Loading...

Loading...
کتب
۸۰ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند فساد ( بلوہ ) میں یا تعصب کی وجہ سے پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مار دیا جائے، تو قاتل پر قتل خطا کی دیت لازم ہو گی، اور اگر قصداً مارا جائے، تو اس میں قصاص ہے، جو شخص قصاص یا دیت میں حائل ہو تو اس پر لعنت اللہ کی ہے، اس کے فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی، اس کا نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل ۱؎۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سليمان بن كثير، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل في عمية او عصبية بحجر او سوط او عصا فعليه عقل الخطا ومن قتل عمدا فهو قود ومن حال بينه وبينه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت ( خون بہا ) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ۔
حدثنا محمد بن الصباح، وعمار بن خالد الواسطي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن دهثم بن قران، حدثني نمران بن جارية، عن ابيه، ان رجلا، ضرب رجلا على ساعده بالسيف فقطعها من غير مفصل فاستعدى عليه النبي صلى الله عليه وسلم فامر له بالدية فقال يا رسول الله اني اريد القصاص . فقال " خذ الدية بارك الله لك فيها " . ولم يقض له بالقصاص
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہو گا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا رشدين بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن معاذ بن محمد الانصاري، عن ابن صهبان، عن العباس بن عبد المطلب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا قود في المامومة ولا الجايفة ولا المنقلة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مصدق ( عامل صدقہ ) بنا کر بھیجا، زکاۃ کے سلسلے میں ان کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا، ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا تو اس کا سر پھٹ گیا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور قصاص کا مطالبہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم اتنا اتنا مال لے لو ، وہ راضی نہیں ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اتنا اتنا مال ( اور ) لے لو ، تو وہ راضی ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں، اور تم لوگوں کی رضا مندی کی خبر سناؤں؟ کہنے لگے: ٹھیک ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: یہ لیث کے لوگ میرے پاس آئے اور قصاص لینا چاہتے تھے، میں نے ان سے اتنا اتنا مال لینے کی پیشکش کی اور پوچھا: کیا وہ اس پر راضی ہیں ؟ کہنے لگے: نہیں، ( ان کے اس رویہ پر ) مہاجرین نے ان کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے انہیں باز رہنے کو کہا، تو وہ رک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور کچھ اضافہ کر دیا، اور پوچھا: کیا اب راضی ہیں ؟ انہوں نے اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کیا میں خطبہ دوں اور لوگوں کو تمہاری رضا مندی کی اطلاع دے دوں ؟ جواب دیا: ٹھیک ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، اور پھر کہا: تم راضی ہو ؟ جواب دیا: جی ہاں ۱؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا کہ معمر اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابا جهم بن حذيفة مصدقا فلاجه رجل في صدقته فضربه ابو جهم فشجه فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا القود يا رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لكم كذا وكذا " . فلم يرضوا فقال " لكم كذا وكذا " . فرضوا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني خاطب على الناس ومخبرهم برضاكم " . قالوا نعم . فخطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان هولاء الليثيين اتوني يريدون القود فعرضت عليهم كذا وكذا ارضيتم " . قالوا لا . فهم بهم المهاجرون فامر النبي صلى الله عليه وسلم ان يكفوا فكفوا ثم دعاهم فزادهم فقال " ارضيتم " . قالوا نعم . قال " اني خاطب على الناس ومخبرهم برضاكم " . قالوا نعم . فخطب النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " ارضيتم " . قالوا نعم . قال ابن ماجه سمعت محمد بن يحيى يقول تفرد بهذا معمر لا اعلم رواه غيره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین ( پیٹ کے بچے کی دیت ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ بولا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا ہو نہ کھایا ہو، نہ چیخا ہو نہ چلایا ہو، ایسے کی دیت کو تو لغو مانا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو شاعروں جیسی بات کرتا ہے؟ پیٹ کے بچہ میں ایک غلام یا لونڈی ( دیت ) ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة عبد او امة فقال الذي قضي عليه انعقل من لا شرب ولا اكل ولا صاح ولا استهل ومثل ذلك يطل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذا ليقول بقول شاعر فيه غرة عبد او امة
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پیٹ سے گر جانے والے بچے کے بارے میں مشورہ لیا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی اس بات کے لیے گواہ لاؤ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ گواہی دی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن المسور بن مخرمة، قال استشار عمر بن الخطاب الناس في املاص المراة يعني سقطها فقال المغيرة بن شعبة شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى فيه بغرة عبد او امة . فقال عمر ايتني بمن يشهد معك . فشهد معه محمد بن مسلمة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جنین ( پیٹ کے بچے ) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تلاش کیا، تو حمل بن مالک رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا جس سے وہ اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا دونوں مر گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین ( پیٹ کے بچہ ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا، اور عورت کو عورت کے قصاص میں قتل کا فیصلہ فرمایا ۱؎۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا ابو عاصم، اخبرني ابن جريج، حدثني عمرو بن دينار، انه سمع طاوسا، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب، انه نشد الناس قضاء النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك يعني في الجنين فقام حمل بن مالك بن النابغة فقال كنت بين امراتين لي فضربت احداهما الاخرى بمسطح فقتلتها وقتلت جنينها فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في الجنين بغرة عبد وان تقتل بها
