Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: زمزم کا پانی اس مقصد اور فائدے کے لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، قال قال عبد الله بن المومل انه سمع ابا الزبير، يقول سمعت جابر بن عبد الله، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ماء زمزم لما شرب له
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن کعبہ کے اندر تشریف لے گئے، آپ کے ساتھ بلال اور عثمان بن شیبہ رضی اللہ عنہما بھی تھے، پھر ان لوگوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا، جب وہ لوگ باہر نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک کے سامنے ہی نماز پڑھی، جب دونوں ستو نوں کے درمیان تشریف لے گئے، پھر میں نے اپنے آپ پر اس بات پر ملامت کی کہ میں نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عمر بن عبد الواحد، عن الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، حدثني نافع، عن ابن عمر، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح الكعبة ومعه بلال وعثمان بن شيبة فاغلقوها عليهم من داخل فلما خرجوا سالت بلالا اين صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرني انه صلى على وجهه حين دخل بين العمودين عن يمينه ثم لمت نفسي ان لا اكون سالته كم صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے، آپ بہت خوش اور ہشاش بشاش تھے، پھر میرے پاس واپس آئے تو آپ غمگین تھے، یہ دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے، ابھی میرے پاس سے آپ نکلے تو آپ بہت خوش تھے، اور واپس آئے ہیں تو غمگین ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے اندر گیا، پھر میرے جی میں آیا کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا، میں ڈرتا ہوں کہ اپنے بعد میں اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دوں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن عبد الملك، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت خرج النبي صلى الله عليه وسلم من عندي وهو قرير العين طيب النفس ثم رجع الى وهو حزين فقلت يا رسول الله خرجت من عندي وانت قرير العين ورجعت وانت حزين . فقال " اني دخلت الكعبة ووددت اني لم اكن فعلت اني اخاف ان اكون اتعبت امتي من بعدي
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی، کیونکہ زمزم کے پلانے کا کام ان کے سپرد تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال استاذن العباس بن عبد المطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيت بمكة ايام منى من اجل سقايته فاذن له
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( منیٰ کے دنوں میں ) کسی کو مکہ میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی سوائے عباس کے، کیونکہ حاجیوں کو پانی پلانے کا کام ان کے سپرد تھا۔
حدثنا علي بن محمد، وهناد بن السري، قالا حدثنا ابو معاوية، عن اسماعيل بن مسلم، عن عطاء، عن ابن عباس، قال لم يرخص النبي صلى الله عليه وسلم لاحد يبيت بمكة الا للعباس من اجل السقاية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابطح میں اترنا سنت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے اترے تھے کہ وہاں سے مدینہ کے لیے روانگی میں آسانی ہو۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابن ابي زايدة، وعبدة، ووكيع، وابو معاوية ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، وابو معاوية ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، كلهم عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان نزول الابطح ليس بسنة انما نزله رسول الله صلى الله عليه وسلم ليكون اسمح لخروجه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانگی کی رات بطحاء کی طرف سے ( مدینہ کے لیے ) رات ہی کو چل پڑے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، عن عمار بن رزيق، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ادلج النبي صلى الله عليه وسلم ليلة النفر من البطحاء ادلاجا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ابطح میں اترا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان ينزلون بالابطح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر طرف کو جا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سليمان، عن طاوس، عن ابن عباس، قال كان الناس ينصرفون كل وجه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينفرن احد حتى يكون اخر عهده بالبيت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کوچ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام خانہ کعبہ کا طواف ہو۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابراهيم بن يزيد، عن طاوس، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينفر الرجل حتى يكون اخر عهده بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ ہمیں روک لے گی ؟ میں نے کہا: وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں اس کے بعد حائضہ ہوئی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چلو روانہ ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وعروة، عن عايشة، قالت حاضت صفية بنت حيى بعدما افاضت . قالت عايشة فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال " احابستنا هي " . فقلت انها قد افاضت ثم حاضت بعد ذلك . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلتنفر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو ہم نے کہا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عقرى حلقى»! میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ دسویں کو طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو پھر ہمیں رکنے کی ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ وہ روانہ ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم صفية فقلنا قد حاضت . فقال " عقرى حلقى ما اراها الا حابستنا " . فقلنا يا رسول الله انها قد طافت يوم النحر . قال " فلا اذا مروها فلتنفر
جعفر الصادق اپنے والد محمد الباقر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، جب ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں پوچھا کہ کون لوگ ہیں، یہاں تک کہ آخر میں مجھ سے پوچھا، میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی پھر نیچے کی کھولی پھر اپنی ہتھیلی میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی، میں ان دنوں نوجوان لڑکا تھا، اور کہا: تمہیں خوش آمدید، تم جو چاہو پوچھو، میں نے ان سے ( کچھ باتیں ) پوچھیں، وہ نابینا تھے ۱؎ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، وہ ایک بنی ہوئی چادر جسے جسم پر لپیٹے ہوئے تھے اوڑھ کر کھڑے ہوئے، جب اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالتے تو اس کے دونوں کنارے ان کی جانب واپس آ جاتے ( کیونکہ چادر چھوٹی تھی ) اور ان کی بڑی چادر ان کے پاس ہی میز پر رکھی ہوئی تھی، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو ( ۹ ) کی گرہ بنائی ( یعنی خنصر، بنصر اور وسطی کا سرا ہتھیلی سے لگا لیا ) اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ( مدینہ میں ) ٹھہرے رہے، آپ نے حج نہیں کیا، پھر ( ہجرت ) کے دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا کہ اس سال آپ حج کو جائیں گے، تو مدینہ میں ( اطراف سے ) بہت سے لوگ ( آپ کے ساتھ حج میں شریک ہونے کے لیے ) آ گئے، سب کی یہ خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، اور جو کام آپ کریں وہی وہ بھی کریں، خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، ہم ذو الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کر لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، اور احرام کی نیت کر لو ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذوالحلیفہ ) مسجد میں نماز ادا کی، پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہو گئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر مقام بیداء میں سیدھی کھڑی ہوئی تو جہاں تک میری نگاہ گئی میں نے آپ کے سامنے سوار اور پاپیادہ لوگوں کو ہی دیکھا، اور دائیں بائیں اور پیچھے بھی ایسے ہی لوگ نظر آ رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترتا تھا، آپ اس کے معانی کو سمجھتے تھے، آپ جو کام کرتے تھے ہم بھی وہی کرتے تھے، آپ نے توحید پر مشتمل تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا ان میں کوئی شریک نہیں تو لوگوں نے بھی انہیں الفاظ میں تلبیہ پکارا جن میں آپ پکار رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کسی الفاظ کی تبدیلی نہیں فرمائی ۳؎، آپ یہی تلبیہ پکارتے رہے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، ہم عمرہ جانتے بھی نہ تھے ۴؎ ( یعنی اس کا سرے سے کوئی خیال ہی نہیں تھا ) یہاں تک کہ جب ہم خانہ کعبہ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف میں تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس جا کر کھڑے ہوئے، اور آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو پڑھی ۵؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کیا۔ جعفر کہتے ہیں کہ میرے والد کہتے تھے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے: آپ ( طواف کی ) دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون»، «قل هو الله أحد» پڑھ رہے تھے ۶؎۔ پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لوٹ کر خانہ کعبہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر باب صفا سے صفا پہاڑی کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب صفا کے قریب ہوئے تو: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں پڑھی اور فرمایا: ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سعی ) صفا سے شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل صفا چڑھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ نظر آنے لگا تو «الله أكبر لا إله إلا الله اور الحمد لله» پڑھا، اور فرمایا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده لا شريك له أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں، ساری بادشاہت اسی کے لیے ہے، اور تمام قسم کی تعریفیں اسی کے لیے سزاوار ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اور اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا بہت سی جماعتوں کو شکست دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان دعا فرمائی اور یہ کلمات تین بار دہرائے، پھر آپ ( صفا سے ) اتر کر مروہ کی طرف چلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے رمل کیا ( یعنی مونڈھے ہلاتے ہوئے دوڑ کر چلے ) ، پھر جب چڑھائی پر پہنچے تو عام چال چل کر مروہ تک آئے، اور مروہ پر بھی آپ نے ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا، پھر جب آپ کا آخری پھیرا مروہ پر ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو گئی ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا، اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا، لہٰذا تم میں سے جس آدمی کے ساتھ ہدی ( کے جانور ) نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اس کو عمرہ میں تبدیل کر لے ، یہ سن کر لوگوں نے احرام کھول دیا، اور بال کتروا لیے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ پھر سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ حکم ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں اور دو بار فرمایا: عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا ہے ، اور فرمایا: صرف اس سال کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ۔ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ ( یمن ) سے لے کر آئے تو انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا، وہ رنگین کپڑا پہنے ہوئے تھیں، اور سرمہ لگا رکھا تھا، تو اس پر انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں: میرے والد نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ ( اپنے ایام خلافت میں ) عراق میں فرما رہے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کر رکھا تھا، غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس چیز کے متعلق پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے متعلق بتائی تھی، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ سچ کہتی ہے، ہاں، وہ سچ کہتی ہے ، اور جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو تم نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے یوں کہا تھا: اے اللہ! میں وہی تلبیہ پکارتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو ہدی ہے تو اب تم حلال نہ ہو ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو قربانی کے وہ اونٹ جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے، اور وہ اونٹ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو تھے، پھر سارے لوگ حلال ہو گئے، اور انہوں نے بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ پھر جب یوم الترویہ ( ذی الحجہ کا آٹھواں دن ) آیا تو حج کا تلبیہ پکار کر لوگ منیٰ کی طرف چلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے، اور منیٰ پہنچ کر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں، ( نوویں ذی الحجہ کو فجر کے بعد ) تھوڑی دیر رکے رہے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، اور بال کے خیمے کے متعلق حکم دیا کہ اسے نمرہ میں لگایا جائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش کو اس میں شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام ۷؎ یا مزدلفہ کے پاس ٹھہریں گے، جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۸؎، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پار کر کے عرفات میں جا پہنچے، دیکھا تو خیمہ نمرہ میں لگا ہوا ہے، آپ وہیں اتر پڑے، جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء ( اونٹنی ) پر کجاوہ کسے جانے کا حکم دیا، آپ اس پر سوار ہو کر وادی کے نشیب میں آئے، اور خطبہ دیا، اس میں فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر میں، سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے ان دونوں پاؤں کے تلے رکھ کر روند دی گئی، اور جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے، اور سب سے پہلا خون جس کو میں معاف کرتا ہوں ربیعہ بن حارث کا خون ہے، وہ بنی سعد میں دودھ پی رہے تھے کہ شیر خوارگی ہی کی حالت میں ہذیل نے انہیں قتل کر دیا تھا، اور جاہلیت کے سارے سود بھی معاف کر دئیے گئے اور اپنے سودوں میں سے پہلا سود جس کو میں معاف کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے، وہ سب معاف ہے۔ اور عورتوں کے سلسلہ میں تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے امان اور عہد سے اپنے عقد میں لیا ہے، اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلام سے حلال کیا ہے، لہٰذا تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر اس شخص کو روندنے نہ دیں جن کو تم برا جانتے ہو ۹؎، اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن ایسی سخت مار نہیں کہ جس سے ہڈی پسلی ٹوٹ جائے، ان کا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ تم ان کو دستور و عرف کے مطابق روٹی اور کپڑا دو، میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو گمراہ نہ ہو گے، اور وہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے، اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو بتاؤ، تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا اور ذمہ داری ادا کر دی! اور آپ نے ہماری خیر خواہی کی، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت والی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا پھر آپ اسے لوگوں کی طرف جھکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ ، تین بار آپ نے یہ کلمات دہرائے۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان آپ نے کوئی اور نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور اس مقام پر آئے جہاں عرفات میں وقوف کرتے ہیں، اور اپنی اونٹنی کا پیٹ جبل رحمت کی طرف کیا اور جبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا، اور قبلہ رخ کھڑے ہوئے، اور سورج ڈوبنے تک مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ تھوڑی زردی بھی جاتی رہی، جب سورج ڈوب گیا تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، پھر آپ عرفات سے چلے، اور قصواء کی نکیل کو کھینچے رکھا یہاں تک کہ اس کا سر کجاوے کی پچھلی لکڑی سے لگ جایا کرتا تھا، اور اپنے داہنے ہاتھ کے اشارے سے فرما رہے تھے: لوگو! اطمینان اور آہستگی سے چلو ، جب آپ کسی ریت کے ٹیلے پر آتے تو قصواء کی نکیل تھوڑی ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ وہ چڑھ جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے، اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھی اور ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، تو آپ نے فجر پڑھی جس وقت صبح پوری طرح واضح ہو گئی، پھر آپ قصواء پر سوار ہو ے، اور مشعر حرام ( مزدلفہ میں ایک پہاڑ ہے ) کے پاس آئے، اور اس پر چڑھے اور اللہ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل کرتے رہے، اور وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر وہاں سے سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے، اور سواری پر فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، وہ بہت بہترین بال والے گورے اور خوبصورت شخص تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور اونٹوں پر سوار عورتیں گزرنے لگیں، تو فضل انہیں دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طرف سے اپنے ہاتھ کا آڑ کر لیا تو فضل اپنا چہرہ پھیر کر دوسری طرف سے انہیں دیکھنے لگے، یہاں تک کہ آپ وادی محسر میں آئے، وہاں آپ نے سواری کو ذرا تیز کیا، پھر آپ اس کے درمیان والے راستہ پر سے چلے جو تمہیں جمرہ عقبہ کی جانب نکالتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے، ( یعنی جمرہ عقبہ پر ) اور سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر آپ تکبیر کہتے تھے، اور کنکریاں ایسی تھی جو دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں، وادی کے نشیب سے آپ نے کنکریاں ماریں، پھر آپ نحر کے مقام پر آئے، اور ۶۳ اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر ( ذبح ) کیے، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو دیا، اور باقی اونٹوں کا نحر انہوں نے کیا، انہیں بھی آپ نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے اونٹوں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لانے کے لیے کہا، چنانچہ لا کر اسے ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر دونوں نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا، پھر وہاں سے لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس آئے، اور مکہ میں نماز پڑھی ۱۰؎، پھر خاندان بنی عبدالمطلب میں آئے، دیکھا تو یہ لوگ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالمطلب کے بیٹو! نکالو اور پلاؤ ۱۱؎، اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تمہارے اس پلانے کے کام میں لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو تمہارے ساتھ میں بھی نکالتا پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک ڈول دیا آپ نے بھی اس میں سے پیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے تین صورتوں میں نکلے، ہم میں تین قسم کے لوگ تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا، اور کچھ لوگوں نے حج افراد کا، اور کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا، جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ ایک ساتھ پکارا تھا ( یعنی قران کیا تھا ) وہ حج کے سارے مناسک پورے کر لینے کے بعد حلال ہوئے، اور جس نے حج افراد کا تلبیہ پکارا تھا اس کا بھی یہی حال رہا، وہ بھی اس وقت تک حلال نہیں ہوا جب تک حج کے سارے مناسک پورے نہ کر لیے، اور جس نے صرف عمرہ کا تلبیہ پکارا تھا وہ خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گیا، یہاں تک کہ ( یوم الترویہ کو ) نئے سرے سے حج کا احرام باندھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر العبدي، عن محمد بن عمرو، حدثني يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم للحج على انواع ثلاثة فمنا من اهل بحج وعمرة معا ومنا من اهل بحج مفرد ومنا من اهل بعمرة مفردة . فمن كان اهل بحج وعمرة معا لم يحلل من شىء مما حرم منه حتى يقضي مناسك الحج ومن اهل بالحج مفردا لم يحلل من شىء مما حرم منه حتى يقضي مناسك الحج ومن اهل بعمرة مفردة فطاف بالبيت وبين الصفا والمروة حل ما حرم منه حتى يستقبل حجا
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے ۱؎، دو حج ہجرت سے پہلے، اور ایک حج ہجرت کے بعد مدینہ سے آ کر کیا، اس حج کے ساتھ آپ نے عمرہ کو بھی ملایا ( یعنی قران کیا ) اس حج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جو اونٹ لے کر آئے تھے، اور جو علی رضی اللہ عنہ ( یمن سے ) لے کر آئے تھے سب ملا کر کل سو اونٹ تھے، جن میں سے ایک اونٹ ابوجہل کا بھی تھا، اس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلہ تھا، ان میں سے ۶۳ اونٹوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا، اور جو باقی رہ گئے انہیں علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیا، سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ حدیث کس نے روایت کی ہے تو انہوں نے کہا: جعفر صادق نے اپنے والد سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور ابن ابی لیلیٰ نے حکم سے، حکم نے مقسم سے اور مقسم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
حدثنا القاسم بن محمد بن عباد المهلبي، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا سفيان، قال حج رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث حجات حجتين قبل ان يهاجر وحجة بعد ما هاجر من المدينة وقرن مع حجته عمرة واجتمع ما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم وما جاء به علي ماية بدنة منها جمل لابي جهل في انفه برة من فضة فنحر النبي صلى الله عليه وسلم بيده ثلاثا وستين ونحر علي ما غبر . قيل له من ذكره قال جعفر عن ابيه عن جابر وابن ابي ليلى عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس حاجی کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے، تو وہ حلال ہو جائے ( احرام کھول ڈالے ) اب اس پر دوسرا حج ہے ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بیان کی تو ان دونوں نے کہا: حجاج نے سچ کہا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن سعيد، وابن، علية عن حجاج بن ابي عثمان، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني عكرمة، حدثني الحجاج بن عمرو الانصاري، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من كسر او عرج فقد حل وعليه حجة اخرى " . فحدثت به ابن عباس، وابا، هريرة فقالا صدق
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے محرم کے رک جانے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا بیمار ہو گیا، یا لنگڑا ہو گیا تو وہ حلال ہو گیا اور اس پر آئندہ سال حج ہے ۱؎۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بیان کی تو انہوں نے کہا: حجاج نے سچ کہا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث ہشام صاحب دستوائی کی کتاب میں ملی، تو اسے لے کر میں معمر کے پاس آیا، تو انہوں نے یہ حدیث مجھے پڑھ کر سنائی یا میں نے ا نہیں پڑھ کر سنائی
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع، - مولى ام سلمة - قال سالت الحجاج بن عمرو عن حبس المحرم فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كسر او مرض او عرج فقد حل وعليه الحج من قابل " . قال عكرمة فحدثت به ابن عباس، وابا، هريرة فقالا صدق . قال عبد الرزاق فوجدته في جزء هشام صاحب الدستوايي فاتيت به معمرا فقرا على او قرات عليه
