Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
سائب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عبد الملك بن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، حدثه عن خلاد بن السايب، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتاني جبريل فامرني ان امر اصحابي ان يرفعوا اصواتهم بالاهلال
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن ابي لبيد، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن خلاد بن السايب، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جاءني جبريل فقال يا محمد مر اصحابك فليرفعوا اصواتهم بالتلبية فانها من شعار الحج
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور«ثج» ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا ( یعنی قربانی کرنا ) ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، ويعقوب بن حميد بن كاسب، قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن محمد بن المنكدر، عن عبد الرحمن بن يربوع، عن ابي بكر الصديق، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل اى الاعمال افضل قال " العج والثج
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم ( احرام باندھنے والا ) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے ( دھوپ میں ) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا ( بےگناہ ) ہو جائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو ۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا عبد الله بن نافع، وعبد الله بن وهب، ومحمد بن فليح، قالوا حدثنا عاصم بن عمر بن حفص، عن عاصم بن عبيد الله، عن عبد الله بن عامر بن ربيعة، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من محرم يضحى لله يومه يلبي حتى تغيب الشمس الا غابت بذنوبه فعاد كما ولدته امه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، جميعا عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحرامه قبل ان يحرم ولحله قبل ان يفيض - قال سفيان - بيدى هاتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في مفارق رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يلبي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، قالت كاني ارى وبيص الطيب في مفرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ثلاثة وهو محرم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: قمیص، عمامے ( پگڑیاں ) ، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ۱؎۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم ما يلبس المحرم من الثياب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يلبس القمص ولا العمايم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف الا ان لا يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما اسفل من الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شييا مسه الزعفران او الورس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو ورس ( خوشبودار گھاس ) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، انه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يلبس المحرم ثوبا مصبوغا بورس او زعفران
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ( ہشام نے اپنی روایت میں منبر پر کا اضافہ کیا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے تہ بند میسر نہ ہو تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے جوتے نہ مل سکیں وہ موزے پہن لے ، ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں: وہ پاجامے پہنے جب تہ بند نہ ہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد ابي الشعثاء، عن ابن عباس، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب - قال هشام على المنبر - فقال " من لم يجد ازارا فليلبس سراويل ومن لم يجد نعلين فليلبس خفين " . وقال هشام في حديثه " فليلبس سراويل الا ان يفقد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے ۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، وعن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من لم يجد نعلين فليلبس خفين وليقطعهما اسفل من الكعبين
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے، جب مقام عرج میں پہنچے تو ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس بیٹھ گئیں، اور میں ( اپنے والد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس، اس سفر میں میرا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک تھا جو ابوبکر کے غلام کے ساتھ تھا، اتنے میں غلام آیا، اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: کل رات کہیں غائب ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تمہارے ساتھ ایک ہی اونٹ تھا، اور وہ بھی تم نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كنا بالعرج نزلنا فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وعايشة الى جنبه وانا الى جنب ابي بكر وكانت زمالتنا وزمالة ابي بكر واحدة مع غلام ابي بكر قال فطلع الغلام وليس معه بعيره فقال له اين بعيرك قال اضللته البارحة . قال معك بعير واحد تضله قال فطفق يضربه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انظروا الى هذا المحرم ما يصنع
عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، ان عبد الله بن عباس، والمسور بن مخرمة، اختلفا بالابواء فقال عبد الله بن عباس يغسل المحرم راسه . وقال المسور بن مخرمة لا يغسل المحرم راسه . فارسلني ابن عباس الى ابي ايوب الانصاري اساله عن ذلك، فوجدته يغتسل بين القرنين وهو يستتر بثوب فسلمت عليه فقال من هذا قلت انا عبد الله بن حنين ارسلني اليك عبد الله بن عباس اسالك كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل راسه وهو محرم قال فوضع ابو ايوب يده على الثوب فطاطاه حتى بدا لي راسه ثم قال لانسان يصب عليه اصبب . فصب على راسه ثم حرك راسه بيديه فاقبل بهما وادبر . ثم قال هكذا رايته صلى الله عليه وسلم يفعل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جب ہمیں کوئی سوار ملتا تو ہم اپنا کپڑا اپنے سروں کے اوپر سے لٹکا لیتے، اور جب سوار آگے بڑھ جاتا تو ہم اسے اٹھا لیتے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عايشة، قالت "كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن محرمون فاذا لقينا الراكب اسدلنا ثيابنا من فوق رءوسنا فاذا جاوزنا رفعناها". حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابي ح، وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا عثمان بن حكيم، عن ابي بكر بن عبد الله بن الزبير، عن جدته، - قال لا ادري اسماء بنت ابي بكر او سعدى بنت عوف . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على ضباعة بنت عبد المطلب فقال " ما يمنعك يا عمتاه من الحج " . فقالت انا امراة سقيمة وانا اخاف الحبس . قال " فاحرمي واشترطي ان محلك حيث حبست
ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں اس وقت بیمار تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا امسال آپ کا ارادہ حج کرنے کا نہیں ہے ؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کرو اور یوں ( نیت میں ) کہو: اے اللہ جہاں تو مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، ووكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ضباعة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا شاكية فقال " اما تريدين الحج العام " قلت اني لعليلة يا رسول الله . قال " حجي وقولي محلي حيث تحبسني
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور ( اللہ سے ) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی ۱؎۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع طاوسا، وعكرمة، يحدثان عن ابن عباس، قال جاءت ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني امراة ثقيلة واني اريد الحج فكيف اهل قال " اهلي واشترطي ان محلي حيث حبستني
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انبیاء کرام ( علیہ السلام ) حرم میں پیدل اور ننگے پاؤں داخل ہوتے تھے، اور بیت اللہ کا طواف کرتے تھے، اور حج کے سارے ارکان ننگے پاؤں اور پیدل چل کر ادا کرتے تھے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا اسماعيل بن صبيح، حدثنا مبارك بن حسان ابو عبد الله، عن عطاء بن ابي رباح، عن عبد الله بن عباس، قال كانت الانبياء تدخل الحرم مشاة حفاة ويطوفون بالبيت ويقضون المناسك حفاة مشاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں «ثنية العليا» بلند گھاٹی سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو «ثنية السفلى» نشیبی گھاٹی سے نکلتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدخل مكة من الثنية العليا واذا خرج خرج من الثنية السفلى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا العمري، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة نهارا