Loading...

Loading...
کتب
۲۳۸ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يحيى بن يمان، عن سفيان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى هديه من قديد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان الثوري، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، . ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة فقال " اركبها " . قال انها بدنة . قال " اركبها ويحك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے کوئی شخص ایک اونٹ لے کر گزرا تو آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا وہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار تھا، اس کی گردن میں ایک جوتی لٹک رہی تھی۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن هشام، - صاحب الدستوايي - عن قتادة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر عليه ببدنة فقال " اركبها " . قال انها بدنة . قال " اركبها " . قال فرايته راكبها مع النبي صلى الله عليه وسلم في عنقها نعل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ذویب خزاعی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجتے تو فرماتے: اگر ان میں سے کوئی تھک کر مرنے کے قریب پہنچ جائے، اور تمہیں اس کے مر جانے کا ڈر ہو، تو اس کو نحر ( ذبح ) کر ڈالو، پھر اس کے گلے کی جوتی اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے پر مار لگا دو، اور اس میں سے نہ تم کچھ کھاؤ، اور نہ تمہارے ساتھ والے کچھ کھائیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر العبدي، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سنان بن سلمة، عن ابن عباس، ان ذويبا الخزاعي، حدث ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث معه بالبدن ثم يقول " اذا عطب منها شىء فخشيت عليه موتا فانحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم اضرب صفحتها ولا تطعم منها انت ولا احد من اهل رفقتك
ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے جایا کرتے تھے) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہدی کا جو اونٹ تھک کر مرنے کے قریب ہو جائے اسے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر ( ذبح ) کر ڈالو، اور اس کی جوتی اسی کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے میں مار لگا دو، پھر اس کو چھوڑ دو کہ لوگ اسے کھائیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالوا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن ناجية الخزاعي، - قال عمرو في حديثه وكان صاحب بدن النبي صلى الله عليه وسلم - قال قلت يا رسول الله كيف اصنع بما عطب من البدن قال " انحره واغمس نعله في دمه ثم اضرب صفحته وخل بينه وبين الناس فلياكلوه
علقمہ بن نضلہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے انتقال کے وقت تک مکہ کے گھروں کو صرف «سوائب» کہا جاتا تھا ۱؎جو ضرورت مند ہوتا ان میں رہتا، اور جس کو حاجت نہ ہوتی، وہ دوسروں کو اس میں رہنے کے لیے دے دیتا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عيسى بن يونس، عن عمر بن سعيد بن ابي حسين، عن عثمان بن ابي سليمان، عن علقمة بن نضلة، قال توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وما تدعى رباع مكة الا السوايب من احتاج سكن ومن استغنى اسكن
عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر حزورہ ( مکہ میں ایک مقام ) میں کھڑے فرما رہے تھے: قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے، اور اللہ کی زمین میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، قسم اللہ کی! اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا ۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، انبانا الليث بن سعد، اخبرني عقيل، عن محمد بن مسلم، انه قال ان ابا سلمة بن عبد الرحمن بن عوف اخبره ان عبد الله بن عدي بن الحمراء قال له رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على راحلته واقف بالحزورة يقول " والله انك لخير ارض الله واحب ارض الله الي والله لولا اني اخرجت منك ما خرجت
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ نے مکہ کو اسی دن حرام قرار دے دیا جس دن اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور وہ قیامت تک حرام رہے گا، نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا، نہ وہاں کا شکار بدکایا جائے گا، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی، البتہ اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے ، اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اذخر ( نامی گھاس ) کا اکھیڑنا جائز فرما دیجئیے کیونکہ وہ گھروں اور قبروں کے کام آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اذخر اکھاڑنا جائز ہے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا يونس بن بكير، حدثنا محمد بن اسحاق، حدثنا ابان بن صالح، عن الحسن بن مسلم بن يناق، عن صفية بنت شيبة، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب عام الفتح فقال " يا ايها الناس ان الله حرم مكة يوم خلق السموات والارض فهي حرام الى يوم القيامة لا يعضد شجرها ولا ينفر صيدها ولا ياخذ لقطتها الا منشد " . فقال العباس الا الاذخر فانه للبيوت والقبور . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا الاذخر
عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ امت برابر خیر اور بھلائی میں رہے گی جب تک وہ اس حرمت والے شہر کی اس طرح تعظیم کرتی رہے گی جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے، پھر جب لوگ اس کی تعظیم کو چھوڑ دیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، وابن الفضيل، عن يزيد بن ابي زياد، انبانا عبد الرحمن بن سابط، عن عياش بن ابي ربيعة المخزومي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزال هذه الامة بخير ما عظموا هذه الحرمة حق تعظيمها فاذا ضيعوا ذلك هلكوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سما جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الايمان ليارز الى المدينة كما تارز الحية الى جحرها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو مدینہ میں مر سکے تو وہ ایسا ہی کرے، کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے لیے گواہی دوں گا ۔
