Loading...

Loading...
کتب
۸۲ احادیث
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ان ( بلوائیوں ) کو جھانک کر دیکھا، اور انہیں اپنے قتل کی باتیں کرتے سنا تو فرمایا: یہ لوگ مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، آخر یہ میرا قتل کیوں کریں گے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کسی مسلمان کا قتل تین باتوں میں سے کسی ایک کے بغیر حلال نہیں: ایک ایسا شخص جو شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کرے، تو اسے رجم کیا جائے گا، دوسرا وہ شخص جو کسی مسلمان کو ناحق قتل کر دے، تیسرا وہ شخص جو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے پھر جائے ( مرتد ہو جائے ) ، اللہ کی قسم میں نے نہ کبھی جاہلیت میں زنا کیا، اور نہ اسلام میں، نہ میں نے کسی مسلمان کو قتل کیا، اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد ارتداد کا شکار ہوا ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، ان عثمان بن عفان، اشرف عليهم فسمعهم وهم، يذكرون القتل فقال انهم ليتواعدوني بالقتل فلم يقتلوني وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل دم امري مسلم الا في احدى ثلاث رجل زنى وهو محصن فرجم او رجل قتل نفسا بغير نفس او رجل ارتد بعد اسلامه " . فوالله ما زنيت في جاهلية ولا في اسلام ولا قتلت نفسا مسلمة ولا ارتددت منذ اسلمت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین ( اسلام ) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو ( یعنی مرتد ہو گیا ہو ) ، ( تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے ) ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، وابو بكر بن خلاد الباهلي قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل دم امري مسلم يشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله الا احد ثلاثة نفر النفس بالنفس والثيب الزاني والتارك لدينه المفارق للجماعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے دین ( اسلام ) کو بدل ڈالے اسے قتل کر دو ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (من بدل دينه فاقتلوه)
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله من مشرك اشرك بعد ما اسلم عملا حتى يفارق المشركين الى المسلمين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن سنان، عن ابي الزاهرية، عن ابي شجرة، كثير بن مرة عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقامة حد من حدود الله خير من مطر اربعين ليلة في بلاد الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو ۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا عبد الله بن المبارك، انبانا عيسى بن يزيد، اظنه عن جرير بن يزيد، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حد يعمل به في الارض خير لاهل الارض من ان يمطروا اربعين صباحا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی ۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا حفص بن عمر، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جحد اية من القران فقد حل ضرب عنقه ومن قال لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله فلا سبيل لاحد عليه الا ان يصيب حدا فيقام عليه
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، خواہ کوئی قریبی ہو یا دور کا، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو ۔
حدثنا عبد الله بن سالم المفلوج، حدثنا عبيدة بن الاسود، عن القاسم بن الوليد، عن ابي صادق، عن ربيعة بن ناجد، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقيموا حدود الله في القريب والبعيد ولا تاخذكم في الله لومة لايم
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن ( جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کر دیئے گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے ( نابالغ سمجھ کر ) چھوڑ دیا گیا، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الملك بن عمير، قال سمعت عطية القرظي، يقول عرضنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة فكان من انبت قتل ومن لم ينبت خلي سبيله فكنت فيمن لم ينبت فخلي سبيلي
عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کو یہ بھی کہتے سنا: تو اب میں تمہارے درمیان ہوں۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، قال سمعت عطية القرظي، يقول فها انا ذا، بين اظهركم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( غزوہ میں شریک ہونے کی ) اجازت نہیں دی، لیکن جب مجھے آپ کے سامنے غزوہ خندق کے دن پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نافع کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے عمر بن عبدالعزیز سے ان کے عہد خلافت میں بیان کی تو انہوں نے کہا: یہی نابالغ اور بالغ کی حد ہے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو معاوية وابو اسامة قالوا حدثنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال عرضت على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد وانا ابن اربع عشرة سنة فلم يجزني وعرضت عليه يوم الخندق وانا ابن خمس عشرة سنة فاجازني . قال نافع فحدثت به عمر بن عبد العزيز في خلافته فقال هذا فصل ما بين الصغير والكبير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ستر مسلما ستره الله في الدنيا والاخرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم حدود کو دفع کرو، جہاں تک دفع کرنے کی گنجائش پاؤ ۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا وكيع، عن ابراهيم بن الفضل، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادفعوا الحدود ما وجدتم له مدفعا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اور جو اپنے مسلمان بھائی کا کوئی عیب فاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کا عیب فاش کرے گا، یہاں تک کہ وہ اسے اس کے گھر میں بھی ذلیل کرے گا ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، انبانا محمد بن عثمان الجمحي، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ستر عورة اخيه المسلم ستر الله عورته يوم القيامة ومن كشف عورة اخيه المسلم كشف الله عورته حتى يفضحه بها في بيته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، قریش کافی فکرمند ہوئے اور کہا: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بناء پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ محمد بن رمح ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ میں نے لیث بن سعد کو کہتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چوری کرنے سے محفوظ رکھا اور ہر مسلمان کو ایسا ہی کہنا چاہیئے۔
