Loading...

Loading...
کتب
۵۱ احادیث
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر آپ نے فرمایا: انہیں کتوں سے کیا مطلب ؟ پھر آپ نے انہیں شکاری کتے رکھنے کی اجازت دے دی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت مطرفا، يحدث عن عبد الله بن مغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الكلاب ثم قال " ما لهم وللكلاب " . ثم رخص لهم في كلب الصيد
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دیا، پھر فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا مطلب ہے ؟ پھر آپ نے کھیت اور باغ کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔ بندار کہتے ہیں: «عین» سے مراد مدینہ کے باغات ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، ح وحدثنا محمد بن الوليد، حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت مطرفا، عن عبد الله بن مغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الكلاب ثم قال " ما لهم وللكلاب " . ثم رخص لهم في كلب الزرع وكلب العين . قال بندار العين حيطان المدينة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا سويد بن سعيد، انبانا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الكلاب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے کتوں کے قتل کا حکم فرماتے ہوئے سنا: اور کتے قتل کئیے جاتے تھے بجز شکاری اور ریوڑ کے کتوں کے۔
حدثنا ابو طاهر، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم رافعا صوته يامر بقتل الكلاب وكانت الكلاب تقتل الا كلب صيد او ماشية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کتا پالے گا اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہو گا، سوائے کھیت یا ریوڑ کے کتے کے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقتنى كلبا فانه ينقص من عمله كل يوم قيراط الا كلب حرث او ماشية
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق نہ ہوتے، تو میں یقیناً ان کے قتل کا حکم دیتا، پھر بھی خالص کالے کتے کو قتل کر ڈالو، اور جن لوگوں نے جانوروں کی حفاظت یا شکاری یا کھیتی کے علاوہ دوسرے کتے پال رکھے ہیں، ان کے اجر سے ہر روز دو قیراط کم ہو جاتے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن عبد الله، عن ابي شهاب، حدثني يونس بن عبيد، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ان الكلاب امة من الامم لامرت بقتلها فاقتلوا منها الاسود البهيم وما من قوم اتخذوا كلبا الا كلب ماشية او كلب صيد او كلب حرث الا نقص من اجورهم كل يوم قيراطان
سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کتا پالے اور وہ اس کے کھیت یا ریوڑ کے کام نہ آتا ہو تو اس کے عمل ( ثواب ) سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے ، لوگوں نے سفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے خود اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اس مسجد کے رب کی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا مالك بن انس، عن يزيد بن خصيفة، عن السايب بن يزيد، عن سفيان بن ابي زهير، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من اقتنى كلبا لا يغني عنه زرعا ولا ضرعا نقص من عمله كل يوم قيراط " . فقيل له انت سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم قال اي ورب هذا المسجد
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب ( یہود و نصاری ) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کر سکو تو کھاؤ ( ورنہ نہیں ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا حيوة بن شريح، حدثني ربيعة بن يزيد، اخبرني ابو ادريس الخولاني، عن ابي ثعلبة الخشني، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انا بارض اهل كتاب ناكل في انيتهم وبارض صيد اصيد بقوسي واصيد بكلبي المعلم واصيد بكلبي الذي ليس بمعلم . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ما ذكرت انكم في ارض اهل كتاب فلا تاكلوا في انيتهم الا ان لا تجدوا منها بدا فان لم تجدوا منها بدا فاغسلوها وكلوا فيها واما ما ذكرت من امر الصيد فما اصبت بقوسك فاذكر اسم الله وكل وما صدت بكلبك المعلم فاذكر اسم الله وكل وما صدت بكلبك الذي ليس بمعلم فادركت ذكاته فكل
