Loading...

Loading...
کتب
۸۰ احادیث
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: کان بیکار ہے اور کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور «عجماء» چوپائے وغیرہ حیوانات کو کہتے ہیں، اور «جبار» ایسے نقصان کو کہتے ہیں جس میں جرمانہ اور تاوان نہیں ہوتا، کنواں بیکار و رائیگاں ہے، اور بےزبان ( جانور ) کا زخم بیکار و رائیگاں ہے ۱؎۔
حدثنا عبد ربه بن خالد النميري، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثني موسى بن عقبة، حدثني اسحاق بن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان المعدن جبار والبير جبار والعجماء جرحها جبار . والعجماء البهيمة من الانعام وغيرها . والجبار هو الهدر الذي لا يغرم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ بیکار ہے، اور کنواں بیکار ہے ۔
حدثنا احمد بن الازهر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " النار جبار والبير جبار
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی ( روزگار کی تلاش میں ) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان ( عبداللہ بن سہل ) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو ، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، ( کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا بشر بن عمر، سمعت مالك بن انس، حدثني ابو ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سهل بن حنيف، عن سهل بن ابي حثمة، انه اخبره عن رجال، من كبراء قومه ان عبد، الله بن سهل ومحيصة خرجا الى خيبر من جهد اصابهم فاتي محيصة فاخبر ان عبد الله بن سهل قد قتل والقي في فقير او عين بخيبر فاتى يهود فقال انتم والله قتلتموه . قالوا والله ما قتلناه . ثم اقبل حتى قدم على قومه فذكر ذلك لهم ثم اقبل هو واخوه حويصة وهو اكبر منه وعبد الرحمن بن سهل فذهب محيصة يتكلم وهو الذي كان بخيبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمحيصة " كبر كبر " . يريد السن فتكلم حويصة ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ان يدوا صاحبكم واما ان يوذنوا بحرب " . فكتب رسول الله صلى الله عليه وسلم اليهم في ذلك فكتبوا انا والله ما قتلناه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن " تحلفون وتستحقون دم صاحبكم " . قالوا لا . قال " فتحلف لكم يهود " . قالوا ليسوا بمسلمين فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده فبعث اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ماية ناقة حتى ادخلت عليهم الدار فقال سهل فلقد ركضتني منها ناقة حمراء
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔
حدثنا عبد الله بن سعيد، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن حجاج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان حويصة، ومحيصة، ابنى مسعود وعبد الله وعبد الرحمن ابنى سهل خرجوا يمتارون بخيبر فعدي على عبد الله فقتل فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تقسمون وتستحقون " . فقالوا يا رسول الله كيف نقسم ولم نشهد قال " فتبريكم يهود " . قالوا يا رسول الله اذا تقتلنا . قال فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده
سلمہ بن روح بن زنباع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے اپنے غلام کو خصی کر دیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام کو مثلہ ( ناک کان یا کوئی عضو کاٹ دینا ) کئے جانے کی بناء پر آزاد کر دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد السلام، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي فروة، عن سلمة بن روح بن زنباع، عن جده، انه قدم على النبي صلى الله عليه وسلم وقد خصى غلاما له فاعتقه النبي صلى الله عليه وسلم بالمثلة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چیختا ہوا آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا بات ہے ؟ وہ بولا: میرے مالک نے مجھے اپنی ایک لونڈی کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھ لیا، تو میرے اعضاء تناسل ہی کاٹ ڈالے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ جب اسے ڈھونڈا گیا تو وہ نہیں مل سکا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ تم آزاد ہو، غلام بولا: اللہ کے رسول! میری مدد کون کرے گا؟ یعنی اگر میرا مالک مجھے پھر غلام بنا لے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں ہر مومن یا مسلمان پر تمہاری مدد لازم ہے ۱؎۔
حدثنا رجاء بن المرجى السمرقندي، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا ابو حمزة الصيرفي، حدثني عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم صارخا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لك " . قال سيدي راني اقبل جارية له فجب مذاكيري . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " على بالرجل " . فطلب فلم يقدر عليه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذهب فانت حر " . قال على من نصرتي يا رسول الله قال يقول ارايت ان استرقني مولاى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " على كل مومن او مسلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے زیادہ پاکیزہ اور بہتر ہیں ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا هشيم، عن مغيرة، عن شباك، عن ابراهيم، عن علقمة، قال قال عبد الله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اعف الناس قتلة اهل الايمان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا غندر، عن شعبة، عن مغيرة، عن شباك، عن ابراهيم، عن هنى بن نويرة، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اعف الناس قتلة اهل الايمان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں، اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان میں سے ادنی شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اور ( لشکر میں ) سب سے دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن ابيه، عن حنش، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المسلمون تتكافا دماوهم وهم يد على من سواهم يسعى بذمتهم ادناهم ويرد على اقصاهم
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنے علاوہ ( دوسرے مذہب ) والوں کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے خون برابر ہیں ۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا انس بن عياض ابو ضمرة، عن عبد السلام بن ابي الجنوب، عن الحسن، عن معقل بن يسار، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسلمون يد على من سواهم وتتكافا دماوهم