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ میں مسجد میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تو میں نے ان سے آیت کریمہ: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۶ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ جوئیں ( میرے سر میں اتنی کثرت سے تھیں کہ ) میرے منہ پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اس قدر تکلیف ہو گی، کیا ایک بکری تمہیں مل سکتی ہے ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تب یہ آیت اتری: «ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» یعنی فدیہ ہے صوم کا یا صدقہ کا یا قربانی کا ، تو صوم تین دن کا ہے، اور صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا دینا ہے، ہر مسکین کو آدھا صاع، اور قربانی ایک بکری کی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن الوليد، قالا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن عبد الله بن معقل، قال قعدت الى كعب بن عجرة في المسجد فسالته عن هذه الاية، {ففدية من صيام او صدقة او نسك} . قال كعب في انزلت كان بي اذى من راسي فحملت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم والقمل يتناثر على وجهي فقال " ما كنت ارى الجهد بلغ منك ما ارى اتجد شاة " . قلت لا . قال فنزلت هذه الاية {ففدية من صيام او صدقة او نسك} . قال فالصوم ثلاثة ايام والصدقة على ستة مساكين لكل مسكين نصف صاع من طعام والنسك شاة
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس وقت جوؤں نے مجھے پریشان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا سر منڈوا ڈالوں، اور تین دن روزے رکھوں، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ میرے پاس قربانی کے لیے کچھ نہیں ہے۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن نافع، عن اسامة بن زيد، عن محمد بن كعب، عن كعب بن عجرة، قال امرني النبي صلى الله عليه وسلم حين اذاني القمل ان احلق راسي واصوم ثلاثة ايام او اطعم ستة مساكين وقد علم ان ليس عندي ما انسك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے، اور آپ احرام کی حالت میں تھے۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن يزيد بن ابي زياد، عن مقسم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو صايم محرم
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، قال دخلنا على جابر بن عبد الله فلما انتهينا اليه سال عن القوم، حتى انتهى الى فقلت انا محمد بن علي بن الحسين، . فاهوى بيده الى راسي فحل زري الاعلى ثم حل زري الاسفل ثم وضع كفه بين ثديى وانا يوميذ غلام شاب فقال مرحبا بك سل عما شيت . فسالته وهو اعمى فجاء وقت الصلاة فقام في نساجة ملتحفا بها كلما وضعها على منكبيه رجع طرفاها اليه من صغرها ورداوه الى جانبه على المشجب فصلى بنا فقلت اخبرنا عن حجة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال بيده فعقد تسعا وقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مكث تسع سنين لم يحج فاذن في الناس في العاشرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حاج فقدم المدينة بشر كثير كلهم يلتمس ان ياتم برسول الله صلى الله عليه وسلم ويعمل بمثل عمله فخرج وخرجنا معه فاتينا ذا الحليفة فولدت اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف اصنع قال " اغتسلي واستثفري بثوب واحرمي " . فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ثم ركب القصواء . حتى اذا استوت به ناقته على البيداء - قال جابر نظرت الى مد بصري من بين يديه بين راكب وماش وعن يمينه مثل ذلك وعن يساره مثل ذلك ومن خلفه مثل ذلك ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا وعليه ينزل القران وهو يعرف تاويله ما عمل من شىء عملنا به فاهل بالتوحيد " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . واهل الناس بهذا الذي يهلون به فلم يرد رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهم شييا منه ولزم رسول الله صلى الله عليه وسلم تلبيته . قال جابر لسنا ننوي الا الحج لسنا نعرف العمرة حتى اذا اتينا البيت معه استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى اربعا ثم قام الى مقام ابراهيم فقال " {واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى} " . فجعل المقام بينه وبين البيت فكان ابي يقول - ولا اعلمه الا ذكره عن النبي صلى الله عليه وسلم - انه كان يقرا في الركعتين {قل يا ايها الكافرون} و {قل هو الله احد } . ثم رجع الى البيت فاستلم الركن ثم خرج من الباب الى الصفا حتى اذا دنا من الصفا قرا " {ان الصفا والمروة من شعاير الله ) . نبدا بما بدا الله به " . فبدا بالصفا . فرقي عليه حتى راى البيت فكبر الله وهلله وحمده وقال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا اله الا الله وحده لا شريك له انجز وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده " . ثم