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہم ایک ایسی قوم ہیں جو کتوں سے شکار کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سدھائے ہوئے کتوں کو «بسم الله» کہہ کر چھوڑو، تو ان کے اس شکار کو کھاؤ جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں، چاہے انہیں قتل کر دیا ہو، سوائے اس کے کہ کتے نے اس میں سے کھا لیا ہو، اگر کتے نے کھا لیا تو مت کھاؤ، اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کتے نے اسے اپنے لیے پکڑا ہو، اور اگر اس سدھائے ہوئے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے بھی شریک ہو گئے ہوں تو بھی مت کھاؤ ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن منذر کو کہتے سنا کہ میں نے اٹھاون حج کیے ہیں اور ان میں سے اکثر پیدل چل کر۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا بيان بن بشر، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت انا قوم نصيد بهذه الكلاب . قال " اذا ارسلت كلابك المعلمة وذكرت اسم الله عليها فكل ما امسكن عليك وان قتلن الا ان ياكل الكلب فان اكل الكلب فلا تاكل فاني اخاف ان يكون انما امسك على نفسه وان خالطها كلاب اخر فلا تاكل " . قال ابن ماجه سمعته - يعني علي بن المنذر - يقول حججت ثمانية وخمسين حجة اكثرها راجل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے یعنی مجوسیوں کے کتے، یا ان کے پرندوں کے شکار ( کھانے ) سے منع کر دیا گیا ہے۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، عن شريك، عن حجاج بن ارطاة، عن القاسم بن ابي بزة، عن سليمان اليشكري، عن جابر بن عبد الله، قال نهينا عن صيد، كلبهم وطايرهم يعني المجوس
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شیطان ہے ۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، عن سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكلب الاسود البهيم فقال " شيطان
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کو کھاؤ جو تمہاری کمان شکار کرے ۔
حدثنا ابو عمير، عيسى بن محمد النحاس وعيسى بن يونس الرملي قالا حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن الاوزاعي، عن يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيب، عن ابي ثعلبة الخشني، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل ما ردت عليك قوسك
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تیر انداز لوگ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیر مارو اور وہ ( شکار کے جسم میں ) گھس جائے، تو جس کے اندر تیر پیوست ہو جائے اسے کھاؤ ۔
حدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا مجالد بن سعيد، عن عامر، عن عدي بن حاتم، قال قلت يا رسول الله انا قوم نرمي . قال " اذا رميت وخزقت فكل ما خزقت
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں شکار کرتا ہوں اور شکار مجھ سے پوری رات غائب رہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس شکار میں اپنے تیر کے علاوہ کسی اور کا تیر نہ پاؤ تو اسے کھاؤ ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن عاصم، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم، قال قلت يا رسول الله ارمي الصيد فيغيب عني ليلة قال " اذا وجدت فيه سهمك ولم تجد فيه شييا غيره فكله
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کی نوک سے مرے اسے کھاؤ، اور جو اس کے عرض ( چوڑان ) سے مرے وہ مردار ہے ۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، ح وحدثنا علي بن المنذر، حدثنا محمد بن فضيل، قالا حدثنا زكريا بن ابي زايدة، عن عامر، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصيد بالمعراض . قال " ما اصبت بحده فكل وما اصبت بعرضه فهو وقيذ
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہتھیار کی چوڑان سے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شکار میں تیر پیوست ہوا ہو صرف اسی کو کھاؤ ۔
حدثنا عمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، عن ابيه، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث النخعي، عن عدي بن حاتم، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المعراض فقال " لا تاكل الا ان يخزق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا معن بن عيسى، عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما قطع من البهيمة وهي حية فما قطع منها فهو ميتة
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی دمیں کاٹیں گے، آ گاہ رہو! زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ لیا جائے وہ مردار کے ( حکم میں ) ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ابو بكر الهذلي، عن شهر بن حوشب، عن تميم الداري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يكون في اخر الزمان قوم يجبون اسنمة الابل ويقطعون اذناب الغنم الا فما قطع من حى فهو ميت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار: مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں ۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " احلت لنا ميتتان الحوت والجراد
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف ونصر بن علي قالا حدثنا زكريا بن يحيى بن عمارة، حدثنا ابو العوام، عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجراد فقال " اكثر جنود الله لا اكله ولا احرمه