Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہو گا ، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔
حدثنا محمد بن المصفى الحمصي، حدثنا احمد بن خالد، حدثنا محمد بن اسحاق، عن يحيى بن ابي سفيان، عن امه ام حكيم بنت امية، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اهل بعمرة من بيت المقدس كانت له كفارة لما قبلها من الذنوب " . قالت فخرجت - اى من بيت المقدس - بعمرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ۱؎۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد حدثنا داود بن عبد الرحمن، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع عمر عمرة الحديبية وعمرة القضاء من قابل والثالثة من الجعرانة والرابعة التي مع حجته
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں ( ذی الحجہ ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن اسماعيل، عن عطاء، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بمنى يوم التروية الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم غدا الى عرفة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يصلي الصلوات الخمس بمنى ثم يخبرهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابراهيم بن مهاجر، عن يوسف بن ماهك، عن امه، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله الا نبني لك بمنى بيتا قال " لا منى مناخ من سبق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنا دیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابراهيم بن مهاجر، عن يوسف بن ماهك، عن امه، مسيكة عن عايشة، قالت قلنا يا رسول الله الا نبني لك بمنى بنيانا يظلك قال " لا منى مناخ من سبق
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عقبة، عن محمد بن ابي بكر، عن انس، قال غدونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا اليوم من منى الى عرفة فمنا من يكبر ومنا من يهل فلم يعب هذا على هذا ولا هذا على هذا - وربما قال هولاء على هولاء ولا هولاء على هولاء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت ( نماز اور خطبہ کے لیے ) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» ( چلے ) بتایا ہے۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، انبانا نافع بن عمر الجمحي، عن سعيد بن حسان، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينزل بعرفة في وادي نمرة . قال فلما قتل الحجاج ابن الزبير ارسل الى ابن عمر اى ساعة كان النبي صلى الله عليه وسلم يروح في هذا اليوم قال اذا كان ذلك رحنا . فارسل الحجاج رجلا ينظر الى ساعة يرتحل . فلما اراد ابن عمر ان يرتحل قال ازاغت الشمس قالوا لم تزغ بعد . فجلس ثم قال ازاغت الشمس قالوا لم تزغ بعد . فجلس ثم قال ازاغت الشمس قالوا لم تزغ بعد . فجلس ثم قال ازاغت الشمس قالوا نعم . فلما قالوا قد زاغت ارتحل . قال وكيع يعني راح
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن عياش، عن زيد بن علي، عن ابيه، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي، قال وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة فقال " هذا الموقف وعرفة كلها موقف
یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن يزيد بن شيبان، قال كنا وقوفا في مكان تباعده من الموقف فاتانا ابن مربع فقال اني رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم اليكم يقول " كونوا على مشاعركم فانكم اليوم على ارث من ارث ابراهيم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا ( مزدلفہ ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر ( مذبح ) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا القاسم بن عبد الله العمري، حدثنا محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل عرفة موقف وارفعوا عن بطن عرنة وكل المزدلفة موقف وارفعوا عن بطن محسر وكل منى منحر الا ما وراء العقبة
عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے ، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی ۔
حدثنا ايوب بن محمد الهاشمي، حدثنا عبد القاهر بن السري السلمي، حدثنا عبد الله بن كنانة بن عباس بن مرداس السلمي، ان اباه، اخبره عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم دعا لامته عشية عرفة بالمغفرة فاجيب اني قد غفرت لهم ما خلا الظالم فاني ا��ذ للمظلوم منه . قال " اى رب ان شيت اعطيت المظلوم من الجنة وغفرت للظالم " . فلم يجب عشيته فلما اصبح بالمزدلفة اعاد الدعاء فاجيب الى ما سال . قال فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم . او قال تبسم . فقال له ابو بكر وعمر بابي انت وامي ان هذه لساعة ما كنت تضحك فيها فما الذي اضحكك اضحك الله سنك قال " ان عدو الله ابليس لما علم ان الله عز وجل قد استجاب دعايي وغفر لامتي اخذ التراب فجعل يحثوه على راسه ويدعو بالويل والثبور فاضحكني ما رايت من جزعه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہو جاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا ؟ ۱؎۔
حدثنا هارون بن سعيد المصري ابو جعفر، انبانا عبد الله بن وهب، اخبرني مخرمة بن بكير، عن ابيه، قال سمعت يونس بن يوسف، يقول عن ابن المسيب، قال قالت عايشة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من يوم اكثر من ان يعتق الله عز وجل فيه عبدا من النار من يوم عرفة وانه ليدنو عز وجل ثم يباهي بهم الملايكة فيقول ما اراد هولاء
عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں ( گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن بكير بن عطاء، سمعت عبد الرحمن بن يعمر الديلي، قال شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو واقف بعرفة واتاه ناس من اهل نجد فقالوا يا رسول الله كيف الحج قال " الحج عرفة فمن جاء قبل صلاة الفجر ليلة جمع فقد تم حجه ايام منى ثلاثة فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه " . ثم اردف رجلا خلفه فجعل ينادي بهن . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا الثوري، عن بكير بن عطاء الليثي، عن عبد الرحمن بن يعمر الديلي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة فجاءه نفر من اهل نجد فذكر نحوه . قال محمد بن يحيى ما ارى للثوري حديثا اشرف منه
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں حج کیا، تو اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی اونٹنی کو لاغر کر دیا اور اپنے آپ کو تھکا ڈالا، اور قسم اللہ کی! میں نے کوئی ایسا ٹیلہ نہیں چھوڑا، جس پر نہ ٹھہرا ہوں، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہا ہو، اور عرفات میں ٹھہر کر دن یا رات میں لوٹے، تو اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل ابن ابي خالد، عن عامر، - يعني الشعبي - عن عروة بن مضرس الطايي، انه حج على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يدرك الناس الا وهم بجمع . قال فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني انضيت راحلتي واتعبت نفسي والله ان تركت من حبل الا وقفت عليه فهل لي من حج فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من شهد معنا الصلاة وافاض من عرفات ليلا او نهارا فقد قضى تفثه وتم حجه
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے چلتے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم«عنق» کی چال ( تیز چال ) چلتے، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کرتے یعنی دوڑتے۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عنق» سے زیادہ تیز چال کو «نص» کہتے ہیں۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن اسامة بن زيد، انه سيل كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير حين دفع من عرفة قال كان يسير العنق فاذا وجد فجوة نص . قال وكيع والنص يعني فوق العنق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں ( یعنی عرفات سے ) اتاری۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا الثوري، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت قالت قريش نحن قواطن البيت لا نجاوز الحرم . فقال الله عز وجل {ثم افيضوا من حيث افاض الناس}
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز تمہارے آگے ( پڑھی جائے گی ) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن عقبة، عن كريب، عن اسامة بن زيد، قال افضت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما بلغ الشعب الذي ينزل عنده الامراء نزل فبال وتوضا قلت الصلاة . قال " الصلاة امامك " . فلما انتهى الى جمع اذن واقام ثم صلى المغرب ثم لم يحل احد من الناس حتى قام فصلى العشاء
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھی۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن عدي بن ثابت الانصاري، عن عبد الله بن يزيد الخطمي، انه سمع ابا ايوب الانصاري، يقول صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب والعشاء في حجة الوداع بالمزدلفة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم نے مغرب مزدلفہ میں پڑھی، پھر جب ہم نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقامت کہہ کر عشاء پڑھو ۔
حدثنا محرز بن سلمة العدني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبيد الله، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى المغرب بالمزدلفة فلما انخنا قال " الصلاة باقامة