Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو ہوا تھا، پچھنے لگوائے۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا محمد بن ابي الضيف، عن ابن خثيم، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم من رهصة اخذته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو «مقتت» ( خوشبودار ) نہ ہوتا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن سلمة، عن فرقد السبخي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدهن راسه بالزيت وهو محرم غير المقتت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اس کے دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو، اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، اوقصته راحلته وهو محرم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تخمروا وجهه ولا راسه فانه يبعث يوم القيامة ملبيا " . حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، مثله الا انه قال اعقصته راحلته . وقال " لا تقربوه طيبا فانه يبعث يوم القيامة ملبيا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے شکار کئے ہوئے بجو کے کفارہ میں ایک مینڈھا متعین فرمایا، اور اسے شکار قرار دیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا جرير بن حازم، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي عمار، عن جابر، قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم في الضبع يصيبه المحرم كبشا وجعله من الصيد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو محرم کو ملیں، فرمایا: اسے اس کی قیمت دینی ہو گی ۔
حدثنا محمد بن موسى القطان الواسطي، حدثنا يزيد بن موهب، حدثنا مروان بن معاوية الفزاري، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حسين المعلم، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في بيض النعام يصيبه المحرم " ثمنه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جنہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں قتل کیا جائے گا: سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا، اور چیل ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومحمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، ومحمد بن الوليد، قالوا حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، سمعت قتادة، يحدث عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم الحية والغراب الابقع والفارة والكلب العقور والحداة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس من الدواب لا جناح على من قتلهن - او قال في قتلهن - وهو حرام العقرب والغراب والحداة والفارة والكلب العقور
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم سانپ، بچھو، حملہ آور درندے، کاٹ کھانے والے کتے، اور فسادی چوہیا کو قتل کر سکتا ہے ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اسے فسادی کیوں کہا گیا؟ کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے جاگتے رہے، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا محمد بن فضيل، عن يزيد بن ابي زياد، عن ابن ابي نعم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " يقتل المحرم الحية والعقرب والسبع العادي والكلب العقور والفارة الفويسقة " . فقيل له لم قيل لها الفويسقة قال لان رسول الله صلى الله عليه وسلم استيقظ لها وقد اخذت الفتيلة لتحرق بها البيت
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے، میں ابواء یا ودان میں تھا، میں نے آپ کو ہدیہ میں ایک نیل گائے دی، آپ نے اسے لوٹا دیا، پھر جب آپ نے میرے چہرہ پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ہم یہ تمہیں نہیں لوٹاتے، لیکن ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، ح وحدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، جميعا عن ابن شهاب الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال انبانا صعب بن جثامة، قال مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا بالابواء او بودان فاهديت له حمار وحش فرده على فلما راى في وجهي الكراهية . قال " انه ليس بنا رد عليك ولكنا حرم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکار کا گوشت لایا گیا، اور آپ احرام کی حالت میں تھے تو آپ نے اسے نہیں کھایا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عمران بن محمد بن ابي ليلى، عن ابيه، عن عبد الكريم، عن عبد الله بن الحارث، عن ابن عباس، عن علي بن ابي طالب، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم صيد وهو محرم فلم ياكله
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نیل گائے دی، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، اور وہ سب محرم تھے
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن عيسى بن طلحة، عن طلحة بن عبيد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاه حمار وحش وامره ان يفرقه في الرفاق وهم محرمون
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، آپ کے صحابہ نے احرام باندھ لیا، اور میں بغیر احرام کے تھا، میں نے ایک نیل گائے دیکھی تو اس پر حملہ کر کے اس کا شکار کر لیا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اور عرض کیا کہ میں بغیر احرام کے تھا، اور میں نے اس کا شکار آپ ہی کے لیے کیا ہے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ وہ اسے کھا لیں، اور جب میں نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ شکار میں نے آپ کے لیے کیا ہے تو آپ نے اس میں سے نہیں کھایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية فاحرم اصحابه ولم احرم فرايت حمارا فحملت عليه واصطدته فذكرت شانه لرسول الله صلى الله عليه وسلم وذكرت اني لم اكن احرمت واني انما اصطدته لك فامر النبي صلى الله عليه وسلم اصحابه فاكلوا ولم ياكل منه حين اخبرته اني اصطدته له
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مدینہ سے بھیجتے تھے، میں آپ کے ہدی کے جانوروں کے لیے قلادہ ۱؎ ( پٹہ ) بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے ۲؎۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، وعمرة بنت عبد الرحمن، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يهدي من المدينة فافتل قلايد هديه ثم لا يجتنب شييا مما يجتنب المحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ۱؎ کے لیے قلادہ ( پٹہ ) بٹتی تھی، آپ وہ قلادہ اپنی ہدی والے جانور کے گلے میں ڈالتے، پھر اس کو روانہ فرما دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہی میں مقیم رہتے، اور جن باتوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی بات سے آپ پرہیز نہیں کرتے تھے ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كنت افتل القلايد لهدى النبي صلى الله عليه وسلم فيقلد هديه ثم يبعث به ثم يقيم لا يجتنب شييا مما يجتنبه المحرم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی کے لیے بکریاں بھیجیں، تو آپ نے ان کے گلے میں بھی قلادہ ( پٹہ ) ڈال کر بھیجا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت اهدى رسول الله صلى الله عليه وسلم مرة غنما الى البيت فقلدها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان میں اشعار کیا، اور اس سے خون صاف کیا، علی بن محمد نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعار ذو الحلیفہ میں کیا، اور دو جوتیاں اس کے گلے میں لٹکائیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام الدستوايي، عن قتادة، عن ابي حسان الاعرج، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اشعر الهدى في السنام الايمن واماط عنه الدم . وقال علي في حديثه بذي الحليفة وقلد نعلين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا، اور اسے ( مکہ ) بھجوایا، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حماد بن خالد، عن افلح، عن القاسم، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قلد واشعر وارسل بها ولم يجتنب ما يجتنب المحرم
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں ( غریبوں اور محتاجوں میں ) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن عبد الكريم، عن مجاهد، عن ابن ابي ليلى، عن علي بن ابي طالب، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقوم على بدنه وان اقسم جلالها وجلودها وان لا اعطي الجازر منها شييا وقال " نحن نعطيه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو ( جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا ) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابن ابي ليلى، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اهدى في بدنه جملا لابي جهل برته من فضة
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں میں ایک نر اونٹ بھی تھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله بن موسى، انبانا موسى بن عبيدة، عن اياس بن سلمة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في بدنه جمل