Loading...

Loading...
کتب
۸۰ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، وعلي بن محمد، ومحمد بن بشار، قالوا حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے، تو آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتل نفس ظلما الا كان على ابن ادم الاول كفل من دمها لانه اول من سن القتل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن الازهر الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن شريك، عن عاصم، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن عبد الرحمن بن عايذ، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لقي الله لا يشرك به شييا لم يتند بدم حرام دخل الجنة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی مومن کا ناحق قتل ساری دنیا کے زوال اور تباہی سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا مروان بن جناح، عن ابي الجهم الجوزجاني، عن البراء بن عازب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لزوال الدنيا اهون على الله من قتل مومن بغير حق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن کے قتل میں آدھی بات کہہ کر بھی مددگار ہوا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر «آيس من رحمة الله» اللہ کی رحمت سے مایوس بندہ لکھا ہو گا ۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا يزيد بن زياد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعان على قتل مومن بشطر كلمة لقي الله عز وجل مكتوب بين عينيه ايس من رحمة الله
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، پھر توبہ کر لی، ایمان لے آیا، اور نیک عمل کیا، پھر ہدایت پائی؟ تو آپ نے جواب دیا: افسوس وہ کیسے ہدایت پا سکتا ہے؟ میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: قیامت کے دن قاتل اور مقتول اس حال میں آئیں گے کہ مقتول قاتل کے سر سے لٹکا ہو گا، اور کہہ رہا ہو گا ، اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اللہ کی قسم! اس نے تمہارے نبی پر اس ( قتل ناحق کی آیت ) کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمار الدهني، عن سالم بن ابي الجعد، قال سيل ابن عباس عمن قتل مومنا متعمدا ثم تاب وامن وعمل صالحا ثم اهتدى . قال ويحه وانى له الهدى سمعت نبيكم صلى الله عليه وسلم يقول " يجيء القاتل والمقتول يوم القيامة متعلق براس صاحبه يقول رب سل هذا لم قتلني " . والله لقد انزلها الله عز وجل على نبيكم ثم ما نسخها بعد ما انزلها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے، وہ بات میرے کان نے سنی، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا کہ ایک آدمی تھا جس نے ننانوے خون ( ناحق ) کئے تھے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا، تو اسے ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا، وہ اس کے پاس آیا، اور کہا: میں ننانوے آدمیوں کو ( ناحق ) قتل کر چکا ہوں، کیا اب میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: ( واہ ) ننانوے آدمیوں کے ( قتل کے ) بعد بھی ( توبہ کی امید رکھتا ہے ) ؟ اس شخص نے تلوار کھینچی اور اسے بھی قتل کر دیا، اور سو پورے کر دئیے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اور روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا، اسے جب ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا تو وہ وہاں گیا، اور اس سے کہا: میں سو خون ( ناحق ) کر چکا ہوں، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے جواب دیا: تم پر افسوس ہے! بھلا تمہیں توبہ سے کون روک سکتا ہے؟ تم اس ناپاک اور خراب بستی سے ( جہاں تم نے اتنے بھاری گناہ کئے ) نکل جاؤ ۱؎، اور فلاں نیک اور اچھی بستی میں جاؤ، وہاں اپنے رب کی عبادت کرنا، وہ جب نیک بستی میں جانے کے ارادے سے نکلا، تو اسے راستے ہی میں موت آ گئی، پھر رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں جھگڑنے لگے، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، اس نے ایک پل بھی میری نافرمانی نہیں کی، تو رحمت کے فرشتوں نے کہا: وہ توبہ کر کے نکلا تھا ( لہٰذا وہ رحمت کا مستحق ہوا ) ۔ راوی حدیث ہمام کہتے ہیں کہ مجھ سے حمید طویل نے حدیث بیان کی، وہ بکر بن عبداللہ سے اور وہ ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: ( جب فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا تو ) اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ ( ان کے فیصلے کے لیے ) بھیجا، دونوں قسم کے فرشتے اس کے پاس فیصلہ کے لیے آئے، تو اس نے کہا: دیکھو دونوں بستیوں میں سے وہ کس سے زیادہ قریب ہے؟ ( فاصلہ ناپ لو ) جس سے زیادہ قریب ہو وہیں کے لوگوں میں اسے شامل کر دو۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے حسن بصری نے حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے کہا: جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو وہ گھسٹ کر نیک بستی سے قریب اور ناپاک بستی سے دور ہو گیا، آخر فرشتوں نے اسے نیک بستی والوں میں شامل کر دیا ۲؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا همام بن يحيى، عن قتادة، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال الا اخبركم بما، سمعت من، في رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعته اذناى ووعاه قلبي " ان عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة فسال عن اعلم اهل الارض فدل على رجل فاتاه . فقال اني قتلت تسعة وتسعين نفسا فهل لي من توبة قال بعد تسعة وتسعين نفسا . قال فانتضى سيفه فقتله فاكمل به الماية ثم عرضت له التوبة فسال عن اعلم اهل الارض فدل على رجل فاتاه فقال اني قتلت ماية نفس فهل لي من توبة قال فقال ويحك ومن يحول بينك وبين التوبة اخرج من القرية الخبيثة التي انت فيها الى القرية الصالحة قرية كذا وكذا فاعبد ربك فيها . فخرج يريد القرية الصالحة فعرض له اجله في الطريق فاختصمت فيه ملايكة الرحمة وملايكة العذاب قال ابليس انا اولى به انه لم يعصني ساعة قط . قال فقالت ملايكة الرحمة انه خرج تايبا " . قال همام فحدثني حميد الطويل، عن بكر بن عبد الله، عن ابي رافع، قال فبعث الله عز وجل ملكا فاختصموا اليه ثم رجعوا فقال انظروا اى القريتين كانت اقرب فالحقوه باهلها . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا همام بن يحيى، عن قتادة، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، قال الا اخبركم بما، سمعت من، في رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعته اذناى ووعاه قلبي " ان عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة فسال عن اعلم اهل الارض فدل على رجل فاتاه . فقال اني قتلت تسعة وتسعين نفسا فهل لي من توبة قال بعد تسعة وتسعين نفسا . قال فانتضى سيفه فقتله فاكمل به الماية ثم عرضت له التوبة فسال عن اعلم اهل الارض فدل على رجل فاتاه فقال اني قتلت ماية نفس فهل لي من توبة قال فقال ويحك ومن يحول بينك وبين التوبة اخرج من القرية الخبيثة التي انت فيها الى القرية الصالحة قرية كذا وكذا فاعبد ربك فيها . فخرج يريد القرية الصالحة فعرض له اجله في الطريق فاختصمت فيه ملايكة الرحمة وملايكة العذاب قال ابليس انا اولى به انه لم يعصني ساعة قط . قال فقالت ملايكة الرحمة انه خرج تايبا " . قال همام فحدثني حميد الطويل، عن بكر بن عبد الله، عن ابي رافع، قال فبعث الله عز وجل ملكا فاختصموا اليه ثم رجعوا فقال انظروا اى القريتين كانت اقرب فالحقوه باهلها . قال قتادة فحدثنا الحسن، قال لما حضره الموت احتفز بنفسه فقرب من القرية الصالحة وباعد منه القرية الخبيثة فالحقوه باهل القرية الصالحة . قال ابو الحسن القطان حدثنا ابو العباس بن عبد الله بن اسماعيل البغدادي، حدثنا عفان، حدثنا همام، فذكر نحوه
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا خون کر دیا جائے، یا اس کو زخمی کر دیا جائے، اسے ( یا اس کے وارث کو ) تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، اگر وہ چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، تین باتیں یہ ہیں: یا تو قاتل کو قصاص میں قتل کرے، یا معاف کر دے، یا خون بہا ( دیت ) لے لے، پھر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کو کرنے کے بعد اگر بدلہ لینے کی بات کرے، تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا ۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا جرير، وعبد الرحيم بن سليمان، جميعا عن محمد بن اسحاق، عن الحارث بن فضيل، اظنه عن ابن ابي العوجاء، واسمه، سفيان عن ابي شريح الخزاعي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصيب بدم او خبل - والخبل الجرح - فهو بالخيار بين احدى ثلاث فان اراد الرابعة فخذوا على يديه ان يقتل او يعفو او ياخذ الدية فمن فعل شييا من ذلك فعاد فان له نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی شخص قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، یا تو وہ قاتل کو قصاص میں قتل کر دے، یا فدیہ لے لے ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل له قتيل فهو بخير النظرين اما ان يقتل واما ان يفدى
