Loading...

Loading...
کتب
۱۱۴ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن اسماعيل بن مسلم، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " عليكم بالاثمد عند النوم فانه يجلو البصر وينبت الشعر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ نظر ( بینائی ) تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن ابن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير اكحالكم الاثمد يجلو البصر وينبت الشعر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، اگر ایسا کرے گا تو بہتر ہو گا، اور اگر نہ کیا تو حرج کی بات نہیں ۔
حدثنا عبد الرحمن بن عمر، حدثنا عبد الملك بن الصباح، عن ثور بن يزيد، عن حصين الحميري، عن ابي سعد الخير، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكتحل فليوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمہ کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، آپ اس میں سے ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كانت للنبي صلى الله عليه وسلم مكحلة يكتحل منها ثلاثا في كل عين
طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں انگور ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، انبانا سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل الحضرمي، عن طارق بن سويد الحضرمي، قال قلت يا رسول الله ان بارضنا اعنابا نعتصرها فنشرب منها قال " لا " . فراجعته قلت انا نستشفي به للمريض . قال " ان ذلك ليس بشفاء ولكنه داء
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین دوا قرآن ہے ۔
حدثنا محمد بن عبيد بن عتبة بن عبد الرحمن الكندي، حدثنا علي بن ثابت، حدثنا سعاد بن سليمان، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الدواء القران
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا فايد، مولى عبيد الله بن علي بن ابي رافع حدثني مولاى، عبيد الله حدثتني جدتي، سلمى ام رافع مولاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كان لا يصيب النبي صلى الله عليه وسلم قرحة ولا شوكة الا وضع عليه الحناء
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حميد، عن انس، ان ناسا، من عرينة قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجتووا المدينة فقال صلى الله عليه وسلم " لو خرجتم الى ذود لنا فشربتم من البانها وابوالها " . ففعلوا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے ( اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے ) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن خالد، عن ابي سلمة، حدثني ابو سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " في احد جناحى الذباب سم وفي الاخر شفاء فاذا وقع في الطعام فامقلوه فيه فانه يقدم السم ويوخر الشفاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، پھر نکال کر پھینک دو، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا مسلم بن خالد، عن عتبة بن مسلم، عن عبيد بن حنين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وقع الذباب في شرابكم فليغمسه فيه ثم ليطرحه فان في احد جناحيه داء وفي الاخر شفاء
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا عمار بن رزيق، عن عبد الله بن عيسى، عن امية بن هند، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العين حق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگنا حقیقت ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن الجريري، عن مضارب بن حزن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العين حق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ طلب کرو، اس لیے کہ نظر بد حق ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو هشام المخزومي، حدثنا وهيب، عن ابي واقد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " استعيذوا بالله فان العين حق
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ( ابوامامہ کے باپ ) کے پاس ہوا، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے، عامر نے کہا: میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم لوگوں کا گمان کس پر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، قال مر عامر بن ربيعة بسهل بن حنيف وهو يغتسل فقال لم ار كاليوم ولا جلد مخباة . فما لبث ان لبط به فاتي به النبي صلى الله عليه وسلم فقيل له ادرك سهلا صريعا . قال " من تتهمون به " . قالوا عامر بن ربيعة . قال " علام يقتل احدكم اخاه اذا راى احدكم من اخيه ما يعجبه فليدع له بالبركة " . ثم دعا بماء فامر عامرا ان يتوضا فيغسل وجهه ويديه الى المرفقين وركبتيه وداخلة ازاره وامره ان يصب عليه . قال سفيان قال معمر عن الزهري وامره ان يكفا الاناء من خلفه
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عروة بن عامر، عن عبيد بن رفاعة الزرقي، قال قالت اسماء يا رسول الله ان بني جعفر تصيبهم العين فاسترقي لهم قال " نعم فلو كان شىء سابق القدر سبقته العين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سعيد بن سليمان، عن عباد، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من عين الجان واعين الانس فلما نزلت المعوذتان اخذهما وترك ما سوى ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا وكيع، عن سفيان، ومسعر، عن معبد بن خالد، عن عبد الله بن شداد، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها ان تسترقي من العين
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا اسحاق بن سليمان، عن ابي جعفر الرازي، عن حصين، عن الشعبي، عن بريدة بن الحصيب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا رقية الا من عين او حمة
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن عمارة، عن ابي بكر بن محمد، ان خالدة بنت انس ام بني حزم الساعدية، جاءت الى النبي صلى الله عليه وسلم فعرضت عليه الرقى فامرها بها
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جھاڑ پھونک ( منتر ) مجھے سناؤ ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» ( یعنی ثابت شدہ ہیں ) ۔
حدثنا علي بن ابي الخصيب، حدثنا يحيى بن عيسى، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال كان اهل بيت من الانصار يقال لهم ال عمرو بن حزم يرقون من الحمة وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهى عن الرقى فاتوه فقالوا يا رسول الله انك قد نهيت عن الرقى وانا نرقي من الحمة . فقال لهم " اعرضوا على " . فعرضوها عليه فقال " لا باس بهذه هذه مواثيق