Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت، اور احرام کھولتے وقت خوشبو لگائی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، محمد وابو معاوية وابو اسامة عن عبيد الله، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحرامه حين احرم ولاحلاله حين احل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا: تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کتروانے والوں کو بھی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اغفر للمحلقين " . قالوا يا رسول الله والمقصرين قال " اللهم اغفر للمحلقين " . ثلاثا قالوا يا رسول الله والمقصرين قال " والمقصرين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ، لوگوں نے عرض کیا: اور بال کٹوانے والوں پر؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
حدثنا علي بن محمد، واحمد بن ابي الحواري الدمشقي، قالا حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رحم الله المحلقين " . قالوا والمقصرين يا رسول الله قال " رحم الله المحلقين " . قالوا والمقصرين يا رسول الله قال " رحم الله المحلقين " . قالوا والمقصرين يا رسول الله قال " والمقصرين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے شک نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يونس بن بكير، حدثنا ابن اسحاق، حدثنا ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قيل يا رسول الله لم ظاهرت للمحلقين ثلاثا وللمقصرين واحدة قال " انهم لم يشكوا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎ کی تھی، اور ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنایا تھا ۲؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کر لوں حلال نہیں ہو سکتا ۳؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قلت يا رسول الله ما شان الناس حلوا ولم تحل انت من عمرتك قال " اني لبدت راسي وقلدت هديي فلا احل حتى انحر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لبیک پکارتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ آپ سر کی تلبید کیے ہوئے تھے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، انبانا عبد الله بن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل ملبدا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا منیٰ قربانی کی جگہ ہے، اور مکہ کی سب گلیاں راستے، قربانی کی جگہیں ہیں، پورا عرفات اور پورا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسامة بن زيد، عن عطاء، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " منى كلها منحر وكل فجاج مكة طريق ومنحر وكل عرفة موقف وكل المزدلفة موقف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے حج کے کسی عمل کو دوسرے پر مقدم کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے یہی اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ما سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عمن قدم شييا قبل شىء الا يلقي بيديه كلتيهما " لا حرج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں ، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں ، دوسرا بولا: میں نے رمی شام کو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يزيد بن زريع، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال يوم منى فيقول " لا حرج لا حرج " . فاتاه رجل فقال حلقت قبل ان اذبح قال " لا حرج " . قال رميت بعد ما امسيت قال " لا حرج
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کر لی، یا قربانی سے پہلے سر منڈا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عيسى بن طلحة، عن عبد الله بن عمرو، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عمن ذبح قبل ان يحلق او حلق قبل ان يذبح قال " لا حرج
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں ( کو حج کے احکام بتانے ) کے لیے بیٹھے، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، پھر دوسرا شخص آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا: کوئی حرج نہیں ۱؎۔
حدثنا هارون بن سعيد المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني اسامة بن زيد، حدثني عطاء بن ابي رباح، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول قعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى يوم النحر للناس فجاءه رجل فقال يا رسول الله اني حلقت قبل ان اذبح قال " لا حرج " . ثم جاءه اخر فقال يا رسول الله اني نحرت قبل ان ارمي قال " لا حرج " . فما سيل يوميذ عن شىء قدم قبل شىء الا قال " لا حرج
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ ) کو تو وہ زوال ( سورج ڈھلنے ) کے بعد کی۔
حدثنا حرملة بن يحيى المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم رمى جمرة العقبة ضحى واما بعد ذلك فبعد زوال الشمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دسویں ذی الحجہ کے بعد والے دنوں میں ) رمی جمار سورج ڈھلنے کے بعد اس حساب سے کرتے تھے کہ جب آپ اپنی رمی سے فارغ ہوتے، تو ظہر پڑھتے۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا ابراهيم بن عثمان بن ابي شيبة ابو شيبة، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرمي الجمار اذا زالت الشمس قدر ما اذا فرغ من رميه صلى الظهر
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا: لوگو! سنو، کون سا دن زیادہ تقدیس کا ہے ؟ آپ نے تین بار یہ فرمایا، لوگوں نے کہا: حج اکبر ۱؎ کا دن، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی، اور تمہارے اس مہینے کی، اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے، جو کوئی جرم کرے گا، تو اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا، باپ کے جرم کا مواخذہ بیٹے سے، اور بیٹے کے جرم کا مواخذہ باپ سے نہ ہو گا، سن لو! شیطان اس بات سے ناامید ہو گیا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن عنقریب بعض کاموں میں جن کو تم معمولی جانتے ہو، اس کی اطاعت ہو گی، وہ اسی سے خوش رہے گا، سن لو! جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے ( اب اس کا مطالبہ و مواخذہ نہ ہو گا ) اور میں حارث بن عبدالمطلب کا خون سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کے خون میں معاف کرتا ہوں، ( جو قبیلہ بنی لیث میں دودھ پیا کرتے تھے اور قبیلہ ہذیل نے انہیں شیر خوارگی کی حالت میں قتل کر دیا تھا ) سن لو! جاہلیت کے تمام سود معاف کر دئیے گئے، تم صرف اپنا اصل مال لے لو، نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم ہو، آگاہ رہو، اے میری امت کے لوگو! کیا میں نے اللہ کا حکم تمہیں پہنچا دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پہنچا دیا، آپ نے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اور اسے آپ نے تین بار دہرایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهناد بن السري، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن ابيه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع " يا ايها الناس الا اى يوم احرم " . ثلاث مرات قالوا يوم الحج الاكبر . قال " فان دماءكم واموالكم واعراضكم بينكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا الا لا يجني جان الا على نفسه ولا يجني والد على ولده ولا مولود على والده . الا ان الشيطان قد ايس ان يعبد في بلدكم هذا ابدا ولكن سيكون له طاعة في بعض ما تحتقرون من اعمالكم فيرضى بها الا وكل دم من دماء الجاهلية موضوع واول ما اضع منها دم الحارث بن عبد المطلب - كان مسترضعا في بني ليث فقتلته هذيل - الا وان كل ربا من ربا الجاهلية موضوع لكم رءوس اموالكم لا تظلمون ولا تظلمون الا يا امتاه هل بلغت " . ثلاث مرات قالوا نعم . قال " اللهم اشهد " . ثلاث مرات