زید بن ضمیرہ کہتے ہیں کہ میرے والد اور چچا دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، ان دونوں کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے، تو قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، وہ محکلم بن جثامہ سے قصاص لینے کو روک رہے تھے، عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ اٹھے، وہ عامر بن اضبط اشجعی کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے ۱؎، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم دیت ( خون بہا ) قبول کرتے ہو ؟ انہوں نے انکار کیا، پھر بنی لیث کا مکیتل نامی شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! اسلام کے شروع زمانے میں یہ قتل میں ان بکریوں کے مشابہ سمجھتا تھا جو پانی پینے آتی ہیں، پھر جب آگے والی بکریوں کو تیر مارا جاتا ہے تو پیچھے والی اپنے آپ بھاگ جاتی ہیں، ۲؎آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس اونٹ ( دیت کے ) ابھی لے لو، اور بقیہ پچاس مدینہ لوٹنے پر لے لینا، لہٰذا انہوں نے دیت قبول کر لی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن محمد بن اسحاق، حدثني محمد بن جعفر، عن زيد بن ضميرة، حدثني ابي وعمي، وكانا، شهدا حنينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قالا صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر ثم جلس تحت شجرة فقام اليه الاقرع بن حابس - وهو سيد خندف يرد - عن دم محلم بن جثامة وقام عيينة بن حصن يطلب بدم عامر بن الاضبط وكان اشجعيا فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم " تقبلون الدية " . فابوا فقام رجل من بني ليث يقال له مكيتل فقال يا رسول الله والله ما شبهت هذا القتيل في غرة الاسلام الا كغنم وردت فرميت فنفر اخرها . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لكم خمسون في سفرنا وخمسون اذا رجعنا " . فقبلوا الدية
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تو دیت لے لیں، دیت ( خوں بہا ) میں تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔ ۱؎
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا ابي، حدثنا محمد بن راشد، عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل عمدا دفع الى اولياء القتيل فان شاءوا قتلوا وان شاءوا اخذوا الدية وذلك ثلاثون حقة وثلاثون جذعة واربعون خلفة وذلك عقل العمد ما صولحوا عليه فهو لهم وذلك تشديد العقل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمداً و قصداً قتل کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل کیا جانے والا وہ ہے جو کوڑے یا ڈنڈے سے مر جائے، اس میں سو اونٹ دیت ( خون بہا ) کے ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، عن ايوب، سمعت القاسم بن ربيعة، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قتيل الخطا شبه العمد قتيل السوط والعصا ماية من الابل اربعون منها خلفة في بطونها اولادها " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن خالد الحذاء، عن القاسم بن ربيعة، عن عقبة بن اوس، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوئے، اللہ کی تعریف کی، اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی، آگاہ رہو! غلطی سے قتل ہونے والا وہ ہے جو کوڑے اور لاٹھی سے مارا جائے، اس میں ( دیت کے ) سو اونٹ لازم ہیں، جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ان کے پیٹ میں بچے ہوں، خبردار! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور اس میں جو بھی خون ہوا ہو سب میرے ان پیروں کے تلے ہیں ۱؎ سوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے، سن لو! میں نے ان دونوں چیزوں کو انہیں کے پاس رہنے دیا ہے جن کے پاس وہ پہلے تھے ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن جدعان، سمعه من القاسم بن ربيعة، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يوم فتح مكة وهو على درج الكعبة فحمد الله واثنى عليه فقال " الحمد لله الذي صدق وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده الا ان قتيل الخطا قتيل السوط والعصا فيه ماية من الابل منها اربعون خلفة في بطونها اولادها الا ان كل ماثرة كانت في الجاهلية ودم تحت قدمى هاتين الا ما كان من سدانة البيت وسقاية الحاج الا اني قد امضيتهما لاهلهما كما كانا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے بارہ ہزار درہم مقرر کئے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هاني، حدثنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه جعل الدية اثنى عشر الفا