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ دیت ( خون بہا ) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشیم ضبابی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، ان عمر، كان يقول الدية للعاقلة ولا ترث المراة من دية زوجها شييا حتى كتب اليه الضحاك بن سفيان ان النبي صلى الله عليه وسلم ورث امراة اشيم الضبابي من دية زوجها
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا۔
حدثنا عبد ربه بن خالد النميري، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، عن اسحاق بن يحيى بن الوليد، عن عبادة بن الصامت، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى لحمل بن مالك الهذلي اللحياني بميراثه من امراته التي قتلتها امراته الاخرى
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: دونوں اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کے مقابلہ میں آدھی ہے، اور دونوں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن عبد الرحمن بن عياش، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان عقل اهل الكتابين نصف عقل المسلمين وهم اليهود والنصارى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہو گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن اسحاق بن ابي فروة، عن ابن شهاب، عن حميد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " القاتل لا يرث
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مدلج کے ابوقتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دیت کے سو اونٹ لیے: تیس حقے، تیس جذعے، اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، وعبد الله بن سعيد الكندي، قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن يحيى بن سعيد، عن عمرو بن شعيب، ان ابا قتادة، - رجل من بني مدلج - قتل ابنه فاخذ منه عمر ماية من الابل ثلاثين حقة وثلاثين جذعة واربعين خلفة . فقال اين اخو المقتول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليس لقاتل ميراث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پر واجب دیت کو اس کے عصبہ ( باپ کے رشتہ دار ) ادا کریں گے، لیکن اس عورت کی میراث سے انہیں وہی حصہ ملے گا جو ورثاء سے بچ جائے گا، اگر عورت قتل کر دی جائے، تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہو گی، اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، انبانا يزيد بن هارون، انبانا محمد بن راشد، عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعقل المراة عصبتها من كانوا ولا يرثوا منها شييا الا ما فضل عن ورثتها وان قتلت فعقلها بين ورثتها فهم يقتلون قاتلها
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ ( باپ کے رشتہ داروں ) پر ٹھہرائی تو مقتولہ کے عصبہ نے کہا: اس کی میراث کے حقدار ہم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میراث اس کے شوہر اور اس کے لڑکے کو ملے گی ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا المعلى بن اسد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا مجالد، عن الشعبي، عن جابر، قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الدية على عاقلة القاتلة فقالت عاقلة المقتولة يا رسول الله ميراثها لنا . قال " لا ميراثها لزوجها وولدها
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے سامنے کا دانت توڑ ڈالا، تو ربیع کے لوگوں نے معافی مانگی، لیکن لڑکی کی جانب کے لوگ معافی پر راضی نہیں ہوئے، پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی، تو انہوں نے دیت لینے سے بھی انکار کر دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا، تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ، پھر لوگ معافی پر راضی ہو گئے، اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کر دیتا ہے ۔
حدثنا محمد بن المثنى ابو موسى، حدثنا خالد بن الحارث، وابن ابي عدي، عن حميد، عن انس، قال كسرت الربيع عمة انس ثنية جارية فطلبوا العفو فابوا فعرض عليهم الارش فابوا فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فامر بالقصاص . فقال انس بن النضر يا رسول الله تكسر ثنية الربيع والذي بعثك بالحق لا تكسر . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا انس كتاب الله القصاص " . قال فرضي القوم فعفوا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من عباد الله من لو اقسم على الله لابره
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت کے معاملہ میں ) سب دانت برابر ہیں، سامنے کے دانت اور داڑھ برابر ہیں ۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الاسنان سواء الثنية والضرس سواء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی دیت میں پانچ اونٹ کا فیصلہ فرمایا۔
حدثنا اسماعيل بن ابراهيم البالسي، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا ابو حمزة المروزي، حدثنا يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قضى في السن خمسا من الابل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت میں ) یہ اور یہ یعنی چھنگلیا ( سب سے چھوٹی انگلی ) اور انگوٹھا سب برابر ہیں ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، وابن ابي عدي، قالوا حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " هذه وهذه سواء " . يعني الخنصر والابهام
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت میں ) انگلیاں سب برابر ہیں، ہر ایک میں دس دس اونٹ دینے ہوں گے ۱؎۔
حدثنا جميل بن الحسن العتكي، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن مطر، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الاصابع سواء كلهن فيهن عشر عشر من الابل
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دیت کے معاملہ میں ) سب انگلیاں برابر ہیں ۔
حدثنا رجاء بن المرجى السمرقندي، حدثنا النضر بن شميل، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن غالب التمار، عن حميد بن هلال، عن مسروق بن اوس، عن ابي موسى الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الاصابع سواء