Loading...

Loading...
کتب
۸۲ احادیث
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو کوڑے لگاؤ، اس کے بعد بھی پئیں تب بھی کوڑے لگاؤ، اس کے بعد پئیں تو انہیں قتل کر دو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا شعيب بن اسحاق، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن عاصم بن بهدلة، عن ذكوان ابي صالح، عن معاوية بن ابي سفيان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شربوا الخمر فاجلدوهم ثم اذا شربوا فاجلدوهم ثم اذا شربوا فاجلدوهم ثم اذا شربوا فاقتلوهم
سعید بن سعد بن عبادہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں ایک ناقص الخلقت ( لولا لنگڑا ) اور ضعیف و ناتواں شخص تھا، اس سے کسی شر کا اندیشہ نہیں تھا، البتہ ( ایک بار ) وہ گھر کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ زنا کر رہا تھا، سعد رضی اللہ عنہ اس کے معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سو کوڑے مارو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے، اگر ہم اسے سو کوڑے ماریں گے تو مر جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا کھجور کا ایک خوشہ لو جس میں سو شاخیں ہوں، اور اس سے ایک بار مار دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عبد الله بن الاشج، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن سعيد بن سعد بن عبادة، قال كان بين ابياتنا رجل مخدج ضعيف فلم يرع الا وهو على امة من اماء الدار يخبث بها فرفع شانه سعد بن عبادة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اجلدوه ضرب ماية سوط " . قالوا يا نبي الله هو اضعف من ذلك لو ضربناه ماية سوط مات . قال " فخذوا له عثكالا فيه ماية شمراخ فاضربوه ضربة واحدة " . حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا المحاربي، عن محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عبد الله، عن ابي امامة بن سهل، عن سعد بن عبادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال وحدثنا المغيرة بن عبد الرحمن، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال وحدثنا انس بن عياض، عن ابي معشر، عن محمد بن كعب، وموسى بن يسار، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حمل علينا السلاح فليس منا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ الْبَرَّادِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے اوپر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا عبد الله بن عامر بن البراد بن يوسف بن بريد بن ابي بردة بن ابي موسى الاشعري، قال حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حمل علينا السلاح فليس منا
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا محمود بن غيلان، وابو كريب ويوسف بن موسى وعبد الله بن البراد قالوا حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شهر علينا السلاح فليس منا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے ریوڑ میں جاؤ، اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو تو صحت مند ہو جاؤ گے ۱؎ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، پھر وہ اسلام سے پھر گئے ( مرتد ہو گئے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا، چنانچہ وہ گرفتار کر کے لائے گئے، تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے، ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائی پھیر دی، ۲؎ اور انہیں حرہ ۳؎ میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، ان اناسا، من عرينة قدموا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجتووا المدينة فقال " لو خرجتم الى ذود لنا فشربتم من البانها وابوالها " . ففعلوا فارتدوا عن الاسلام وقتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستاقوا ذوده فبعث رسول الله في طلبهم فجيء بهم فقطع ايديهم وارجلهم وسمر اعينهم وتركهم بالحرة حتى ماتوا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا ابراهيم بن ابي الوزير، حدثنا الدراوردي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان قوما، اغاروا على لقاح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقطع النبي صلى الله عليه وسلم ايديهم وارجلهم وسمل اعينهم
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے تو وہ شہید ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل دون ماله فهو شهيد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے اس کا مال چھینا جائے اور لڑا جائے پھر وہ بھی لڑے اور قتل ہو جائے، تو وہ شہید ہے ۔
حدثنا الخليل بن عمرو، حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا يزيد بن سنان الجزري، عن ميمون بن مهران، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اتي عند ماله فقوتل فقاتل فقتل فهو شهيد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے، تو وہ شہید ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا عبد العزيز بن المطلب، عن عبد الله بن الحسن، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اريد ماله ظلما فقتل فهو شهيد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو، وہ ایک انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، اور رسی چراتا ہے تو بھی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعن الله السارق يسرق البيضة فتقطع يده ويسرق الحبل فتقطع يده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا، اس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قطع النبي صلى الله عليه وسلم في مجن قيمته ثلاثة دراهم
ام المؤمینین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب ( چرائی گئی چیز کی قیمت ) چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو ۱؎۔
حدثنا ابو مروان العثماني، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، ان عمرة، اخبرته عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقطع اليد الا في ربع دينار فصاعدا
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ڈھال کی قیمت کے برابر میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو هشام المخزومي، حدثنا وهيب، حدثنا ابو واقد، عن عامر بن سعد، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تقطع يد السارق في ثمن المجن
ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے سوال کیا: ہاتھ کاٹ کر گردن میں ٹکانا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا، پھر اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابو بشر بكر بن خلف ومحمد بن بشار وابو سلمة الجوباري يحيى بن خلف قالوا حدثنا عمر بن علي بن عطاء بن مقدم، عن حجاج، عن مكحول، عن ابن محيريز، قال سالت فضالة بن عبيد عن تعليق اليد، في العنق فقال السنة قطع رسول الله صلى الله عليه وسلم يد رجل ثم علقها في عنقه
ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے بنی فلاں کا اونٹ چرایا ہے، لہٰذا مجھے اس جرم سے پاک کر دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے پاس کسی کو بھیجا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا ایک اونٹ غائب ہو گیا ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں دیکھ رہا تھا جب اس کا ہاتھ کٹ کر گرا تو وہ کہہ رہا تھا: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے تجھ سے پاک کیا، تو چاہتا تھا کہ میرے جسم کو جہنم میں داخل کرے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، انبانا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الرحمن بن ثعلبة الانصاري، عن ابيه، ان عمرو بن سمرة بن حبيب بن عبد شمس، جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني سرقت جملا لبني فلان فطهرني . فارسل اليهم النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا انا افتقدنا جملا لنا فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فقطعت يده . قال ثعلبة انا انظر اليه حين وقعت يده وهو يقول الحمد لله الذي طهرني منك اردت ان تدخلي جسدي النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو، خواہ وہ نصف اوقیہ ( بیس درہم ) میں بک سکے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن ابي عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سرق العبد فبيعوه ولو بنش
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بیت المال کے لیے مال غنیمت کے پانچویں حصے میں جو غلام ملے تھے ان میں سے ایک غلام نے خمس ( پانچویں حصہ ) میں سے کچھ چرا لیا، یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا اور فرمایا: ( خمس ) اللہ کا مال ہے، ایک نے دوسرے کو چرایا ۔
حدثنا جبارة بن المغلس، حدثنا حجاج بن تميم، عن ميمون بن مهران، عن ابن عباس، ان عبدا، من رقيق الخمس سرق من الخمس فرفع ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم فلم يقطعه وقال " مال الله عز وجل سرق بعضه بعضا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خائن، لٹیرے اور چھین کر بھاگنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقطع الخاين ولا المنتهب ولا المختلس
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھین کر بھاگنے والے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عاصم بن جعفر المصري، حدثنا المفضل بن فضالة، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليس على المختلس قطع