Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو جب ہم نے مزدلفہ سے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: اے کوہ ثبیر! روشن ہو جا، تاکہ ہم جلد چلے جائیں، اور جب تک سورج نکل نہیں آتا تھا وہ نہیں لوٹتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا، آپ سورج نکلنے سے پہلے ہی مزدلفہ سے چل پڑے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال حججنا مع عمر بن الخطاب فلما اردنا ان نفيض، من المزدلفة قال ان المشركين كانوا يقولون اشرق ثبير كيما نغير . وكانوا لا يفيضون حتى تطلع الشمس فخالفهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فافاض قبل طلوع الشمس
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں مزدلفہ سے اطمینان کے ساتھ لوٹے، اور لوگوں کو بھی اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا، اور حکم دیا کہ وہ ایسی کنکریاں ماریں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ سکیں، اور وادی محسر، میں آپ نے سواری کو تیز چلایا اور فرمایا: میری امت کے لوگ حج کے احکام سیکھ لیں، کیونکہ مجھے نہیں معلوم شاید اس سال کے بعد میں ان سے نہ مل سکوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن الثوري، قال قال ابو الزبير قال جابر افاض النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وعليه السكينة وامرهم بالسكينة وامرهم ان يرموا بمثل حصى الخذف واوضع في وادي محسر . وقال " لتاخذ امتي نسكها فاني لا ادري لعلي لا القاهم بعد عامي هذا
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: بلال! لوگوں کو خاموش کرو ، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو ۔
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، حدثنا وكيع، حدثنا ابن ابي رواد، عن ابي سلمة الحمصي، عن بلال بن رباح، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له غداة جمع " يا بلال اسكت الناس " . او " انصت الناس " . ثم قال " ان الله تطول عليكم في جمعكم هذا فوهب مسييكم لمحسنكم واعطى محسنكم ما سال ادفعوا باسم الله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو ہماری اپنی گدھیوں پر پہلے ہی روانہ کر دیا، آپ ہماری رانوں پر آہستہ سے مارتے تھے، اور فرماتے تھے: میرے بچو! سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ مارنا ۱؎۔ سفیان نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے: میں نہیں سمجھتا کہ سورج نکلنے سے پہلے کوئی کنکریاں مارتا ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا مسعر، وسفيان، عن سلمة بن كهيل، عن الحسن العرني، عن ابن عباس، قال قدمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اغيلمة بني عبد المطلب على حمرات لنا من جمع فجعل يلطح افخاذنا ويقول " ابيني لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس " . زاد سفيان فيه " ولا اخال احدا يرميها حتى تطلع الشمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں جن کمزور لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا ان میں میں بھی تھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن عطاء، عن ابن عباس، قال كنت فيمن قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ضعفة اهله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ایک بھاری بھر کم عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے لوگوں کی روانگی سے پہلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان سودة بنت زمعة، كانت امراة ثبطة فاستاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تدفع من جمع قبل دفعة الناس فاذن لها
سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ (ام جندب الازدیہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کے پاس ایک خچر پر سوار دیکھا، آپ فرما رہے تھے: لوگو! جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارو تو ایسی ہوں جو دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن يزيد بن ابي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن امه، قالت رايت النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر عند جمرة العقبة وهو راكب على بغلة فقال " يا ايها الناس اذا رميتم الجمرة فارموا بمثل حصى الخذف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی صبح کو فرمایا، اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے: میرے لیے کنکریاں چن کر لاؤ ، چنانچہ میں نے آپ کے لیے سات کنکریاں چنیں، وہ کنکریاں ایسی تھیں جو دونوں انگلیوں کے بیچ آ جائیں، آپ انہیں اپنی ہتھیلی میں ہلاتے تھے اور فرماتے تھے: انہیں جیسی کنکریاں مارو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! دین میں غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں اسی غلو نے ہلاک کیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن عوف، عن زياد بن الحصين، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة العقبة وهو على ناقته " القط لي حصى " . فلقطت له سبع حصيات هن حصى الخذف فجعل ينفضهن في كفه ويقول " امثال هولاء فارموا " . ثم قال " يا ايها الناس اياكم والغلو في الدين فانما اهلك من كان قبلكم الغلو في الدين
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نچلے حصے میں گئے، کعبہ کی طرف رخ کیا، اور جمرہ عقبہ کو اپنے دائیں ابرو پر کیا، پھر سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے جاتے تھے پھر کہا: قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہیں سے اس ذات نے کنکری ماری ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن المسعودي، عن جامع بن شداد، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال لما اتى عبد الله بن مسعود جمرة العقبة استبطن الوادي واستقبل الكعبة وجعل الجمرة على حاجبه الايمن ثم رمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ثم قال من هاهنا والذي لا اله غيره رمى الذي انزلت عليه سورة البقرة
سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، آپ وادی کے نشیب میں تشریف لے گئے، اور جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے پھر لوٹ آئے۔ اس سند سے بھی ( سلیمان بن عمرو بن احوص کی والدہ ام جندب رضی اللہ عنہا ) سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن يزيد بن ابي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن امه، قالت رايت النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر عند جمرة العقبة استبطن الوادي فرمى الجمرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ثم انصرف . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن يزيد بن ابي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن ام جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، اور اس کے پاس رکے نہیں، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا طلحة بن يحيى، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، انه رمى جمرة العقبة ولم يقف عندها وذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم فعل مثل ذلك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تو چلے گئے، رکے نہیں۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن الحجاج، عن الحكم بن عتيبة، عن مقسم، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رمى جمرة العقبة مضى ولم يقف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم رمى الجمرة على راحلته
قدامہ بن عبداللہ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یوم النحر کو جمرہ کو اپنی سرخ اور سفید اونٹنی پر سوار ہو کر کنکریاں ماریں، اس وقت آپ نہ کسی کو مارتے، اور نہ ہٹاتے تھے، اور نہ یہی کہتے تھے کہ ہٹو! ہٹو!۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن ايمن بن نابل، عن قدامة بن عبد الله العامري، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم رمى الجمرة يوم النحر على ناقة له صهباء لا ضرب ولا طرد ولا اليك اليك
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو اجازت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں، اور ایک دن کی رمی چھوڑ دیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عبد الملك بن ابي بكر، عن ابي البداح بن عاصم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص للرعاء ان يرموا يوما ويدعوا يوما
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو رخصت دی کہ وہ یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو رمی کر لیں، پھر یوم النحر کے بعد کے دو دنوں کی رمی ایک ساتھ جمع کر لیں، خواہ گیارہویں، بارہویں دونوں کی رمی بارہویں کو کریں، یا گیارہویں کو بارہویں کی بھی رمی کر لیں ۱؎۔ مالک بن انس کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: پہلے دن رمی کریں پھر جس دن کوچ کرنے لگیں اس دن کر لیں۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا مالك بن انس، ح وحدثنا احمد بن سنان، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك بن انس، حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، عن ابي البداح بن عاصم، عن ابيه، قال رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم لرعاء الابل في البيتوتة ان يرموا يوم النحر ثم يجمعوا رمى يومين بعد النحر فيرمونه في احدهما - قال مالك ظننت انه قال في الاول منهما - ثم يرمون يوم النفر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے تھے، ہم نے بچوں کی طرف سے لبیک پکارا، اور ان کی طرف سے رمی کی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن اشعث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال حججنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعنا النساء والصبيان فلبينا عن الصبيان ورمينا عنهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی تک لبیک پکارا۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا حمزة بن الحارث بن عمير، عن ابيه، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لبى حتى رمى جمرة العقبة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھا، تو میں برابر آپ کا تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، جب آپ نے اس کی رمی کر لی تو لبیک کہنا ترک کر دیا۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن خصيف، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال قال الفضل بن عباس كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم فما زلت اسمعه يلبي حتى رمى جمرة العقبة فلما رماها قطع التلبية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب تم رمی جمار کر چکتے ہو تو ہر چیز سوائے بیوی کے حلال ہو جاتی ہے، اس پر ایک شخص نے کہا: ابن عباس! اور خوشبو؟ تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر میں مشک ملتے ہوئے دیکھا، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، ح وحدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، ووكيع، وعبد الرحمن بن مهدي، قالوا حدثنا سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن الحسن العرني، عن ابن عباس، قال اذا رميتم الجمرة فقد حل لكم كل شىء الا النساء . فقال له رجل يا ابن عباس والطيب فقال اما انا فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يضمخ راسه بالمسك افطيب ذلك ام لا