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا ہاتھ اپنے علاوہ دوسری قوم والوں پر ہے ( یعنی ان سب سے لڑیں، آپس میں نہ لڑیں ) ان کے خون اور ان کے مال برابر ہیں، مسلمانوں کا ادنی شخص کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور لشکر میں دور والا شخص بھی مال غنیمت کا مستحق ہو گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن عبد الرحمن بن عياش، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يد المسلمين على من سواهم تتكافا دماوهم ويجير على المسلمين ادناهم ويرد على المسلمين اقصاهم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کو قتل کیا، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو معاوية، عن الحسن بن عمرو، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل معاهدا لم يرح رايحة الجنة وان ريحها ليوجد من مسيرة اربعين عاما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: جس نے کسی ایسے ذمی کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معدي بن سليمان، انبانا ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل معاهدا له ذمة الله وذمة رسوله لم يرح رايحة الجنة وان ريحها ليوجد من مسيرة سبعين عاما
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن رفاعة بن شداد القتباني، قال لولا كلمة سمعتها من، عمرو بن الحمق الخزاعي لمشيت فيما بين راس المختار وجسده سمعته يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من امن رجلا على دمه فقتله فانه يحمل لواء غدر يوم القيامة
رفاعہ کہتے ہیں کہ میں مختار ثقفی کے پاس اس کے محل میں گیا، تو اس نے کہا: جبرائیل ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں ۱؎، اس وقت اس کی گردن اڑا دینے سے صرف اس حدیث نے مجھے باز رکھا جو میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص تم سے جان کی امان میں ہو تو اسے قتل نہ کرو، تو اسی بات نے مجھے اس کو قتل کرنے سے روکا ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابو ليلى، عن ابي عكاشة، عن رفاعة، قال دخلت على المختار في قصره فقال قام جبراييل من عندي الساعة . فما منعني من ضرب عنقه الا حديث سمعته من سليمان بن صرد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا امنك الرجل على دمه فلا تقتله " . فذاك الذي منعني منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا تو اس کا مقدمہ آآپ کے پاس لایا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، میرا اس کو قتل کرنے کا قطعاً ارادہ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولی سے کہا: اگر یہ اپنی بات میں سچا ہے، اور تم نے اس کو قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے تو مقتول کے ولی نے اس کو چھوڑ دیا، قاتل پٹے سے بندھا ہوا تھا، وہ پٹا گھسیٹتا ہوا نکلا، اور اس کا نام ہی پٹے والا پڑ گیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قتل رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفع ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فدفعه الى ولي المقتول فقال القاتل يا رسول الله والله ما اردت قتله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للولي " اما انه ان كان صادقا ثم قتلته دخلت النار " . قال فخلى سبيله . قال وكان مكتوفا بنسعة فخرج يجر نسعته فسمي ذا النسعة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ولی کے قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو ، اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو اس نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اسے قتل کر دو اور تم بھی اسی کی طرح ہو جاؤ ۱؎ چنانچہ اس سے مل کر کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جاؤ تم اس کو قتل کر دو تم بھی اس کے مثل ہو جاؤ تو اس نے اسے چھوڑ دیا، قاتل کو اپنے گھر والوں کی طرف اپنا پٹا گھسیٹتے ہوئے جاتے دیکھا گیا، گویا کہ مقتول کے وارث نے اسے باندھ رکھا تھا ۱؎۔ ابوعمیر اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن شوذب نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے یہ قول نقل کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لئے «اقتله فإنك مثله» کہنا درست نہیں۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ اہل رملہ کی حدیث ہے، ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ہے۔
حدثنا ابو عمير، عيسى بن محمد النحاس وعيسى بن يونس والحسين بن ابي السري العسقلاني قالوا حدثنا ضمرة بن ربيعة، عن ابن شوذب، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك، قال اتى رجل بقاتل وليه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعف " . فابى فقال " خذ ارشك " . فابى . قال " اذهب فاقتله فانك مثله " . قال فلحق به فقيل له ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قال " اقتله فانك مثله " . فخلى سبيله . قال فريي يجر نسعته ذاهبا الى اهله . قال كانه قد كان اوثقه . قال ابو عمير في حديثه قال ابن شوذب عن عبد الرحمن بن القاسم، فليس لاحد بعد النبي صلى الله عليه وسلم ان يقول " اقتله فانك مثله " . قال ابن ماجه هذا حديث الرمليين ليس الا عندهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا کوئی مقدمہ آتا تو آپ اس کو معاف کر دینے کا حکم دیتے ( یعنی سفارش کرتے ) ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا حبان بن هلال، حدثنا عبد الله بن بكر المزني، عن عطاء بن ابي ميمونة، قال لا اعلمه الا عن انس بن مالك، قال ما رفع الى رسول الله صلى الله عليه وسلم شىء فيه القصاص الا امر فيه بالعفو
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کوئی بھی شخص جس کے جسم کو صدمہ پہنچے پھر وہ ثواب کی نیت سے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن يونس بن ابي اسحاق، عن ابي السفر، قال قال ابو الدرداء سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من رجل يصاب بشىء من جسده فيتصدق به الا رفعه الله به درجة او حط عنه به خطيية " . سمعته اذناى ووعاه قلبي
معاذ بن جبل، عبیدہ بن جراح، عبادہ بن صامت اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت جب جان بوجھ کر قتل کا ارتکاب کرے اور وہ حاملہ ہو، تو اس وقت تک قتل نہیں کی جائے گی جب تک وہ بچہ کو جن نہ دے، اور کسی کو اس کا کفیل نہ بنا دے، اور اگر اس نے زنا کا ارتکاب کیا تو اس وقت تک رجم نہیں کی جائے گی جب تک وہ زچگی ( بچہ کی ولادت ) سے فارغ نہ ہو جائے، اور کسی کو اپنے بچے کا کفیل نہ بنا دے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابو صالح، عن ابن لهيعة، عن ابن انعم، عن عبادة بن نسى، عن عبد الرحمن بن غنم، حدثنا معاذ بن جبل، وابو عبيدة بن الجراح وعبادة بن الصامت وشداد بن اوس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المراة اذا قتلت عمدا لا تقتل حتى تضع ما في بطنها ان كانت حاملا وحتى تكفل ولدها وان زنت لم ترجم حتى تضع ما في بطنها وحتى تكفل ولدها