احادیث
#2891
سنن ابن ماجہ - Hajj Rituals
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا ( جو راوی داود کو یاد نہیں رہا ) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: «هرشى أو لفت» کی وادی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابن ابي عدي، عن داود بن ابي هند، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين مكة والمدينة فمررنا بواد فقال " اى واد هذا " . قالوا وادي الازرق . قال " كاني انظر الى موسى صلى الله عليه وسلم - فذكر من طول شعره شييا لا يحفظه داود - واضعا اصبعيه في اذنيه له جوار الى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي " . قال ثم سرنا حتى اتينا على ثنية فقال " اى ثنية هذه " . قالوا ثنية هرشى او لفت . قال " كاني انظر الى يونس على ناقة حمراء عليه جبة صوف وخطام ناقته خلبة مارا بهذا الوادي ملبيا
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Hajj Rituals
- Hadith Index
- #2891
- Book Index
- 10
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
