Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
حدثنا هشام بن عمار، وابو مصعب الزهري وسويد بن سعيد قالوا حدثنا مالك بن انس، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " السفر قطعة من العذاب يمنع احدكم نومه وطعامه وشرابه فاذا قضى احدكم نهمته من سفره فليعجل الرجوع الى اهله " . حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
عبداللہ بن عباس، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے، ( جیسے سواری وغیرہ ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل ابو اسراييل، عن فضيل بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن الفضل، - او احدهما عن الاخر، - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اراد الحج فليتعجل فانه قد يمرض المريض وتضل الضالة وتعرض الحاجة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں ( سورۃ آل عمران: ۹۷ ) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ۱؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا ، اس پر آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» اے ایمان والو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی ( سورۃ المائدہ: ۱۰۱ ) نازل ہوئی ۲؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، قالا حدثنا منصور بن وردان، حدثنا علي بن عبد الاعلى، عن ابيه، عن ابي البختري، عن علي، قال لما نزلت {ولله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا}. قالوا يا رسول الله الحج في كل عام فسكت ثم قالوا افي كل عام فقال " لا ولو قلت نعم لوجبت " . فنزلت {يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم}
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ ( ہر سال ) واجب ہو جائے گا، اور اگر ( ہر سال ) واجب ہو گیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن ابي عبيدة، عن ابيه، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن انس بن مالك، قال قالوا يا رسول الله الحج في كل عام قال " لو قلت نعم لوجبت ولو وجبت لم تقوموا بها ولو لم تقوموا بها عذبتم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے، یا صرف ایک بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف ایک مرتبہ فرض ہے، البتہ جو ( مزید کی ) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا سفيان بن حسين، عن الزهري، عن ابي سنان، عن ابن عباس، ان الاقرع بن حابس، سال النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله الحج في كل سنة او مرة واحدة قال " بل مرة واحدة فمن استطاع فتطوع
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر، عن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تابعوا بين الحج والعمرة فان المتابعة بينهما تنفي الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے، اور حج مبرور ( مقبول ) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك بن انس، عن سمى، - مولى ابي بكر بن عبد الرحمن - عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرة الى العمرة كفارة ما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس گھر ( کعبہ ) کا حج کیا، اور نہ ( ایام حج میں ) جماع کیا، اور نہ گناہ کے کام کئے، تو وہ اس طرح واپس آئے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن مسعر، وسفيان، عن منصور، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حج هذا البيت فلم يرفث ولم يفسق رجع كما ولدته امه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الربيع بن صبيح، عن يزيد بن ابان، عن انس بن مالك، قال حج النبي صلى الله عليه وسلم على رحل رث وقطيفة تساوي اربعة دراهم او لا تساوي ثم قال " اللهم حجة لا رياء فيها ولا سمعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا ( جو راوی داود کو یاد نہیں رہا ) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: «هرشى أو لفت» کی وادی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابن ابي عدي، عن داود بن ابي هند، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين مكة والمدينة فمررنا بواد فقال " اى واد هذا " . قالوا وادي الازرق . قال " كاني انظر الى موسى صلى الله عليه وسلم - فذكر من طول شعره شييا لا يحفظه داود - واضعا اصبعيه في اذنيه له جوار الى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي " . قال ثم سرنا حتى اتينا على ثنية فقال " اى ثنية هذه " . قالوا ثنية هرشى او لفت . قال " كاني انظر الى يونس على ناقة حمراء عليه جبة صوف وخطام ناقته خلبة مارا بهذا الوادي ملبيا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجاج اور معتمرین ( حج اور عمرہ کرنے والے ) اللہ کے وفد ( مہمان ) ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو وہ انہیں معاف کر دیتا ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا صالح بن عبد الله بن صالح، - مولى بني عامر - حدثني يعقوب بن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " الحجاج والعمار وفد الله ان دعوه اجابهم وان استغفروه غفر لهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا ۔
حدثنا محمد بن طريف، حدثنا عمران بن عيينة، عن عطاء بن السايب، عن مجاهد، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الغازي في سبيل الله والحاج والمعتمر وفد الله دعاهم فاجابوه وسالوه فاعطاهم
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی، اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں بھی دعاؤں میں شریک رکھنا، اور ہمیں نہ بھولنا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن سالم، عن ابن عمر، عن عمر، انه استاذن النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فاذن له وقال " يا اخى اشركنا في شىء من دعايك ولا تنسنا
صفوان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو ۔ صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن ابي الزبير، عن صفوان بن عبد الله بن صفوان، قال وكانت تحته ابنة ابي الدرداء فاتاها فوجد ام الدرداء ولم يجد ابا الدرداء فقالت له تريد الحج العام قال نعم . قالت فادع الله لنا بخير فان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " دعوة المرء مستجابة لاخيه بظهر الغيب عند راسه ملك يومن على دعايه كلما دعا له بخير قال امين ولك بمثله " . قال ثم خرجت الى السوق فلقيت ابا الدرداء فحدثني عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے،؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری ( کا انتظام ) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور «ثج» ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مروان بن معاوية، ح وحدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا ابراهيم بن يزيد المكي، عن محمد بن عباد بن جعفر المخزومي، عن ابن عمر، قال قام رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ما يوجب الحج قال " الزاد والراحلة " . قال يا رسول الله فما الحاج قال " الشعث التفل " . وقام اخر فقال يا رسول الله وما الحج قال " العج والثج " . قال وكيع يعني بالعج العجيج بالتلبية والثج نحر البدن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرمان: «من استطاع إليه سبيلا» کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا هشام بن سليمان القرشي، عن ابن جريج، قال واخبرنيه ايضا، عن ابن عطاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الزاد والراحلة " . يعني قوله { من استطاع اليه سبيلا}
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر باپ یا بھائی یا بیٹے یا شوہر یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسافر المراة سفر ثلاثة ايام فصاعدا الا مع ابيها او اخيها او ابنها او زوجها او ذي محرم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ درست نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے، اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تسافر مسيرة يوم واحد ليس لها ذو حرمة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لیے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جاؤ اس کے ساتھ حج کرو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا شعيب بن اسحاق، حدثنا ابن جريج، حدثني عمرو بن دينار، انه سمع ابا معبد، مولى ابن عباس عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم قال اني اكتتبت في غزوة كذا وكذا وامراتي حاجة . قال " فارجع معها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حبيب بن ابي عمرة، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله على النساء جهاد قال " نعم عليهن جهاد لا قتال فيه الحج والعمرة