Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے دادا ) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں؟ انہوں نے کہا: میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، شعیب کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے، اور اپنا سینہ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، قال سمعت المثنى بن الصباح، يقول حدثني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال طفت مع عبد الله بن عمرو فلما فرغنا من السبع ركعنا في دبر الكعبة فقلت الا نتعوذ بالله من النار . قال اعوذ بالله من النار . قال ثم مضى فاستلم الركن ثم قام بين الحجر والباب فالصق صدره ويديه وخده اليه ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نرى الا الحج فلما كنا بسرف او قريبا من سرف حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال مالك انفست " . قلت نعم . قال " ان هذا امر كتبه الله على بنات ادم فاقضي المناسك كلها غير ان لا تطوفي بالبيت " . قالت وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسايه بالبقر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، وابو مصعب قالا حدثنا مالك بن انس، حدثني عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا مالك بن انس، عن ابي الاسود، محمد بن عبد الرحمن بن نوفل - وكان يتيما في حجر عروة بن الزبير - عن عروة بن الزبير، عن عايشة ام المومنين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد العزيز الدراوردي، وحاتم بن اسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افرد الحج
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے حج افراد کیا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا القاسم بن عبد الله العمري، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر وعثمان افردوا الحج
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے، میں نے آپ کو حج اور عمرہ کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، حدثنا يحيى بن ابي اسحاق، عن انس بن مالك، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى مكة فسمعته يقول " لبيك عمرة وحجة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لبيك بعمرة وحجة» حاضر ہوں عمرہ اور حج کے ساتھ ۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لبيك بعمرة وحجة
صبی بن معبد کہتے ہیں کہ میں نصرانی تھا، پھر اسلام لے آیا اور حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا، سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان نے مجھے قادسیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارتے ہوئے سنا، تو دونوں نے کہا: یہ تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ نادان ہے، ان دونوں کے اس کہنے نے گویا میرے اوپر کوئی پہاڑ لاد دیا، میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور ان سے اس کا ذکر کیا، وہ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ملامت کی، پھر میری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا، تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو پایا ۱؎۔ ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ شقیق کہتے ہیں: میں اور مسروق دونوں صبی بن معبد کے پاس اس حدیث کے متعلق پوچھنے باربار گئے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبدة بن ابي لبابة، قال سمعت ابا وايل، شقيق بن سلمة يقول سمعت الصبى بن معبد، يقول كنت رجلا نصرانيا فاسلمت فاهللت بالحج والعمرة فسمعني سلمان بن ربيعة وزيد بن صوحان وانا اهل بهما جميعا بالقادسية فقالا لهذا اضل من بعيره فكانما حملا على جبلا بكلمتهما فقدمت على عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له فاقبل عليهما فلامهما ثم اقبل على فقال هديت لسنة النبي صلى الله عليه وسلم هديت لسنة النبي صلى الله عليه وسلم . قال هشام في حديثه قال شقيق: فكثيرا ما ذهبت انا ومسروق نساله عنه . حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، وابو معاوية وخالي يعلى قالوا حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن الصبى بن معبد، قال كنت حديث عهد بنصرانية فاسلمت فلم ال ان اجتهد، فاهللت بالحج والعمرة . فذكر نحوه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ملایا یعنی قران کیا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، حدثنا حجاج، عن الحسن بن سعد، عن ابن عباس، قال اخبرني ابو طلحة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرن الحج والعمرة
جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يحيى بن يعلى بن حارث المحاربي، حدثنا ابي، عن غيلان بن جامع، عن ليث، عن عطاء، وطاوس، ومجاهد، عن جابر بن عبد الله، وابن، عمر وابن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يطف هو واصحابه لعمرتهم وحجتهم حين قدموا الا طوافا واحدا
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے لیے ایک ہی طواف کیا۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبثر بن القاسم، عن اشعث، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم طاف للحج والعمرة طوافا واحدا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ حج قران کا احرام باندھ کر آئے، اور خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے، پھر صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا مسلم بن خالد الزنجي، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، انه قدم قارنا فطاف بالبيت سبعا وسعى بين الصفا والمروة ثم قال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو ان دونوں کے لیے اسے ایک ہی سعی کافی ہے، اور وہ احرام نہ کھولے جب تک حج کو پورا نہ کر لے، اور اس وقت ان دونوں سے ایک ساتھ احرام کھولے گا۔
