Loading...

Loading...
کتب
۵۱ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٹڈیوں کو پلیٹوں میں رکھ کر بطور ہدیہ بھیجتی تھیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي سعد البقال، سمع انس بن مالك، يقول كن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم يتهادين الجراد على الاطباق
جابر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں کے لیے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! بڑی ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، چھوٹی ٹڈیوں کو مار ڈال، ان کے انڈے خراب کر دے، اور ان کی اصل ( جڑ ) کو کاٹ ڈال اور ان کے منہ کو ہماری روزیوں اور غلوں سے پکڑ لے ( انہیں ان تک پہنچنے نہ دے ) ، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیسے اللہ کی ایک فوج کی اصل اور جڑ کاٹنے کے لیے بد دعا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈی دریا کی مچھلی کی چھینک ہے ۔ ہاشم کہتے ہیں کہ زیاد ( راوی حدیث ) نے کہا: تو مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے مچھلی اسے ( ٹڈی کو ) چھینکتے دیکھا۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا زياد بن عبد الله بن علاثة، عن موسى بن محمد بن ابراهيم، عن ابيه، عن جابر، وانس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا دعا على الجراد قال " اللهم اهلك كباره واقتل صغاره وافسد بيضه واقطع دابره وخذ بافواهها عن معايشنا وارزاقنا انك سميع الدعاء " . فقال رجل يا رسول الله كيف تدعو على جند من اجناد الله بقطع دابره قال " ان الجراد نثرة الحوت في البحر " . قال هاشم قال زياد فحدثني من راى الحوت ينثره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، تو ہمارے سامنے ٹڈیوں کا ایک گروہ آیا، یا ایک قسم کی ٹڈیاں آئیں، تو ہم انہیں اپنے کوڑوں اور جوتوں سے مارنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کھاؤ یہ دریا کا شکار ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في حجة او عمرة فاستقبلنا رجل من جراد او ضرب من جراد فجعلنا نضربهن باسواطنا ونعالنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كلوه فانه من صيد البحر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹورا ( ایک چھوٹا سا پرندہ ) ، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، وعبد الرحمن بن عبد الوهاب، قالا حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا ابراهيم بن الفضل، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل الصرد والضفدع والنملة والهدهد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور لٹورا کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل اربع من الدواب النملة والنحل والهدهد والصرد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر جلا دینے کا حکم دیا، تو وہ جلا دیئے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی نازل کی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں ( مخلوقات ) میں سے ایک امت ( مخلوق ) کو تباہ کر دیا، جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی تھی ؟۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، واحمد بن عيسى المصريان، قالا حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، عن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " ان نبيا من الانبياء قرصته نملة فامر بقرية النمل فاحرقت فاوحى الله عز وجل اليه في ان قرصتك نملة اهلكت امة من الامم تسبح " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو صالح، حدثني الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، باسناده نحوه وقال قرصت
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: نہ اس ( کنکری مارنے ) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے ، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، ان قريبا، لعبد الله بن مغفل خذف فنهاه وقال ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الخذف وقال " انها لا تصيد صيدا ولا تنكا عدوا ولكنها تكسر السن وتفقا العين " . قال فعاد . فقال احدثك ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنه ثم عدت لا اكلمك ابدا
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس سے نہ تو شکار مرتا ہے، اور نہ ہی یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اور دانت ٹوٹ جاتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد بن سعيد، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عقبة بن صهبان، عن عبد الله بن مغفل، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الخذف وقال " انها لا تقتل الصيد ولا تنكي العدو ولكنها تفقا العين وتكسر السن