حدثنا محمد بن رمح المصري، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان قريشا، اهمهم شان المراة المخزومية التي سرقت فقالوا من يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا ومن يجتري عليه الا اسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمه اسامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتشفع في حد من حدود الله " . ثم قام فاختطب فقال " يا ايها الناس انما هلك الذين من قبلكم انهم كانوا اذا سرق فيهم الشريف تركوه واذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد وايم الله لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها " . قال محمد بن رمح سمعت الليث بن سعد يقول قد اعاذها الله عز وجل ان تسرق قد اعاذها الله عز وجل ان تسرق وكل مسلم ينبغي له ان يقول هذا
مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اس عورت ( فاطمہ بنت اسود ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے چادر چرائی تو ہمیں اس کی بڑی فکر ہوئی، وہ قریشی عورت تھی، چنانچہ ہم گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا: ہم اس کے فدیہ میں چالیس اوقیہ ادا کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا پاک کر دیا جانا اس کے حق میں بہتر ہے ، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم گفتگو سنی تو ( امیدیں لگائے ) اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے سلسلے میں ) گفتگو کرو، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا ( کہ اسامہ سفارش کر رہے ہیں ) تو کھڑے ہو کر خطبہ دیا، اور فرمایا: کیا بات ہے تم باربار مجھ سے اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ جو اللہ کی ایک باندی پر ثابت ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر یہ چیز اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ پیش آتی، جو اس کے ساتھ پیش آئی ہے تو محمد اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن طلحة بن ركانة، عن امه، عايشة بنت مسعود بن الاسود عن ابيها، قال لما سرقت المراة تلك القطيفة من بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اعظمنا ذلك وكانت امراة من قريش فجينا الى النبي صلى الله عليه وسلم نكلمه وقلنا نحن نفديها باربعين اوقية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تطهر خير لها " . فلما سمعنا لين قول رسول الله صلى الله عليه وسلم اتينا اسامة فقلنا كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم . فلما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك قام خطيبا فقال " ما اكثاركم على في حد من حدود الله عز وجل وقع على امة من اماء الله والذي نفس محمد بيده لو كانت فاطمة ابنة رسول الله نزلت بالذي نزلت به لقطع محمد يدها
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور بولا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، اللہ کی کتاب کے مطابق آپ ہمارا فیصلہ کر دیجئیے، اس کا فریق ( مقابل ) جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، بولا: آپ ہمارا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق فرمائیے لیکن مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو اس نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا، میں نے اس کی جانب سے سو بکریاں اور ایک نوکر فدیہ میں دے دیا ہے، پھر میں نے اہل علم میں سے کچھ لوگوں سے پوچھا، تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے بیٹے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اس کی بیوی کے لیے رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تم واپس لے لو، اور تمہارے بیٹے کے لیے سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور اے انیس! کل صبح تم اس کی عورت کے پاس جاؤ اور اگر وہ اقبال جرم کر لے تو اسے رجم کر دو ۱؎۔ حدیث کے راوی ہشام کہتے ہیں: انیس صبح کو اس کے ہاں پہنچے، اس نے اقبال جرم کیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، ومحمد بن الصباح، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، وشبل، قالوا كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتاه رجل فقال انشدك الله الا قضيت بيننا بكتاب الله . فقال خصمه وكان افقه منه اقض بيننا بكتاب الله وايذن لي حتى اقول . قال " قل " . قال ان ابني كان عسيفا على هذا وانه زنى بامراته فافتديت منه بماية شاة وخادم فسالت رجلا من اهل العلم فاخبرت ان على ابني جلد ماية وتغريب عام وان على امراة هذا الرجم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله الماية الشاة والخادم رد عليك وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام واغد يا انيس على امراة هذا فان اعترفت فارجمها " . قال هشام فغدا عليها فاعترفت فرجمها
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دین کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ( جنہیں زنا کے جرم میں گھروں میں قید رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اللہ کے حکم کا انتظار کرنے کے لیے کہا گیا تھا ) راہ نکال دی ہے: کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن يونس بن جبير، عن حطان بن عبد الله، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذوا عني خذوا عني قد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر جلد ماية وتغريب سنة والثيب بالثيب جلد ماية والرجم
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی، تو نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، پھر کہا: اگر اس کی عورت نے اسے اس لونڈی کے ساتھ صحبت کرنے کی اجازت دی ہے تو میں اس شخص کو سو کوڑے لگاؤں گا، اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو میں اسے رجم کروں گا ۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، انبانا سعيد، عن قتادة، عن حبيب بن سالم، قال اتي النعمان بن بشير برجل غشى جارية امراته فقال لا اقضي فيها الا بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ان كانت احلتها له جلدته ماية وان لم تكن اذنت له رجمته
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا اس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد نافذ نہیں کی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن هشام بن حسان، عن الحسن، عن سلمة بن المحبق، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع اليه رجل وطي جارية امراته فلم يحده