Loading...

Loading...
کتب
۸۰ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم میں دیت پانچ پانچ اونٹ ہیں ۔
حدثنا جميل بن الحسن، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن مطر، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " في المواضح خمس خمس من الابل
یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا، وہ اور ایک دوسرا شخص دونوں آپس میں لڑ پڑے، جب کہ ہم لوگ راستے میں تھے، ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا اور جب اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے کے دانت گر گئے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے دانت کی دیت مانگنے لگا، آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عجیب ماجرا ہے ) تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح چبانا چاہتا ہے اور پھر دیت مانگتا ہے، اس کی کوئی دیت نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن عطاء، عن صفوان بن عبد الله، عن عميه، يعلى وسلمة ابنى امية قالا خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك ومعنا صاحب لنا فاقتتل هو ورجل اخر ونحن بالطريق . قال فعض الرجل يد صاحبه فجذب صاحبه يده من فيه فطرح ثنيته فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم يلتمس عقل ثنيته . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعمد احدكم الى اخيه فيعضه كعضاض الفحل ثم ياتي يلتمس العقل لا عقل لها " . قال فابطلها رسول الله صلى الله عليه وسلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: تم میں سے ایک ( دوسرے کے ہاتھ کو ) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن عمران بن حصين، ان رجلا، عض رجلا على ذراعه فنزع يده فوقعت ثنيته فرفع الى النبي صلى الله عليه وسلم فابطلها . وقال " يقضم احدكم كما يقضم الفحل
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جو دیگر لوگوں کے پاس نہ ہو؟ وہ بولے: نہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس وہی ہے جو لوگوں کے پاس ہے، ہاں مگر قرآن کی سمجھ جس کی اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشتا ہے یا وہ جو اس صحیفے میں ہے اس ( صحیفے ) میں ان دیتوں کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں، اور آپ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ۱؎
حدثنا علقمة بن عمرو الدارمي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن مطرف، عن الشعبي، عن ابي جحيفة، قال قلت لعلي بن ابي طالب هل عندكم شىء من العلم ليس عند الناس قال لا والله ما عندنا الا ما عند الناس الا ان يرزق الله رجلا فهما في القران او ما في هذه الصحيفة فيها الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وان لا يقتل مسلم بكافر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا عبد الرحمن بن عياش، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقتل مسلم بكافر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۱؎، اور نہ وہ ( کافر ) جس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو ۲؎۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا معتمر بن سليمان، عن ابيه، عن حنش، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقتل مومن بكافر ولا ذو عهد في عهده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، عن اسماعيل بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقتل بالولد الوالد
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن عمر بن الخطاب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يقتل الوالد بالولد
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام کو قتل کیا ہم اسے قتل کریں گے، اور جس نے اس کی ناک کاٹی ہم اس کی ناک کاٹیں گے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل عبده قتلناه ومن جدعه جدعناه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے مارے، ایک سال کے لیے جلا وطن کیا، اور مسلمانوں کے حصوں میں سے اس کا حصہ ختم کر دیا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن الطباع، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي فروة، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي، وعن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قتل رجل عبده عمدا متعمدا فجلده رسول الله صلى الله عليه وسلم ماية ونفاه سنة ومحا سهمه من المسلمين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا، تو رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن همام بن يحيى، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان يهوديا، رضخ راس امراة بين حجرين فقتلها فرضخ رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه بين حجرين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے زیورات کی خاطر مار ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی سے ( اس کی موت سے پہلے ) پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے کے متعلق پوچھا: ( کیا فلاں نے مارا ہے؟ ) دوبارہ بھی اس نے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کے متعلق پوچھا: تو اس نے سر کے اشارے سے کہا: ہاں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان رکھ کر قتل کر دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، ح وحدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا النضر بن شميل، قالا حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، ان يهوديا، قتل جارية على اوضاح لها فقال لها " اقتلك فلان " . فاشارت براسها ان لا ثم سالها الثانية فاشارت براسها ان لا ثم سالها الثالثة فاشارت براسها ان نعم فقتله رسول الله صلى الله عليه وسلم بين حجرين
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص صرف تلوار سے ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن المستمر العروقي، حدثنا ابو عاصم، عن سفيان، عن جابر، عن ابي عازب، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا قود الا بالسيف
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص صرف تلوار سے ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن المستمر، حدثنا الحر بن مالك العنبري، حدثنا مبارك بن فضالة، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا قود الا بالسيف
عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خبردار! مجرم اپنے جرم پر خود پکڑا جائے گا، ( یعنی جو قصور کرے گا وہ اپنی ذات ہی پر کرے گا اور اس کا مواخذہ اسی سے ہو گا ) باپ کے جرم میں بیٹا نہ پکڑا جائے گا، اور نہ بیٹے کے جرم میں باپ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع " الا لا يجني جان الا على نفسه لا يجني والد على ولده ولا مولود على والده
طارق محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی، خبردار! کوئی ماں اپنے بچے کے جرم میں نہیں پکڑی جائے گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن يزيد بن ابي زياد، حدثنا جامع بن شداد، عن طارق المحاربي، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه حتى رايت بياض ابطيه يقول " الا لا تجني ام على ولد الا لا تجني ام على ولد
خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری اس کے جرم پر اور اس کی تیرے جرم پر گرفت نہیں ہو گی ۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، عن يونس، عن حصين بن ابي الحر، عن الخشخاش العنبري، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم ومعي ابني فقال " لا تجني عليه ولا يجني عليك
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جرم کا ذمہ دار نہ ہو گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن عبيد بن عقيل، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا ابو العوام القطان، عن محمد بن جحادة، عن زياد بن علاقة، عن اسامة بن شريك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجني نفس على اخرى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بے قیمت اور بیکار ہے، کان اور کنویں میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العجماء جرحها جبار والمعدن جبار والبير جبار
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار ہے، اور کان میں گر کر مر جائے تو وہ بھی بیکار ہے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العجماء جرحها جبار والمعدن جبار