Loading...

Loading...
کتب
۸۲ احادیث
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ پھل چرانے سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کا گابھا چرانے سے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، عن رافع بن خديج، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا قطع في ثمر ولا كثر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کا گابھا چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سعد بن سعيد المقبري، عن اخيه، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا قطع في ثمر ولا كثر
صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا، وہ چور کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ نہ تھا، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا ؟ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن عبد الله بن صفوان، عن ابيه، انه نام في المسجد وتوسد رداءه فاخذ من تحت راسه فجاء بسارقه الى النبي صلى الله عليه وسلم فامر به النبي صلى الله عليه وسلم ان يقطع فقال صفوان يا رسول الله لم ارد هذا ردايي عليه صدقة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهلا قبل ان تاتيني به
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں ، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے ( تو کیا ہو گا ) ؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں ( چوری کرنے پر ) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رجلا، من مزينة سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الثمار فقال " ما اخذ في اكمامه فاحتمل فثمنه ومثله معه وما كان في الجران ففيه القطع اذا بلغ ذلك ثمن المجن وان اكل ولم ياخذ فليس عليه " . قال الشاة الحريسة منهن يا رسول الله قال " ثمنها ومثله معه والنكال وما كان في المراح ففيه القطع اذا كان ما ياخذ من ذلك ثمن المجن
ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی ، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو«أستغفر الله وأتوب إليه» میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں ، تو اس نے کہا: «أستغفر الله وأتوب إليه» تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «اللهم تب عليه» اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سعيد بن يحيى، حدثنا حماد بن سلمة، عن اسحاق بن ابي طلحة، سمعت ابا المنذر، - مولى ابي ذر - يذكر ان ابا امية، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بلص فاعترف اعترافا ولم يوجد معه المتاع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اخالك سرقت " . قال بلى . ثم قال " ما اخالك سرقت " . قال بلى . فامر به فقطع . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قل استغفر الله واتوب اليه " . قال استغفر الله واتوب اليه . قال " اللهم تب عليه " . مرتين
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ جبراً بدکاری کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر حد نہیں لگائی بلکہ اس شخص پر حد جاری کی جس نے اس کے ساتھ جبراً بدکاری کی تھی، اس روایت میں اس کا تذکرہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہر بھی دلایا ہو ۱؎۔
حدثنا علي بن ميمون الرقي، وايوب بن محمد الوزان، وعبد الله بن سعيد، قالوا حدثنا معمر بن سليمان، انبانا الحجاج بن ارطاة، عن عبد الجبار بن وايل، عن ابيه، قال استكرهت امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فدرا عنها الحد واقامه على الذي اصابها . ولم يذكر انه جعل لها مهرا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مساجد میں حدود نہ جاری کی جائیں ۱؎۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا علي بن مسهر، ح وحدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا ابو حفص الابار، جميعا عن اسماعيل بن مسلم، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقام الحدود في المساجد
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد میں حد کے نفاذ سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا عبد الله بن لهيعة، عن محمد بن عجلان، انه سمع عمرو بن شعيب، يحدث عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن جلد الحد في المساجد
ابوبردہ بن نیار انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: دس کوڑے سے زیادہ کسی کو نہ لگائے جائیں سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن سليمان بن يسار، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن ابي بردة بن نيار، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " لا يجلد احد فوق عشر جلدات الا في حد من حدود الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تعزیراً دس کوڑوں سے زیادہ کی سزا نہ دو
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا عباد بن كثير، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تعزروا فوق عشرة اسواط
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، وابن ابي عدي، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصاب منكم حدا فعجلت له عقوبته فهو كفارته والا فامره الى الله
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، اور اسے اس کی سزا مل گئی، تو اللہ تعالیٰ اس بات سے زیادہ انصاف پسند ہے کہ بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو دنیا میں کوئی گناہ کرے، اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے، تو اللہ تعالیٰ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، حدثنا حجاج بن محمد، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن ابي جحيفة، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصاب في الدنيا ذنبا فعوقب به فالله اعدل من ان يثني عقوبته على عبده ومن اذنب ذنبا في الدنيا فستره الله عليه فالله اكرم من ان يعود في شىء قد عفا عنه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، ومحمد بن عبيد المديني ابو عبيد، قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان سعد بن عبادة الانصاري، قال يا رسول الله الرجل يجد مع امراته رجلا ايقتله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا " . قال سعد بلى والذي اكرمك بالحق . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسمعوا ما يقول سيدكم
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے، پوچھا گیا: اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے؟ جواب دیا: میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کر کے چلا جائے گا، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں، اور میری گواہی قبول نہ کریں، پھر سعد رضی اللہ عنہ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ( غلط حالت میں ) تلوار سے دونوں کو قتل کر دینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے ، پھر فرمایا: نہیں میں اس کی اجازت نہیں دیتا، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن الفضل بن دلهم، عن الحسن، عن قبيصة بن حريث، عن سلمة بن المحبق، قال قيل لابي ثابت سعد بن عبادة حين نزلت اية الحدود وكان رجلا غيورا ارايت لو انك وجدت مع ام ثابت رجلا اى شىء كنت تصنع قال كنت ضاربهما بالسيف انتظر حتى اجيء باربعة الى ما ذاك قد قضى حاجته وذهب . او اقول رايت كذا وكذا فتضربوني الحد ولا تقبلوا لي شهادة ابدا . قال فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " كفى بالسيف شاهدا " . ثم قال " لا اني اخاف ان يتتايع في ذلك السكران والغيران " . قال ابو عبد الله يعني ابن ماجه سمعت ابا زرعة يقول هذا حديث علي بن محمد الطنافسي وفاتني منه
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا ( راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی ( یعنی اپنی سوتیلی ماں ) سے شادی کر لی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى، حدثنا هشيم، ح وحدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا حفص بن غياث، جميعا عن اشعث، عن عدي بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال مر بي خالي - سماه هشيم في حديثه الحارث بن عمرو - وقد عقد له النبي صلى الله عليه وسلم لواء فقلت له اين تريد فقال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل تزوج امراة ابيه من بعده فامرني ان اضرب عنقه
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الرحمن ابن اخي الحسين الجعفي، حدثنا يوسف بن منازل التيمي، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن خالد بن ابي كريمة، عن معاوية بن قرة، عن ابيه، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل تزوج امراة ابيه ان اضرب عنقه واصفي ماله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا ( کوئی غلام یا لونڈی ) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے ۔
حدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا ابن ابي الضيف، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انتسب الى غير ابيه او تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين
سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان النهدي، قال سمعت سعدا، وابا، بكرة وكل واحد منهما يقول سمعت اذناى، ووعى، قلبي محمدا صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى الى غير ابيه وهو يعلم انه غير ابيه فالجنة عليه حرام
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان، عن عبد الكريم، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادعى الى غير ابيه لم يرح رايحة الجنة وان ريحها ليوجد من مسيرة خمسماية عام
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ کندہ کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا حماد بن سلمة، ح وحدثنا محمد بن يحيى، حدثنا سليمان بن حرب، ح وحدثنا هارون بن حيان، انبانا عبد العزيز بن المغيرة، قالا حدثنا حماد بن سلمة، عن عقيل بن طلحة السلمي، عن مسلم بن هيصم، عن الاشعث بن قيس، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد كندة ولا يروني افضلهم فقلت يا رسول الله الستم منا . فقال " نحن بنو النضر بن كنانة لا نقفو امنا ولا ننتفي من ابينا " . قال فكان الاشعث بن قيس يقول لا اوتى برجل نفى رجلا من قريش من النضر بن كنانة الا جلدته الحد