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں مسجد خیف میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات سنے، اور اسے لوگوں کو پہنچائے، کیونکہ بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے، اور بعض ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں جن میں کسی مومن کا دل خیانت نہیں کرتا، ایک اللہ کے لیے عمل خالص کرنے میں، دوسرے مسلمان حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے میں، اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ملے رہنے میں، اس لیے کہ ان کی دعا انہیں چاروں طرف سے گھیرے رہتی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، عن عبد السلام، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالخيف من منى فقال " نضر الله امرا سمع مقالتي فبلغها فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه الى من هو افقه منه ثلاث لا يغل عليهن قلب مومن اخلاص العمل لله والنصيحة لولاة المسلمين ولزوم جماعتهم فان دعوتهم تحيط من ورايهم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس وقت آپ عرفات میں اپنی کنکٹی اونٹنی پر سوار تھے: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے، اور کون سا مہینہ ہے، اور کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والا مہینہ، اور حرمت والا دن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تمہارے مال اور تمہارے خون بھی ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ مہینہ تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس دن میں، سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم مجھے رو سیاہ مت کرنا، سنو! کچھ لوگوں کو میں ( عذاب کے فرشتوں یا جہنم سے ) نجات دلاؤں گا، اور کچھ لوگ مجھ سے چھڑائے جائیں گے ( فرشتے مجھ سے چھین کر انہیں جہنم میں لے جائیں گے ) ، میں کہوں گا: یا رب! یہ میرے صحابہ ہیں وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے جو انہوں نے آپ کے بعد بدعتیں ایجاد کی ہیں ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن توبة، حدثنا زافر بن سليمان، عن ابي سنان، عن عمرو بن مرة، عن مرة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على ناقته المخضرمة بعرفات فقال " اتدرون اى يوم هذا واى شهر هذا واى بلد هذا " . قالوا هذا بلد حرام وشهر حرام ويوم حرام . قال " الا وان اموالكم ودماءكم عليكم حرام كحرمة شهركم هذا في بلدكم هذا في يومكم هذا الا واني فرطكم على الحوض واكاثر بكم الامم فلا تسودوا وجهي الا واني مستنقذ اناسا ومستنقذ مني اناس فاقول يا رب اصيحابي . فيقول انك لا تدري ما احدثوا بعدك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس سال حج کیا دسویں ذی الحجہ کو جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ یوم النحر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا شہر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ اللہ کا حرمت والا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حج اکبر کا دن ہے، اور تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری عزت و آبرو اسی طرح تم پر حرام ہیں جیسے اس شہر کی حرمت اس مہینے اور اس دن میں ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے ( اللہ کے احکام تم کو ) پہنچا دئیے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( آپ نے پہنچا دئیے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ ، اس کے بعد لوگوں کو رخصت کیا، تو لوگوں نے کہا: یہ حجۃ الوداع یعنی الوداعی حج ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا هشام بن الغاز، قال سمعت نافعا، يحدث عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف يوم النحر بين الجمرات في الحجة التي حج فيها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اى يوم هذا " . قالوا يوم النحر . قال " فاى بلد هذا " . قالوا هذا بلد الله الحرام . قال " فاى شهر هذا " . قالوا شهر الله الحرام . قال " هذا يوم الحج الاكبر ودماوكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام كحرمة هذا البلد في هذا الشهر في هذا اليوم " . ثم قال " هل بلغت " . قالوا نعم . فطفق النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اشهد " . ثم ودع الناس فقالوا هذه حجة الوداع
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، حدثني محمد بن طارق، عن طاوس، وابو الزبير، عن عايشة، وابن، عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم اخر طواف الزيارة الى الليل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات چکروں میں رمل نہیں کیا ۱؎۔ عطا کہتے ہیں کہ طواف افاضہ میں رمل نہیں ہے۔
حدثنا حرملة بن يحيى، حدثنا ابن وهب، انبانا ابن جريج، عن عطاء، عن عبد الله بن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يرمل في السبع الذي افاض فيه . قال عطاء ولا رمل فيه
محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: زمزم کے پاس سے، پوچھا: تم نے اس سے پیا جیسا پینا چاہیئے، اس نے پوچھا: کیسے پینا چاہیئے؟ کہا: جب تم زمزم کا پانی پیو تو کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو اور اللہ کا نام لو، اور تین سانس میں پیو، اور خوب آسودہ ہو کر پیو، پھر جب فارغ ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ وہ سیر ہو کر زمزم کا پانی نہیں پیتے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن عثمان بن الاسود، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي بكر، قال كنت عند ابن عباس جالسا فجاءه رجل فقال من اين جيت قال من زمزم . قال فشربت منها كما ينبغي قال وكيف قال اذا شربت منها فاستقبل الكعبة واذكر اسم الله وتنفس ثلاثا وتضلع منها فاذا فرغت فاحمد الله عز وجل فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اية ما بيننا وبين المنافقين انهم لا يتضلعون من زمزم