حدثنا محرز بن سلمة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احرم بالحج والعمرة كفى لهما طواف واحد ولم يحل حتى يقضي حجه ويحل منهما جميعا
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی عقیق ۱؎ میں فرماتے سنا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا، اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو: یہ عمرہ ہے حج میں ( یہ الفاظ دحیم کے ہیں ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن مصعب، ح وحدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، - يعني دحيما - حدثنا الوليد بن مسلم، قالا حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني عكرمة، قال حدثنا ابن عباس، قال حدثني عمر بن الخطاب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو بالعقيق " اتاني ات من ربي فقال صل في هذا الوادي المبارك وقل عمرة في حجة " . واللفظ لدحيم
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: آگاہ رہو، عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن مسعر، عن عبد الملك بن ميسرة، عن طاوس، عن سراقة بن جعشم، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا في هذا الوادي فقال " الا ان العمرة قد دخلت في الحج الى يوم القيامة
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آج کے بعد فائدہ پہنچائے، جان لو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے ایک جماعت نے ذی الحجہ کے دس دنوں میں عمرہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع نہیں کیا، اور نہ قرآن مجید میں اس کا نسخ اترا، اس کے بعد ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن الجريري، عن ابي العلاء، يزيد بن الشخير عن اخيه، مطرف بن عبد الله بن الشخير قال قال لي عمران بن الحصين اني احدثك حديثا لعل الله ان ينفعك به بعد اليوم اعلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد اعمر طايفة من اهله في العشر من ذي الحجة ولم ينه عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينزل نسخه قال في ذلك بعد رجل برايه ما شاء ان يقول
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتوؤں سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ آپ کے بعد امیر المؤمنین نے حج کے مسئلہ میں جو نئے احکام دئیے ہیں وہ آپ کو معلوم نہیں، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے پوچھا، تو آپ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایسا کیا ہے، لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ لوگ پیلو کے درخت کے نیچے عورتوں کے ساتھ رات گزاریں پھر حج کو جائیں، اور ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، ح وحدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثني ابي قالا، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن عمارة بن عمير، عن ابراهيم بن ابي موسى، عن ابي موسى الاشعري، انه كان يفتي بالمتعة فقال له رجل رويدك بعض فتياك فانك لا تدري ما احدث امير المومنين في النسك بعدك . حتى لقيته بعد فسالته فقال عمر قد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله واصحابه ولكني كرهت ان يظلوا بهن معرسين تحت الاراك ثم يروحون بالحج تقطر رءوسهم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا ( یعنی احرام باندھا ) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ۱؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ۲؎، اگر میرے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ کر کے ) حلال ہو جاتا ( یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیتا ) ۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے ۳؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال اهللنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج خالصا لا نخلطه بعمرة فقدمنا مكة لاربع ليال خلون من ذي الحجة فلما طفنا بالبيت وسعينا بين الصفا والمروة امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نجعلها عمرة وان نحل الى النساء . فقلنا ما بيننا ليس بيننا وبين عرفة الا خمس فنخرج اليها ومذاكيرنا تقطر منيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لابركم واصدقكم ولولا الهدى لاحللت " . فقال سراقة بن مالك امتعتنا هذه لعامنا هذا ام لابد فقال " لا بل لابد الابد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی ( قربانی ) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی ( قربانی ) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن ( ذی الحجہ کا دسواں دن ) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس بقين من ذي القعدة لا نرى الا الحج حتى اذا قدمنا ودنونا امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدى ان يحل فحل الناس كلهم الا من كان معه هدى فلما كان يوم النحر دخل علينا بلحم بقر فقيل ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ازواجه