Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج ہر ناتواں اور ضعیف کا جہاد ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن القاسم بن الفضل الحداني، عن ابي جعفر، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحج جهاد كل ضعيف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو «لبیک عن شبرمہ» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے کہتے ہوئے سنا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: شبرمہ کون ہے ؟ اس نے بتایا: وہ میرا رشتہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے کبھی حج کیا ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس حج کو اپنی طرف سے کر لو، پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا عبدة بن سليمان، عن سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لبيك عن شبرمة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شبرمة " . قال قريب لي . قال " هل حججت قط " . قال لا . قال " فاجعل هذه عن نفسك ثم احجج عن شبرمة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا عبد الرزاق، انبانا سفيان الثوري، عن سليمان الشيباني، عن يزيد بن الاصم، عن ابن عباس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال احج عن ابي قال " نعم حج عن ابيك فان لم تزده خيرا لم تزده شرا
مقام فرع کے ایک شخص ابوالغوث بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے حج کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جو ان کے والد پر فرض تھا، اور وہ بغیر حج کیے مر گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج کرو ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: اسی طرح کا معاملہ نذر مانے ہوئے صیام کا بھی ہے کہ ان کی قضاء اس کی طرف سے کی جائے گی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عثمان بن عطاء، عن ابيه، عن ابي الغوث بن حصين، - رجل من الفرع - انه استفتى النبي صلى الله عليه وسلم عن حجة كانت على ابيه مات ولم يحج قال النبي صلى الله عليه وسلم " حج عن ابيك " . وقال النبي صلى الله عليه وسلم " وكذلك الصيام في النذر يقضى عنه
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی، اور نہ سواری پر سوار ہونے کی ( فرمائیے! ان کے متعلق کیا حکم ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن شعبة، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن اوس، عن ابي رزين العقيلي، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن . قال " حج عن ابيك واعتمر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ بہت ناتواں اور ضعیف ہو گئے ہیں، اور اللہ کا بندوں پر عائد کردہ فرض حج ان پر لازم ہو گیا ہے، وہ اس کو ادا کرنے کی قوت نہیں رکھتے، اگر میں ان کی طرف سے حج ادا کروں تو کیا یہ ان کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز الدراوردي، عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ابي ربيعة المخزومي، عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف الانصاري، عن نافع بن جبير، عن عبد الله بن عباس، ان امراة، من خثعم جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابي شيخ كبير قد افند وادركته فريضة الله على عباده في الحج ولا يستطيع اداءها فهل يجزي عنه ان اوديها عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم
حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ ا نہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو خالد الاحمر، حدثنا محمد بن كريب، عن ابيه، عن ابن عباس، قال اخبرني حصين بن عوف، قال قلت يا رسول الله ان ابي ادركه الحج ولا يستطيع ان يحج الا معترضا . فصمت ساعة ثم قال " حج عن ابيك
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟ ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن سليمان بن يسار، عن ابن عباس، عن اخيه الفضل، انه كان ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة النحر فاتته امراة من خثعم فقالت يا رسول الله ان فريضة الله في الحج على عباده ادركت ابي شيخا كبيرا لا يستطيع ان يركب افاحج عنه قال " نعم فانه لو كان على ابيك دين قضيتيه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو حج کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں اور اجر و ثواب تمہارے لیے ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، ومحمد بن طريف، قالا حدثنا ابو معاوية، حدثني محمد بن سوقة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال رفعت امراة صبيا لها الى النبي صلى الله عليه وسلم في حجته فقالت يا رسول الله الهذا حج قال " نعم ولك اجر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام شجرہ میں نفاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبيد الله، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت نفست اسماء بنت عميس بالشجرة فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ابا بكر ان يامرها ان تغتسل وتهل
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ ( ان کی بیوی ) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ ( ذوالحلیفہ ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، عن سليمان بن بلال، حدثنا يحيى بن سعيد، انه سمع القاسم بن محمد، يحدث عن ابيه، عن ابي بكر، انه خرج حاجا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه اسماء بنت عميس فولدت بالشجرة محمد بن ابي بكر فاتى ابو بكر النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يامرها ان تغتسل ثم تهل بالحج وتصنع ما يصنع الناس الا انها لا تطوف بالبيت
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی ( ولادت کی ) وجہ سے نفاس ( کا خون ) آیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال نفست اسماء بنت عميس بمحمد بن ابي بكر فارسلت الى النبي صلى الله عليه وسلم فامرها ان تغتسل وتستثفر بثوب وتهل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل مدینہ ذو الحلیفہ سے تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اہل شام جحفہ سے، اور اہل نجد قرن سے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رہیں یہ تینوں ( میقاتیں ) تو انہیں میں نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، اور مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں، ( اور احرام باندھیں ) ۱؎۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يهل اهل المدينة من ذي الحليفة واهل الشام من الجحفة واهل نجد من قرن " . فقال عبد الله اما هذه الثلاثة فقد سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم وبلغني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ويهل اهل اليمن من يلملم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے ( اور احرام باندھنے ) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابراهيم بن يزيد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مهل اهل المدينة من ذي الحليفة ومهل اهل الشام من الجحفة ومهل اهل اليمن من يلملم ومهل اهل نجد من قرن ومهل اهل المشرق من ذات عرق " . ثم اقبل بوجهه للافق ثم قال " اللهم اقبل بقلوبهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکارتے ۱؎۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، حدثني عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا ادخل رجله في الغرز واستوت به راحلته اهل من عند مسجد ذي الحليفة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مقام شجرہ ( ذو الحلیفہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاؤں کے پاس تھا، جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے کہا: «لبيك بعمرة وحجة معا» میں عمرہ و حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرتے ہوئے حاضر ہوں ، یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، وعمر بن عبد الواحد، قالا حدثنا الاوزاعي، عن ايوب بن موسى، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال اني عند ثفنات ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الشجرة فلما استوت به قايمة قال " لبيك بعمرة وحجة معا " . وذلك في حجة الوداع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا ( ان میں ) کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ کرتے: «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل» حاضر ہوں، اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر ( بھلائی ) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، وابو اسامة وعبد الله بن نمير عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال تلقفت التلبية من رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . قال وكان ابن عمر يزيد فيها لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء اليك والعمل
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں ۔
حدثنا زيد بن اخزم، حدثنا مومل بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، قال كانت تلبية رسول الله صلى الله عليه وسلم " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: «لبيك إله الحق لبيك» حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة، عن عبد الله بن الفضل، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في تلبيته " لبيك اله الحق لبيك
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا عمارة بن غزية الانصاري، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من ملب يلبي الا لبى ما عن يمينه وشماله من حجر او شجر او مدر حتى تنقطع الارض من ها هنا وها هنا