حدثنا بكر بن خلف، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من استطاع منكم ان يموت بالمدينة فليفعل فاني اشهد لمن مات بها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابراہیم تیرے خلیل ( گہرے دوست ) اور تیرے نبی ہیں، اور تو نے مکہ کو بزبان ابراہیم حرام ٹھہرایا ہے، اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، اور میں مدینہ کو اس کی دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیان کی جگہ کو حرام ٹھہراتا ہوں ۱؎۔ ابومروان کہتے ہیں: «لابتيها» کے معنی مدینہ کے دونوں طرف کی کالی پتھریلی زمینیں ہیں
حدثنا ابو مروان، محمد بن عثمان العثماني حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم ان ابراهيم خليلك ونبيك وانك حرمت مكة على لسان ابراهيم اللهم وانا عبدك ونبيك واني احرم ما بين لابتيها " . قال ابو مروان لابتيها حرتى المدينة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اراد اهل المدينة بسوء اذابه الله كما يذوب الملح في الماء
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے، اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پر قائم ہے، اور عیر ( یہ بھی ایک پہاڑ ہے ) جہنم کے باغات میں سے ایک باغ پر قائم ہے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن مكنف، قال سمعت انس بن مالك، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان احدا جبل يحبنا ونحبه وهو على ترعة من ترع الجنة وعير على ترعة من ترع النار
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے ساتھ کچھ درہم خانہ کعبہ کے لیے ہدیہ بھیجے، میں خانہ کعبہ کے اندر آیا، اور شیبہ ( خانہ کعبہ کے کلید بردار ) کو جو ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے انہیں وہ درہم دے دئیے، انہوں نے پوچھا: کیا یہ تمہارے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اگر میرے ہوتے تو میں انہیں آپ کے پاس نہ لاتا، ( فقیروں اور مسکینوں کو دے دیتا ) انہوں نے کہا: اگر تم ایسا کہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو، پھر انہوں نے فرمایا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال مسلمان محتاجوں میں تقسیم نہ کر دوں، میں نے ان سے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا: میں ضرور کروں گا، پھر آپ نے پوچھا: تم نے کیوں کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا؟، میں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی، اور وہ دونوں آپ سے زیادہ اس کے ضرورت مند تھے، اس کے باوجود انہوں نے اس کو نہیں سرکایا، یہ سن کر وہ جیسے تھے اسی حالت میں اٹھے اور باہر نکل گئے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا المحاربي، عن الشيباني، عن واصل الاحدب، عن شقيق، قال بعث رجل معي بدراهم هدية الى البيت . قال فدخلت البيت وشيبة جالس على كرسي فناولته اياها . فقال الك هذه قلت لا ولو كانت لي لم اتك بها . قال اما لين قلت ذلك لقد جلس عمر بن الخطاب مجلسك الذي جلست فيه فقال لا اخرج حتى اقسم مال الكعبة بين فقراء المسلمين . قلت ما انت بفاعل . قال لافعلن . قال ولم ذاك قلت لان النبي صلى الله عليه وسلم قد راى مكانه . وابو بكر وهما احوج منك الى المال فلم يحركاه . فقام كما هو فخرج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مکہ میں ماہ رمضان پائے پھر روزے رکھے، اور قیام کرے جتنا اس سے ہو سکے، تو اللہ اس کے لیے دوسرے شہروں کے ایک لاکھ رمضان کے مہینہ کا ثواب لکھے گا، اور ہر دن کے بدلہ ایک غلام آزاد کرنے، اور ہر رات کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا، اور ہر دن کے بدلے ایک گھوڑے کا جو اللہ کی راہ ( جہاد ) میں سواری کے لیے دیا گیا ہو، ہر دن اور ہر رات کے بدلے ایک ایک نیکی لکھے گا ۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك رمضان بمكة فصام وقام منه ما تيسر له كتب الله له ماية الف شهر رمضان فيما سواها . وكتب الله له بكل يوم عتق رقبة وكل ليلة عتق رقبة وكل يوم حملان فرس في سبيل الله وفي كل يوم حسنة وفي كل ليلة حسنة
داود بن عجلان کہتے ہیں کہ ہم نے ابوعقال ( ہلال بن زید ) کے ساتھ بارش میں طواف کیا، جب ہم طواف کر چکے تو مقام ابراہیم کے پیچھے آئے، تو انہوں نے کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بارش میں طواف کیا، جب ہم طواف کر چکے تو مقام ابراہیم پر آئے اور وہاں دو رکعتیں پڑھیں، انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: اب نئے سرے سے اپنے عمل کا حساب سمجھو کیونکہ تمہارے گناہ بخش دئیے گئے، ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا، اور ہم نے آپ کے ساتھ بارش میں طواف کیا تھا۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا داود بن عجلان، قال طفنا مع ابي عقال في مطر فلما قضينا طوافنا اتينا خلف المقام فقال طفت مع انس بن مالك في مطر فلما قضينا الطواف اتينا المقام فصلينا ركعتين فقال لنا انس " ايتنفوا العمل فقد غفر لكم " . هكذا قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وطفنا معه في مطر
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو ، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی ۱؎۔
حدثنا اسماعيل بن حفص الابلي، حدثنا يحيى بن يمان، عن حمزة بن حبيب الزيات، عن حمران بن اعين، عن ابي الطفيل، عن ابي سعيد، قال حج النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه مشاة من المدينة الى مكة وقال " اربطوا اوساطكم بازركم " . ومشى خلط الهرولة