Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نکلے، ہم نے حج کا احرام باندھا، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ کر دو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے حج کا احرام باندھا ہے ہم اس کو عمرہ کیسے کر لیں؟ آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جس کا میں تم کو حکم دیتا ہوں اس پر عمل کرو ، لوگوں نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو کر چل دئیے اور غصہ کی ہی حالت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے تو بولیں: کس نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ اللہ اسے ناراض کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں کر غصہ نہ کروں جب کہ میں ایک کام کا حکم دیتا ہوں اور میری بات نہیں مانی جاتی ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه فاحرمنا بالحج فلما قدمنا مكة قال " اجعلوا حجكم عمرة " . فقال الناس يا رسول الله قد احرمنا بالحج فكيف نجعلها عمرة قال " انظروا ما امركم به فافعلوا " . فردوا عليه القول فغضب فانطلق حتى دخل على عايشة غضبان فرات الغضب في وجهه فقالت من اغضبك اغضبه الله قال " ومالي لا اغضب وانا امر امرا فلا اتبع
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہو جائے اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چنانچہ میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: میرے پاس سے چلی جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا ابو عاصم، انبانا ابن جريج، اخبرني منصور بن عبد الرحمن، عن امه، صفية عن اسماء بنت ابي بكر، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمين فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من كان معه هدى فليقم على احرامه ومن لم يكن معه هدى فليحلل " . قالت ولم يكن معي هدى فاحللت وكان مع الزبير هدى فلم يحل فلبست ثيابي وجيت الى الزبير فقال قومي عني . فقلت اتخشى ان اثب عليك
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کو فسخ کر کے عمرہ کر لینا صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے یا سارے لوگوں کے لیے عام ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں ) بلکہ صرف ہمیں لوگوں کے لیے خاص ہے ۔
حدثنا ابو مصعب، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال بن الحارث، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ارايت فسخ الحج في العمرة لنا خاصة ام للناس عامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بل لنا خاصة
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حج تمتع اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال كانت المتعة في الحج لاصحاب محمد صلى الله عليه وسلم خاصة
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کرنے میں اپنے اوپر میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا، آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: «إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں، اور جو حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر گناہ نہیں، ان دونوں کی سعی کرنے میں اگر بات ویسی ہوتی جو تم کہتے ہو تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اگر سعی نہ کرے تو ( اس پر گناہ نہیں ہے ) بات یہ ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری ہے، وہ جب لبیک پکارتے تو منات ( جو عربوں کا مشہور بت تھا ) کے نام سے پکارتے، ان ( کے اپنے اعتقاد کے مطابق ان کے ) کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حلال نہ تھا تو جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے آئے تو انہوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الصفا والمروة» صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، ان کے درمیان سعی کرنا گناہ نہیں ( جیسا کہ تم اسلام سے پہلے سمجھتے تھے ) اور قسم ہے کہ جس نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہ کی، اللہ تعالیٰ نے اس کا حج پورا نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، قال اخبرني ابي قال، قلت لعايشة ما ارى على جناحا ان لا اطوف بين الصفا والمروة . قالت ان الله يقول {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما} ولو كان كما تقول لكان فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما . انما انزل هذا في ناس من الانصار كانوا اذا اهلوا اهلوا لمناة فلا يحل لهم ان يطوفوا بين الصفا والمروة فلما قدموا مع النبي صلى الله عليه وسلم في الحج ذكروا ذلك له فانزلها الله فلعمري ما اتم الله عز وجل حج من لم يطف بين الصفا والمروة
شیبہ کی ام ولد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا هشام الدستوايي، عن بديل بن ميسرة، عن صفية بنت شيبة، عن ام ولد، شيبة قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى بين الصفا والمروة وهو يقول " لا يقطع الابطح الا شدا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا ابي، عن عطاء بن السايب، عن كثير بن جمهان، عن ابن عمر، قال ان اسع بين الصفا والمروة فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى وان امش فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي وانا شيخ كبير
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حج جہاد ہے، اور عمرہ نفل ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الحسن بن يحيى الخشني، حدثنا عمر بن قيس، اخبرني طلحة بن يحيى، عن عمه، اسحاق بن طلحة عن طلحة بن عبيد الله، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الحج جهاد والعمرة تطوع
عبداللہ بن ابی او فی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا ہم آپ کے ساتھ تھے، آپ نے طواف کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، آپ نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم مکہ والوں سے آپ کو آڑ میں کیے رہتے تھے کہ وہ آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچا دیں۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يعلى، حدثنا اسماعيل، سمعت عبد الله بن ابي اوفى، يقول كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اعتمر فطاف وطفنا معه وصلى وصلينا معه وكنا نستره من اهل مكة لا يصيبه احد بشىء
وہب بن خنبش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ، ( ثواب میں ) حج کے برابر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن بيان، وجابر، عن الشعبي، عن وهب بن خنبش، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمرة في رمضان تعدل حجة
ہرم بن خنبش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان، ح وحدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، جميعا عن داود بن يزيد الزعافري، عن الشعبي، عن هرم بن خنبش، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمرة في رمضان تعدل حجة
ابومعقل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا ابراهيم بن عثمان، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن ابي معقل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " عمرة في رمضان تعدل حجة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن حجاج، عن عطاء، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمرة في رمضان تعدل حجة
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ ( کا ثواب ) حج کے برابر ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن عبد الملك بن واقد، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن عبد الكريم، عن عطاء، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " عمرة في رمضان تعدل حجة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں، ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن ابن عباس، قال لم يعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الا في ذي القعدة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے عمرے کیے ہیں ماہ ذی قعدہ ہی میں کیے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عايشة، قالت لم يعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم عمرة الا في ذي القعدة
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینہ میں عمرہ کیا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر ام المؤمنین عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ نہیں کیا، اور آپ کا کوئی عمرہ ایسا نہیں جس میں وہ یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ نہ رہے ہوں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابي بكر بن عياش، عن الاعمش، عن حبيب، - يعني ابن ابي ثابت - عن عروة، قال سيل ابن عمر في اى شهر اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في رجب . فقالت عايشة ما اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجب قط وما اعتمر الا وهو معه - تعني ابن عمر
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں، اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو اسحاق الشافعي ابراهيم بن محمد بن العباس بن عثمان بن شافع قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، اخبرني عمرو بن اوس، حدثني عبد الرحمن بن ابي بكر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يردف عايشة فيعمرها من التنعيم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو ، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات ( بارہویں ذی الحجہ کی رات ) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» ( قربانی ) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع نوافي هلال ذي الحجة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اراد منكم ان يهل بعمرة فليهلل فلولا اني اهديت لاهللت بعمرة " . قالت فكان من القوم من اهل بعمرة ومنهم من اهل بحج فكنت انا ممن اهل بعمرة . قالت فخرجنا حتى قدمنا مكة فادركني يوم عرفة وانا حايض لم احل من عمرتي فشكوت ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " دعي عمرتك وانقضي راسك وامتشطي واهلي بالحج " . قالت ففعلت فلما كانت ليلة الحصبة وقد قضى الله حجنا ارسل معي عبد الرحمن بن ابي بكر فاردفني وخرج الى التنعيم فاهللت بعمرة فقضى الله حجنا وعمرتنا ولم يكن في ذلك هدى ولا صدقة ولا صوم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا اس کو بخش دیا جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، حدثني سليمان بن سحيم، عن ام حكيم بنت امية، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اهل بعمرة من بيت المقدس غفر له