دعا بين ذلك وقال مثل هذا ثلاث مرات ثم نزل الى المروة فمشى حتى اذا انصبت قدماه رمل في بطن الوادي حتى اذا صعدتا - يعني قدماه - مشى حتى اتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا فلما كان اخر طوافه على المروة . قال " لو اني استقبلت من امري ما استدبرت لم اسق الهدى وجعلتها عمرة فمن كان منكم ليس معه هدى فليحلل وليجعلها عمرة " . فحل الناس كلهم وقصروا الا النبي صلى الله عليه وسلم ومن كان معه الهدى فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال يا رسول الله العامنا هذا ام لابد الابد قال فشبك رسول الله صلى الله عليه وسلم اصابعه في الاخرى وقال " دخلت العمرة في الحج هكذا - مرتين - لا بل لابد الابد " . قال وقدم علي ببدن الى النبي صلى الله عليه وسلم . فوجد فاطمة ممن حل ولبست ثيابا صبيغا واكتحلت فانكر ذلك عليها علي فقالت امرني ابي بهذا . فكان علي يقول بالعراق فذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم محرشا على فاطمة في الذي صنعته مستفتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم في الذي ذكرت عنه وانكرت ذلك عليها . فقال " صدقت صدقت ماذا قلت حين فرضت الحج " . قال قلت اللهم اني اهل بما اهل به رسولك صلى الله عليه وسلم . قال " فان معي الهدى فلا تحل " . قال فكان جماعة الهدى الذي جاء به علي من اليمن والذي اتى به النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة ماية ثم حل الناس كلهم وقصروا الا النبي صلى الله عليه وسلم ومن كان معه هدى فلما كان يوم التروية وتوجهوا الى منى اهلوا بالحج . فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بمنى الظهر والعصر والمغرب والعشاء والصبح ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس وامر بقبة من شعر فضربت له بنمرة فسار رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تشك قريش الا انه واقف عند المشعر الحرام او المزدلفة كما كانت قريش تصنع في الجاهلية فاجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى اذا زاغت الشمس امر بالقصواء فرحلت له فركب حتى اتى بطن الوادي فخطب الناس فقال " ان دماءكم واموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا الا وان كل شىء من امر الجاهلية موضوع تحت قدمى هاتين ودماء الجاهلية موضوعة واول دم اضعه دم ربيعة بن الحارث - كان مسترضعا في بني سعد فقتلته هذيل - وربا الجاهلية موضوع واول ربا اضعه ربانا ربا العباس بن عبد المطلب فانه موضوع كله فاتقوا الله في النساء فانكم اخذتموهن بامانة الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله وان لكم عليهن ان لا يوطين فرشكم احدا تكرهونه فان فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف وقد تركت فيكم ما لم تضلوا ان اعتصمتم به كتاب الله وانتم مسيولون عني فما انتم قايلون " . قالوا نشهد انك قد بلغت واديت ونصحت . فقال باصبعه السبابة الى السماء وينكبها الى الناس " اللهم اشهد اللهم اشهد " . ثلاث مرات ثم اذن بلال ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شييا ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى الموقف فجعل بطن ناقته الى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص واردف اسامة بن زيد خلفه فدفع رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد شنق القصواء بالزمام حتى ان راسها ليصيب مورك رحله ويقول بيده اليمنى " ايها الناس السكينة السكينة " . كلما اتى حبلا من الحبال ارخى لها قليلا حتى تصعد ثم اتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء باذان واحد واقامتين ولم يصل بينهما شييا ثم اضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح باذان واقامة ثم ركب القصواء حتى اتى المشعر الحرام فرقي عليه فحمد الله وكبره وهلله فلم يزل واقفا حتى اسفر جدا ثم دفع قبل ان تطلع الشمس واردف الفضل بن العباس وكان رجلا حسن الشعر ابيض وسيما فلما دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم مر الظعن يجرين فطفق الفضل ينظر اليهن فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده من الشق الاخر فصرف الفضل وجهه من الشق الاخر ينظر حتى اتى محسرا حرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرجك الى الجمرة الكبرى حتى اتى الجمرة التي عند الشجرة فرمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف ورمى من بطن الوادي ثم انصرف الى المنحر فنحر ثلاثا وستين بدنة بيده واعطى عليا فنحر ما غبر واشركه في هديه ثم امر من كل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت فاكلا من لحمها وشربا من مرقها ثم افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم الى البيت فصلى بمكة الظهر فاتى بني عبد المطلب وهم يسقون على زمزم فقال " انزعوا بني عبد المطلب لولا ان يغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم " . فناولوه دلوا فشرب منه