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلطی سے مارا جائے اس کا خون بہا تیس اونٹنیاں ہیں، جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں لگ گئی ہوں، اور تیس اونٹنیاں وہ جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں لگ گئی ہوں، اور دو دو سال کے دس اونٹ ہیں جو تیسرے سال میں داخل ہو گئے ہوں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گاؤں والوں پر دیت ( خون بہا ) کی قیمت چار سو دینار لگائی یا اتنی ہی قیمت کی چاندی، یہ قیمت وقت کے حساب سے بدلتی رہتی، اونٹ مہنگے ہوتے تو دیت بھی زیادہ ہوتی اور جب سستے ہوتے تو دیت بھی کم ہو جاتی، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک پہنچ گئی، اور چاندی کے حساب سے آٹھ ہزار درہم ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فیصلہ فرمایا: گائے والوں سے دو سو گائیں اور بکری والوں سے دو ہزار بکریاں ( دیت میں ) لی جائیں ۔
حدثنا اسحاق بن منصور المروزي، انبانا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن راشد، عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قتل خطا فديته من الابل ثلاثون بنت مخاض وثلاثون ابنة لبون وثلاثون حقة وعشرة بني لبون " . وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقومها على اهل القرى اربعماية دينار او عدلها من الورق ويقومها على ازمان الابل اذا غلت رفع في ثمنها واذا هانت نقص من ثمنها على نحو الزمان ما كان فبلغ قيمتها على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بين الاربعماية دينار الى ثمانماية دينار او عدلها من الورق ثمانية الاف درهم قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان من كان عقله في البقر على اهل البقر مايتى بقرة ومن كان عقله في الشاء على اهل الشاء الفى شاة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ( غلطی سے قتل ) کی دیت بیس اونٹنیاں تین تین سال کی جو چوتھے میں لگی ہوں، بیس اونٹنیاں چار چار سال کی جو پانچویں میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں ایک ایک سال کی جو دوسرے سال میں لگ گئی ہوں، بیس اونٹنیاں دو دو سال کی جو تیسرے سال میں لگ گئی ہوں، اور بیس اونٹ ہیں جو ایک ایک سال کے ہوں اور دوسرے سال میں لگ گئے ہوں ۔
حدثنا عبد السلام بن عاصم، حدثنا الصباح بن محارب، حدثنا حجاج بن ارطاة، حدثنا زيد بن جبير، عن خشف بن مالك الطايي، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في دية الخطا عشرون حقة وعشرون جذعة وعشرون بنت مخاض وعشرون بنت لبون وعشرون بني مخاض ذكور
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت بارہ ہزار درہم مقرر فرمائی، اور فرمان الٰہی «وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله» ( سورۃ التوبہ: ۷۴ ) کفار اسی بات سے غصہ ہوئے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے انہیں مالدار کر دیا کا یہی مطلب ہے کہ دیت لینے سے ان ( مسلمانوں ) کو مالدار کر دیا۔
حدثنا العباس بن جعفر، حدثنا محمد بن سنان، حدثنا محمد بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل الدية اثنى عشر الفا قال ذلك قوله {وما نقموا الا ان اغناهم الله ورسوله من فضله} قال باخذهم الدية
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دیت عاقلہ ( قاتل اور اس کے خاندان والوں ) کے ذمہ ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا ابي، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيد بن نضلة، عن المغيرة بن شعبة، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالدية على العاقلة
مقدام شامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث میں ہوں، اس کی طرف سے دیت بھی ادا کروں گا اور اس کا ترکہ بھی لوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت بھی ادا کرے گا، اور ترکہ بھی پائے گا ۔
حدثنا يحيى بن درست، حدثنا حماد بن زيد، عن بديل بن ميسرة، عن علي بن ابي طلحة، عن راشد بن سعد، عن ابي عامر الهوزني، عن المقدام الشامي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا وارث من لا وارث له اعقل عنه وارثه والخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه