Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے ؟ ۱؎ پھر فرمایا: ہم کل «خیف بنی کنانہ» یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین ۲؎۔ زہری کہتے ہیں کہ «خیف» وادی کو کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن علي بن الحسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، قال قلت يا رسول الله اين تنزل غدا وذلك في حجته قال " وهل ترك لنا عقيل منزلا " . ثم قال " نحن نازلون غدا بخيف بني كنانة - يعني المحصب - حيث قاسمت قريش على الكفر " . وذلك ان بني كنانة حالفت قريشا على بني هاشم ان لا يناكحوهم ولا يبايعوهم . قال معمر قال الزهري والخيف الوادي
عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے «اصیلع» یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چوم رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: میں تجھے چوم رہا ہوں حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ فائدہ، اور میں نے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، حدثنا عاصم الاحول، عن عبد الله بن سرجس، قال رايت الاصيلع عمر بن الخطاب يقبل الحجر ويقول اني لاقبلك واني لاعلم انك حجر لا تضر ولا تنفع ولولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پتھر قیامت کے دن آئے گا اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھ رہا ہو گا، ایک زبان ہو گی جس سے وہ بول رہا ہو گا، اور گواہی دے گا اس شخص کے حق میں جس نے حق کے ساتھ اسے چھوا ہو گا ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عبد الرحيم الرازي، عن ابن خثيم، عن سعيد بن جبير، قال سمعت ابن عباس، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لياتين هذا الحجر يوم القيامة وله عينان يبصر بهما ولسان ينطق به يشهد على من يستلمه بحق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کی طرف رخ کیا، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے، اور دیر تک روتے رہے، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی رو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا خالي، يعلى عن محمد بن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال استقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم الحجر ثم وضع شفتيه عليه يبكي طويلا ثم التفت فاذا هو بعمر بن الخطاب يبكي فقال " يا عمر هاهنا تسكب العبرات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بجز حجر اسود اور اس کے جو اس سے قریب ہے یعنی رکن یمانی جو بنی جمح کے محلے کی طرف ہے بیت اللہ کے کسی کونے کا استلام نہیں فرماتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلم من اركان البيت الا الركن الاسود والذي يليه من نحو دور الجمحيين
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب فتح مکہ کے سال اطمینان ہوا تو آپ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ حجر اسود کا استلام ایک لکڑی سے کر رہے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی، پھر کعبہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اس میں لکڑی کی بنی ہوئی کبوتر کی مورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے توڑ دیا، پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا، اس وقت میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يونس بن بكير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، عن صفية بنت شيبة، قالت لما اطمان رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح طاف على بعيره يستلم الركن بمحجن بيده ثم دخل الكعبة فوجد فيها حمامة عيدان فكسرها ثم قام على باب الكعبة فرمى بها وانا انظره
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، اور آپ ایک چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، انبانا عبد الله بن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف في حجة الوداع على بعير يستلم الركن بمحجن
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام چھڑی سے کر رہے تھے، اور چھڑی کا بوسہ لے رہے تھے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا هدية بن عبد الوهاب، حدثنا الفضل بن موسى، قالا حدثنا معروف بن خربوذ المكي، قال سمعت ابا الطفيل، عامر بن واثلة قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يطوف بالبيت على راحلته يستلم الركن بمحجنه ويقبل المحجن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف ( طواف قدوم ) کرتے تو تین چکروں میں رمل کرتے ( یعنی طواف میں قریب قریب قدم رکھ کے تیز چلتے ) اور چار چکروں میں عام چال چلتے اور یہ چکر حجر اسود پر شروع کر کے حجر اسود پر ہی ختم کرتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا احمد بن بشير، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا محمد بن عبيد، قالا حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا طاف بالبيت الطواف الاول رمل ثلاثة ومشى اربعة من الحجر الى الحجر وكان ابن عمر يفعله
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے شروع کر کے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار میں عام چال چلے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو الحسين العكلي، عن مالك بن انس، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم رمل من الحجر الى الحجر ثلاثا ومشى اربعا
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ اب دونوں رمل ( ایک طواف کا، دوسرا سعی کا ) کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مضبوط کر دیا، اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، لیکن قسم اللہ کی! ہم تو کوئی ایسی بات چھوڑنے والے نہیں جس پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عمل کیا کرتے تھے۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جعفر بن عون، عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر، يقول فيم الرملان الان وقد اطا الله الاسلام ونفى الكفر واهله وايم الله ما ندع شييا كنا نفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کے بعد دوسرے سال عمرہ کی غرض سے مکہ میں داخل ہونا چاہا، تو اپنے صحابہ سے فرمایا: کل تم کو تمہاری قوم کے لوگ دیکھیں گے لہٰذا چاہیئے کہ وہ تمہیں توانا اور مضبوط دیکھیں، چنانچہ جب یہ لوگ مسجد میں داخل ہوئے تو حجر اسود کا استلام کیا، اور رمل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ رکن یمانی کے پاس پہنچے، تو وہاں سے حجر اسود تک عام چال چلے، وہاں سے رکن یمانی تک پھر رمل کیا، اور پھر وہاں سے حجر اسود تک عام چال چلے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار کیا، پھر چار مرتبہ عام چال چلے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ابن خثيم، عن ابي الطفيل، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه حين ارادوا دخول مكة في عمرته بعد الحديبية " ان قومكم غدا سيرونكم فليرونكم جلدا " . فلما دخلوا المسجد استلموا الركن ورملوا والنبي صلى الله عليه وسلم معهم حتى اذا بلغوا الركن اليماني مشوا الى الركن الاسود ثم رملوا حتى بلغوا الركن اليماني ثم مشوا الى الركن الاسود ففعل ذلك ثلاث مرات ثم مشى الاربع
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کر کے طواف کیا، قبیصہ کے الفاظ اس طرح ہیں: «وعليه برد» اور آپ کے جسم پر چادر تھی۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، وقبيصة، قالا حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن عبد الحميد، عن ابن يعلى بن امية، عن ابيه، يعلى ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف مضطبعا . قال قبيصة وعليه برد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کعبہ ہی کا ایک حصہ ہے میں نے پوچھا: پھر لوگوں ( کفار ) نے اس کو داخل کیوں نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس خرچ نہیں رہ گیا تھا میں نے کہا: اس کا دروازہ اتنا اونچا کیوں رکھا کہ بغیر سیڑھی کے اس پر چڑھا نہیں جاتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا تمہاری قوم کے لوگوں نے کیا تھا، تاکہ وہ جس کو چاہیں اندر جانے دیں اور جس کو چاہیں روک دیں، اور اگر تمہاری قوم کا زمانہ ابھی کفر سے قریب نہ گزرا ہوتا اور ( اسلام سے ) ان کے دلوں کے متنفر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں سوچتا کہ میں اس کو بدل دوں، جو حصہ رہ گیا ہے اس کو اس میں داخل کر دوں، اور اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا شيبان، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن الاسود بن يزيد، عن عايشة، قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحجر . فقال " هو من البيت " . قلت ما منعهم ان يدخلوه فيه قال " عجزت بهم النفقة " . قلت فما شان بابه مرتفعا لا يصعد اليه الا بسلم قال " ذلك فعل قومك ليدخلوه من شاءوا ويمنعوه من شاءوا ولولا ان قومك حديث عهد بكفر مخافة ان تنفر قلوبهم لنظرت هل اغيره فادخل فيه ما انتقص منه وجعلت بابه بالارض
حدثنا علي بن محمد، حدثنا محمد بن الفضيل، عن العلاء بن المسيب، عن عطاء، عن عبد الله بن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من طاف بالبيت وصلى ركعتين كان كعتق رقبة
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا حميد بن ابي سوية، قال سمعت ابن هشام، يسال عطاء بن ابي رباح عن الركن اليماني، وهو يطوف بالبيت فقال عطاء حدثني ابو هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " وكل به سبعون ملكا فمن قال اللهم اني اسالك العفو والعافية في الدنيا والاخرة ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار - قالوا امين " . فلما بلغ الركن الاسود قال يا ابا محمد ما بلغك في هذا الركن الاسود فقال عطاء حدثني ابو هريرة انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من فاوضه فانما يفاوض يد الرحمن " . قال له ابن هشام يا ابا محمد فالطواف قال عطاء حدثني ابو هريرة انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من طاف بالبيت سبعا ولا يتكلم الا بسبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولاقوة الا بالله محيت عنه عشر سييات وكتبت له عشر حسنات ورفع له بها عشر درجات ومن طاف فتكلم وهو في تلك الحال خاض في الرحمة برجليه كخايض الماء برجليه
مطلب بن ابی وداعہ سہمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ اپنے ساتوں پھیروں سے فارغ ہوئے حجر اسود کے بالمقابل آ کر کھڑے ہوئے، پھر مطاف کے کنارے میں دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ( بغیر سترہ کے نماز پڑھنا ) مکہ کے ساتھ خاص ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن ابن جريج، عن كثير بن كثير بن المطلب بن ابي وداعة السهمي، عن ابيه، عن المطلب، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا فرغ من سبعه جاء حتى يحاذي بالركن فصلى ركعتين فى حاشية المطاف وليس بينه وبين الطواف احد . قال ابن ماجه هذا بمكة خاصة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، پھر طواف کی دونوں رکعتیں پڑھیں۔ وکیع کہتے ہیں: یعنی مقام ابراہیم کے پاس، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف نکلے
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، عن محمد بن ثابت العبدي، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم فطاف بالبيت سبعا ثم صلى ركعتين - قال وكيع يعني عند المقام - ثم خرج الى الصفا
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کے پاس آئے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم کی جگہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» مقام ابراھیم کو نماز کی جگہ بناؤ ، ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا اس کو اسی طرح ( بکسر خاء ) صیغہ امر کے ساتھ پڑھا؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎۔
حدثنا العباس بن عثمان الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن مالك بن انس، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، انه قال لما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من طواف البيت اتى مقام ابراهيم فقال عمر يا رسول الله هذا مقام ابينا ابراهيم الذي قال الله سبحانه {واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى} . قال الوليد فقلت لمالك هكذا قراها {واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى} قال نعم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ «والطور وكتاب مسطور» کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معلى بن منصور، ح وحدثنا اسحاق بن منصور، واحمد بن سنان، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا مالك بن انس، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة، عن زينب، عن ام سلمة، انها مرضت فامرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تطوف من وراء الناس وهي راكبة . قالت فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الى البيت وهو يقرا {والطور * وكتاب مسطور} . قال ابن ماجه هذا حديث ابي بكر