احادیث
#3207
سنن ابن ماجہ - Hunting
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب ( یہود و نصاری ) کے ملک میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہے، میں اپنی کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں، اور ان کتوں سے بھی جو سدھائے ہوئے نہیں ہوتے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہی یہ بات جو تم نے ذکر کی کہ ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو تم ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ، اِلا یہ کہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر اس کے علاوہ تم کوئی چارہ نہ پاؤ تو پھر انہیں دھو ڈالو، اور ان میں کھاؤ، رہا شکار کا معاملہ جو تم نے ذکر کیا تو جو شکار تم اپنے کمان سے کرو اس پر اللہ کا نام لے کر شکار کرو اور کھاؤ، اور جو شکار سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو کتا چھوڑتے وقت اللہ کا نام لو اور کھاؤ، اور جو شکار ایسے کتے کے ذریعہ کیا گیا ہو جو سدھایا ہوا نہ ہو تو اگر تم اسے ذبح کر سکو تو کھاؤ ( ورنہ نہیں ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا الضحاك بن مخلد، حدثنا حيوة بن شريح، حدثني ربيعة بن يزيد، اخبرني ابو ادريس الخولاني، عن ابي ثعلبة الخشني، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله انا بارض اهل كتاب ناكل في انيتهم وبارض صيد اصيد بقوسي واصيد بكلبي المعلم واصيد بكلبي الذي ليس بمعلم . قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ما ذكرت انكم في ارض اهل كتاب فلا تاكلوا في انيتهم الا ان لا تجدوا منها بدا فان لم تجدوا منها بدا فاغسلوها وكلوا فيها واما ما ذكرت من امر الصيد فما اصبت بقوسك فاذكر اسم الله وكل وما صدت بكلبك المعلم فاذكر اسم الله وكل وما صدت بكلبك الذي ليس بمعلم فادركت ذكاته فكل
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Hunting
- Hadith Index
- #3207
- Book Index
- 8
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