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الحميد بن جبير، عن سعيد بن المسيب، عن ام شريك، ان النبي صلى الله عليه وسلم امرها بقتل الاوزاغ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چھپکلی ایک ہی وار میں مار ڈالے تو اس کے لیے اتنی اور اتنی نیکیاں ہیں، اور جس نے دوسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی ( پہلے سے کم ) نیکیاں ہیں، اور جس نے تیسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی ( دوسرے سے کم ) ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قتل وزغا في اول ضربة فله كذا وكذا حسنة ومن قتلها في الثانية فله كذا وكذا - ادنى من الاولى - ومن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة - ادنى من الذي ذكره في المرة الثانية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو «فویسقہ» چھوٹا فاسق ( یعنی موذی ) کہا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للوزغ " الفويسقة
فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ کے گھر ایک برچھا رکھا ہوا دیکھا، تو عرض کیا: ام المؤمنین! آپ اس برچھے سے کیا کرتی ہیں؟ کہا: ہم اس سے ان چھپکلیوں کو مارتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کے تمام جانوروں نے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کہ یہ اسے ( مزید ) پھونک مارتی تھی، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يونس بن محمد، عن جرير بن حازم، عن نافع، عن سايبة، - مولاة الفاكه بن المغيرة - انها دخلت على عايشة فرات في بيتها رمحا موضوعا فقالت يا ام المومنين ما تصنعين بهذا قالت نقتل به هذه الاوزاغ فان نبي الله صلى الله عليه وسلم اخبرنا ان ابراهيم لما القي في النار لم تكن في الارض دابة الا اطفات النار غير الوزغ فانها كانت تنفخ عليه فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتله
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن الزهري، اخبرني ابو ادريس، عن ابي ثعلبة الخشني، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل كل ذي ناب من السباع . قال الزهري ولم اسمع بهذا حتى دخلت الشام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے کا کھانا حرام ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، ح وحدثنا احمد بن سنان، واسحاق بن منصور، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا مالك بن انس، عن اسماعيل بن ابي حكيم، عن عبيدة بن سفيان، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اكل كل ذي ناب من السباع حرام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن علي بن الحكم، عن ميمون بن مهران، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر عن اكل كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا: آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن واضح، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الكريم بن ابي المخارق، عن حبان بن جزء، عن اخيه، خزيمة بن جزء قال قلت يا رسول الله جيتك لاسالك عن احناش الارض ما تقول في الثعلب قال " ومن ياكل الثعلب " . قلت يا رسول الله ما تقول في الذيب قال " وياكل الذيب احد فيه خير
عبدالرحمٰن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے «ضبع» ( لکڑبگھا ) ۱؎ کے متعلق سوال کیا، کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا میں اسے کھاؤں؟ کہا: ہاں، پھر میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ( اس سلسلے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن اسماعيل بن امية، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابن ابي عمار، - وهو عبد الرحمن - قال سالت جابر بن عبد الله عن الضبع اصيد هو قال نعم . قلت اكلها قال نعم . قلت اشىء سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ لکڑبگھا کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑبگھا کون کھاتا ہے ؟۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن واضح، عن ابن اسحاق، عن عبد الكريم بن ابي المخارق، عن حبان بن جزء، عن خزيمة بن جزء، قال قلت يا رسول الله ما تقول في الضبع قال " ومن ياكل الضبع
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب ( گوہ ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو ، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی ( اس کے کھانے سے ) منع کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن زيد بن وهب، عن ثابت بن يزيد الانصاري، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاصاب الناس ضبابا فاشتووها فاكلوا منها فاصبت منها ضبا فشويته ثم اتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فاخذ جريدة فجعل يعد بها اصابعه فقال " ان امة في بني اسراييل مسخت دواب في الارض واني لا ادري لعلها هي " . فقلت ان الناس قد اشتووها فاكلوها فلم ياكل ولم ينه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضب ( گوہ ) کو حرام نہیں کیا، لیکن آپ نے اسے ناپسند فرمایا، اور وہ عام چرواہوں کا کھانا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ متعدد بہت سارے لوگوں کو فائدہ دیتا ہے، اور وہ اگر میرے پاس ہوتی تو اسے میں ضرور کھاتا۔
حدثنا ابو اسحاق الهروي، ابراهيم بن عبد الله بن حاتم حدثنا اسماعيل ابن علية، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سليمان اليشكري، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يحرم الضب ولكن قذره وانه لطعام عامة الرعاء وان الله عز وجل لينفع به غير واحد ولو كان عندي لاكلته . حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سليمان، عن جابر، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه