن میں نے داغ لگایا، تو نہ میں کامیاب ہوا، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، عن منصور، ويونس، عن الحسن، عن عمران بن الحصين، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكى فاكتويت فما افلحت ولا انجحت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شفاء تین چیزوں میں ہے: گھونٹ بھر شہد پینے میں، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوع روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن شجاع، حدثنا سالم الافطس، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال " الشفاء في ثلاث شربة عسل وشرطة محجم وكية بنار وانهى امتي عن الكى " . رفعه
محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ۱؎ ( جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے ) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوامامہ ( یعنی! اسعد رضی اللہ عنہ ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، غندر حدثنا شعبة، ح وحدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة الانصاري، قال سمعت عمي، يحيى - وما ادركت رجلا منا به شبيها يحدث الناس ان سعد بن زرارة - وهو جد محمد من قبل امه انه اخذه وجع في حلقه يقال له الذبحة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لابلغن او لابلين في ابي امامة عذرا " . فكواه بيده فمات فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ميتة سوء لليهود يقولون افلا دفع عن صاحبه . وما املك له ولا لنفسي شييا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا محمد بن عبيد الطنافسي، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال مرض ابى بن كعب مرضا فارسل اليه النبي طبيبا فكواه على اكحله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ والی رگ میں دو مرتبہ داغا ۱؎۔
حدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كوى سعد بن معاذ في اكحله مرتين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے اوپر «اثمد» ۲؎ کو لازم کر لو، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے ۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا ابو عاصم، حدثني عثمان بن عبد الملك، قال سمعت سالم بن عبد الله، يحدث عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بالاثمد فانه يجلو البصر وينبت الشعر