احادیث
#3462
سنن ابن ماجہ - Medicine
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ ( نمونیہ ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ام قيس بنت محصن، قالت دخلت بابن لي على النبي صلى الله عليه وسلم وقد اعلقت عليه من العذرة فقال " علام تدغرن اولادكن بهذا العلاق عليكم بهذا العود الهندي فان فيه سبعة اشفية يسعط به من العذرة ويلد به من ذات الجنب " . حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله، عن ام قيس بنت محصن، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه . قال يونس اعلقت يعني غمزت
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Medicine
- Hadith Index
- #3462
- Book Index
- 27
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
