Loading...

Loading...
کتب
۵۱ احادیث
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر لوٹے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے آپ کو آواز دی، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں ضب ( گوہ ) بہت ہوتی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کوئی امت ہے جو مسخ کر دی گئی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع فرمایا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن داود بن ابي هند، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل من اهل الصفة حين انصرف من الصلاة فقال يا رسول الله ان ارضنا ارض مضبة فما ترى في الضباب قال " بلغني انه امة مسخت " . فلم يامر به ولم ينه عنه
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنی ہوئی ضب ( گوہ ) لائی گئی، اور آپ کو پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے لیے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ۱؎، تو وہاں موجود ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ضب ( گوہ ) کا گوشت ہے ( یہ سن کر ) آپ نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، خالد رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ضب ( گوہ ) حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ میرے علاقہ میں نہیں ہوتی اس لیے میں اس سے گھن محسوس کرتا ہوں ، ( یہ سن کر ) خالد رضی اللہ عنہ نے ضب ( گوہ ) کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس کو کھایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ رہے تھے ۲؎۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا محمد بن الوليد الزبيدي، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن عبد الله بن عباس، عن خالد بن الوليد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بضب مشوي فقرب اليه فاهوى بيده لياكل منه فقال له من حضره يا رسول الله انه لحم ضب . فرفع يده عنه فقال له خالد يا رسول الله احرام الضب قال " لا ولكنه لم يكن بارضي فاجدني اعافه " . قال فاهوى خالد الى الضب فاكل منه ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر اليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حرام نہیں کرتا یعنی ضب ( گوہ ) کو ۱؎۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا احرم " . يعني الضب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مرالظہران سے گزرے، تو ہم نے ایک خرگوش کو چھیڑا ( اس کو اس کی پناہ گاہ سے نکالا ) ، لوگ اس پر دوڑے اور تھک گئے، پھر میں نے بھی دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا، اور اسے لے کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو ذبح کیا، اور اس کی پٹھ اور دم گزا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، قال مررنا بمر الظهران فانفجنا ارنبا فسعوا عليها فلغبوا فسعيت حتى ادركتها فاتيت بها ابا طلحة فذبحها فبعث بعجزها ووركها الى النبي صلى الله عليه وسلم فقبلها
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو خرگوش لٹکائے ہوئے گزرے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ دونوں خرگوش ملے، اور مجھے کوئی لوہا نہیں ملا، جس سے میں انہیں ذبح کرتا، اس لیے میں نے ایک ( تیز ) پتھر سے انہیں ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا داود بن ابي هند، عن الشعبي، عن محمد بن صفوان، انه مر على النبي صلى الله عليه وسلم بارنبين معلقهما فقال يا رسول الله اني اصبت هذين الارنبين فلم اجد حديدة اذكيهما بها فذكيتهما بمروة افاكل قال " كل
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا کہ آپ سے زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کروں، آپ ضب ( گوہ ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں میں نے عرض کیا: میں تو صرف ان چیزوں کو کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا ہے، اور آپ ( ضب ) کیوں نہیں کھاتے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوموں میں ایک گروہ گم ہو گیا تھا اور میں نے اس کی خلقت کچھ ایسی دیکھی کہ مجھے شک ہوا ( یعنی شاید یہ ضب- گوہ- وہی گمشدہ گروہ ہو ) میں نے عرض کیا: آپ خرگوش کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں ، میں نے عرض کیا: میں تو ان چیزوں میں سے کھاؤں گا جسے آپ حرام نہ کریں، اور آپ خرگوش کھانا کیوں نہیں پسند کرتے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ اسے حیض آتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن واضح، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الكريم بن ابي المخارق، عن حبان بن جزء، عن اخيه، خزيمة بن جزء قال قلت يا رسول الله جيتك لاسالك عن احناش الارض ما تقول في الضب قال " لا اكله ولا احرمه " . قال قلت فاني اكل مما لم تحرم ولم يا رسول الله قال " فقدت امة من الامم ورايت خلقا رابني " . قلت يا رسول الله ما تقول في الارنب قال لا اكله ولا احرمه " . قلت فاني اكل مما لم تحرم ولم يا رسول الله قال " نبيت انها تدمى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوعبیدہ الجواد سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: یہ آدھا علم ہے اس لیے کہ دنیا بحر و بر یعنی خشکی اور تری کا نام ہے، تو آپ نے سمندر کے متعلق مسئلہ بتا دیا، اور خشکی ( کا مسئلہ ) باقی رہ گیا ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مالك بن انس، حدثني صفوان بن سليم، عن سعيد بن سلمة، من ال ابن الازرق ان المغيرة بن ابي بردة، - وهو من بني عبد الدار - حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البحر الطهور ماوه الحل ميتته " . قال ابو عبد الله بلغني عن ابي عبيدة الجواد انه قال هذا نصف العلم لان الدنيا بر وبحر فقد افتاك في البحر وبقي البر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جانور کو سمندر نے کنارے پر ڈال دیا ہو یا پانی کم ہو جانے سے وہ مر جائے تو اسے کھاؤ، اور جو سمندر میں مر کر اوپر آ جائے اسے مت کھاؤ ۔
حدثنا احمد بن عبدة، حدثنا يحيى بن سليم الطايفي، حدثنا اسماعيل بن امية، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما القى البحر او جزر عنه فكلوه وما مات فيه فطفا فلا تاكلوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کوّا کون کھائے گا؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فاسق کہا، اللہ کی قسم وہ پاک چیزوں میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن الازهر النيسابوري، حدثنا الهيثم بن جميل، حدثنا شريك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابن عمر، قال من ياكل الغراب وقد سماه رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاسقا " . والله ما هو من الطيبات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ فاسق ہے، بچھو فاسق ہے، چوہا فاسق ہے اور کوا فاسق ہے ۔ قاسم سے پوچھا گیا: کیا کوا کھایا جاتا ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فاسق کہنے کے بعد اسے کون کھائے گا؟۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا الانصاري، حدثنا المسعودي، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم بن محمد بن ابي بكر الصديق، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الحية فاسقة والعقرب فاسقة والفارة فاسقة والغراب فاسق " . فقيل للقاسم ايوكل الغراب قال من ياكله بعد قول رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاسق
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا الحسين بن مهدي، انبانا عبد الرزاق، انبانا عمر بن زيد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الهرة وثمنها